تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 11 از 14
یہ وہ کتابیں ہیں جن میں ایسی روایات جمع کی جاتی ہیں کہ ان میں مصنف سے لے کر رسول اللہﷺ تک صرف تین واسطے ہوتے ہیں۔ امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں بائیس ثلاثی روایات ذکر کی ہیں۔ ان میں گیارہ روایات مکی بن ابراہیمؒ سے منقول ہیں، جو امام اعظم ابوحنیفہؒ کے خاص شاگرد ہیں، چھ روایات ابو عاصم النبیل ضحاک بن مخلدؒ سے مروی ہیں۔ یہ بھی امام اعظمؒ کے شاگرد ہیں، تین روایتیں محمد بن عبداللہ انصاریؒ سے منقول ہیں۔ یہ امام ابو یوسفؒ اور امام زفرؒ کے شاگرد ہیں۔ اس طرح بائیس میں سے بیس ثلاثی روایات وہ ہیں جو حنفی مشائخ سے لی گئی ہیں۔ باقی دو روایتوں میں سے ایک روایت خلاد بن یحییٰ کوفیؒ کی ہے اور ایک عصام بن خالد حمصی کی ہے۔ ان کے متعلق یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ حنفی ہیں یا نہیں۔ یہ بائیس روایات سند کے لحاظ سے بائیس ہیں۔
(مقدمہ لامع الدراری: جلد 1، صفحہ 63، 64، 102، 187 
نیز دیکھیے تذکرۃ الحفاظ: جلد 1، صفحہ 365، 366 
سیر اعلام النبلاء: جلد 9، صفحہ 481
الجواهر المضيۃ: جلد 1، صفحہ 263
هدى الساری: صفحہ 479 
تہذیب الکمال: جلد 25، صفحہ 539 
تاریخ بغداد: جلد 5 صفحہ 408، 412)
لیکن بلحاظ متن سترہ ہیں۔
امام بخاریؒ کی ثلاثیات پر بڑا فخر کیا جاتا ہے اور واقعۃً بات بھی فخر کی ہے، کیونکہ ثلاثیات کی سند عالی ہوتی ہے اور سند عالی باعثِ افتخار ہے۔ یحییٰ بن معینؒ سے ان کی وفات کے وقت کسی نے سوال کیا تھا. مانشتهی؟ تو فرمایا: بيت خال وإسناد عال
(مقدمہ ابن الصلاح: صفحہ 130)
امام احمد بن حنبلؒ کا ارشاد ہے کہ متقدمین کا طریقہ سندِ عالی کی جستجو اور تلاش کرنا تھا۔ 
(مقدمہ ابن الصلاح: صفحہ 130)
لیکن امام ابو حنیفہؒ جن کی زیادہ تر روایات ثلاثی ہیں اور بکثرت ثنائی ہیں جیسا کہ مسانیدِ امام اعظم اور کتاب الآثار سے ظاہر ہے اور امام اعظمؒ رؤیۃً تابعی بھی ہیں اس لیے کہ حضرت انس بن مالکؓ کی انھوں نے زیارت کی ہے بلکہ روایۃً بھی ان کو تابعیؒ کہا گیا ہے، اگرچہ اس میں اختلاف ہے۔ 
(مقدمہ لامع الدراری: جلد 1، صفحہ 103 
رؤیہ تابعیت کے ثبوت کے لیے دیکھیے سیر اعلام النبلاء: جلد 6، صفحہ 391
تہذیب التہذیب: جلد 10، صفحہ 449 
تہذیب الکمال: جلد 29، صفحہ 418
تذكرة الحفاظ: جلد 1، صفحہ 168
تاریخ بغداد: جلد 13، صفحہ 323)
اس کے باوجود امام بخاریؒ کے مقابلے میں امام ابوحنیفہؒ کی ثنائی اور ثلاثی روایت کو صحیح اہمیت نہیں دی جاتی جو شکایت کی بات ہے۔
فصلِ اول
تراجمِ بخاری
صحیح بخاری کی خصوصیات کے ضمن میں ابواب و تراجم کی بحث بڑی اہمیت کی حامل ہے، بخاری کے تراجم تمام کتبِ حدیث کے تراجم کے مقابلہ میں بہت مشکل ہیں، اس لیے
" فقه البخاری فی تراجمه" کا مقولہ اس سلسلے میں مشہور ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ امام بخاریؒ کی دقتِ نظر اور شانِ تفقہ کا اندازہ ان کے تراجم سے کیا جا سکتا ہے، دوسرا مطلب یہ بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ نے اپنا فقہی نقطہ نظر تراجم میں پیش کیا ہے۔
امام بخاریؒ کا ترجمہ منعقد کرنے میں اپنا مخصوص انداز ہے اور وہ مختلف طریقوں سے ترجمہ قائم کرتے ہیں۔
1: بعض اوقات حدیثِ رسول اللہﷺ کو ترجمہ بناتے ہیں اور اس کی حدیثِ نبوی ہونے کی صراحت بھی کرتے ہیں جیسے کتاب الایمان کا پہلا ترجمہ ہے، باب قول النبی صلى الله عليه وسلم: بُنِى الإسلام علىٰ خمس۔ اسی طرح کتاب الایمان میں ایک اور ترجمہ ہے، باب قول النبی صلى الله عليه وسلم: الدين النصيحة۔ اسی طرح کتاب العلم میں ترجمہ ہے، باب قول النبی صلى الله عليه وسلم: رب مبلغ أوعى من سامع۔
2: کبھی امام بخاریؒ حدیثِ نبوی کو ترجمہ بناتے ہیں لیکن اس کے حدیث ہونے کا ذکر نہیں کرتے جیسے باب من يرد الله خيراً يفقهه فی الدين۔ ترجمہ حدیث کا ہے لیکن اس کے حدیث ہونے کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا۔
3: کبھی کبھی امام بخاریؒ حدیثِ رسولﷺ کو ترجمہ بناتے ہیں لیکن اس میں تھوڑا سا تصرف اور تبدیلی کر دیتے ہیں اور اس کا مقصد حدیث کی تشریح ہوتا ہے، جیسے باب ما كان النبی صلى الله عليه وسلم يتخوّلهم بالموعظة والعلم كی لاينفروا۔ حدیث میں "كراهة السامة" آیا ہے، امام بخاریؒ نے ترجمہ میں "سامة" کی تفسیر "نفرۃ" سے کر دی ہے۔
4: کبھی امام بخاریؒ ایسی حدیث کو ترجمہ بناتے ہیں جو ان کی شرط کے مطابق نہیں ہوتی، پھر اپنی روایات سے اس کو مؤید فرماتے ہیں جیسے ابواب الوضوء میں "باب ماجاء لا تقبل الصلاة بغير طهور" اور ابواب الزكوٰة میں "باب ماجاء تقبل الصدقة من غلول" ہیں یہ ایک ہی روایت کے دو جزء ہیں، مسلم اور ترمذی نے اس کی تخریج کی ہے، امام بخاریؒ نے ایک جزء پر کتاب الوضوء میں اور دوسرے جزء پر کتاب الزکوٰۃ میں ترجمہ قائم کیا ہے۔
اسی طرح کتاب الصلوٰۃ میں "باب إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة" کا ترجمہ قائم کیا ہے اور یہ مسلم کی روایت پر قائم کیا گیا ہے۔
ایسا ہی ایک ترجمہ ہے " باب الاثنان فما فوقهما جماعة" يه ترجمہ ابنِ ماجه کی روایت پر قائم کیا گیا ہے۔ 
(تفصیل کے لیے دیکھیے مقدمہ لامع: صفحہ 303، 304 
کشف الباری: جلد 1 صفحہ 169، مقدمۃ الكتاب)
باب بلا ترجمہ
امام بخاری رحمۃاللہ کئی جگہ باب بلا ترجمہ لاتے ہیں صرف "باب" ہوتا ہے ترجمہ نہیں ہوتا اور اس کے ذیل میں مسند روایت پیش کرتے ہیں، اس سلسلہ میں حضرات شراح نے مختلف توجیہات کی ہیں۔
1: امام بخاریؒ کو سہو ہو گیا اس وجہ سے امام بخاری رحمۃاللہ ترجمہ قائم نہ کر سکے۔
2: مصنف کو سہو نہیں ہوا بلکہ کاتب کو سہو ہو گیا ہے یعنی مصنف کا قائم کیا ہوا ترجمہ کاتب سے سہواً چھوٹ گیا ہے۔
3: بعض حضرات کہتے ہیں کہ راوی کا تصرف ہے۔ 
(دیکھیے فتح الباری: جلد 2، صفحہ 561
باب بلا ترجمہ بعد باب کنیۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم)
حافظ ابنِ حجرؒ نے بعض مقامات میں یہ کہا ہے کہ مصنفؒ نے قصداً بیاض چھوڑی تھی، ترجمہ قائم کرنے کا ارادہ تھا لیکن بعد میں موقعہ نہیں ملا۔ 
صفحہ 11 از 14