تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 10 از 14
امام حاکمؒ نے فرمایا ہے کہ صحیح متفق علیہ کی پہلی قسم وہ ہے جس کو امام بخاری و مسلم نے اختیار کیا ہے اور وہی اول درجہ کی صحیح ہے، یعنی وہ حدیث جس کو ایسا صحابی بیان کرے جو رسول اللہﷺ سے روایت کرنے میں مشہور ہو، اس صحابی سے اس حدیث کے دو ثقہ راوی ہوں، پھر اس حدیث کو وہ تابعی بیان کرے جو صحابہؓ سے روایت کرنے میں مشہور ہو اور اس کے بھی دو ثقہ راوی ہوں، پھر تبع تابعینؒ میں سے حافظ متقن مشہور اسے روایت کرے اور چوتھے طبقہ میں اس حدیث کے دو سے زیادہ راوی ہوں، پھر بخاری یا مسلم کا شیخ حافظ و متقن ہو اور اپنی روایت میں عادل ہونے کی شہرت رکھتا ہو۔ 
(دیکھیے معرفة علوم الحدیث للحاکم: صفحہ 62 
ذکر النوع التاسع عشر من علوم الحديث وهو معرفة الصحیح والسقيم والمدخل فی أصول الحديث: صفحہ 9)
اس لحاظ سے حاکم کے نزدیک حدیث صحیح کے لیے تین باتوں کا پایا جانا ضروری ہے، جو بقول ان کے شیخین کی شرط میں سے ہے۔
1: صحابیؓ اور تابعیؒ سے اس حدیث کے دو ثقہ راوی ہوں اور طبقہ رابعہ میں اس کے دو سے زائد راوی ہوں، گویا کہ ہر طبقہ میں دو راوی ہونے ضروری ہیں۔
2: امام بخاری و مسلم کے شیخ سے لے کر صحابیؓ تک ہر ایک راوی ثقہ اور روایتِ حدیث میں مشہور ہو۔
3: شیوخِ شیخین اور اتباعِ تابعین میں سے جو بھی اس حدیث کو روایت کرے وہ ثقہ اور مشہور ہونے کے ساتھ ساتھ حافظ اور متقن بھی ہو۔
یہاں ہم ان شروط کو ذکر کرتے ہیں جو امام بخاریؒ نے خاص طور پر اپنی صحیح میں ملحوظ رکھی ہیں:
1: سند متصل ہو، راوی مسلمان، صادق، غیر مدلس اور غیر مختلط ہو، عدالت کی صفات سے متصف ہو، ضابط ہو، سلیم الذہن اور قلیل الوھم ہو اور عقیدہ اس کا درست ہو۔ 
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 9، 
وشروط الائمة الخمسة للحازمی: صفحہ 78، 79)
2: راوی کی مروی عنہ سے کم از کم ایک دفعہ ملاقات ثابت ہو۔ 
(مقدمہ فتح الملہم: صفحہ 271
نیز دیکھیے انکت علی کتاب ابن اصلاح: جلد 1، صفحہ 289
النوع الاول: الصحیح)
3: رواۃ ایسے ہوں جو اہلِ حفظ و اتقان میں سے ہوں اور اپنے اساتذہ کی طویل صحبت پائی ہو، کبھی ان رواۃ سے بھی حدیث لے لیتے ہیں جو طویل الملازمہ نہیں ہوتے، لیکن یہ عمومی شرط ہے۔
(دیکھیے شروط الأئمة الخمسة للحازمی: صفحہ 79، 80
وهدى الساری: صفحہ 9
مقدمہ لامع الدراری: صفحہ 89)
4: امام بخاریؒ اپنی صحیح میں کسی مدلس کی روایت اس وقت تک ذکر نہیں کرتے جب تک وہ تحدیث کی صراحت نہیں کرتا خواہ اس حدیث میں یا کسی اور سند میں۔ 
(دیکھیے ھدی الساری: صفحہ 449)
5: امام بخاریؒ اگر کسی ایسے شخص کی روایت تخریج کرتے ہیں جس پر کلام ہو تو اس کی وہ روایت نہیں لیتے جس پر نکیر کی گئی ہو۔ 
(فتح الباری: جلد 1، صفحہ 189
6: اگر راوی میں کسی قسم کا قصور ہو، اور پھر وہ روایت دوسرے طریق سے بھی مروی ہو جس سے قصور کی تلافی ہو جاتی ہو تو ایسی حدیث بھی امام بخاریؒ کی شرط کے تحت داخل ہو جاتی ہے۔ 
(فتح الباری: جلد 9 صفحہ 635،   
وکشف الباری: صفحہ 161، 166) 
یه چند شروط ہیں، کچھ مزید شروط بھی ہیں جو فتح الباری اور ھدی الساری وغیرہ کے تتبع سے نکل سکتی ہیں۔
خصائصِ صحیح بخاری
امام بخاریؒ کی کتاب میں سب سے اہم خصوصیت تراجم ہیں، ایسے تراجم نہ ان سے پہلے کسی نے قائم کیے اور نہ ان کے بعد کسی نے قائم کیے۔ ان کے بعض تراجم آج تک معرکۃ الآراء بنے ہوئے ہیں اور ان کی صحیح مراد آج تک متعین نہیں کی جاسکی، ہر شخص اپنی معلومات اور قرائن کی مدد سے تعیین مراد کی کوشش کرتا ہے۔ تراجم پر ان شاء اللہ مستقل کلام آگے آئے گا۔
دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اثباتِ احکام کے لیے تراجم میں امام بخاریؒ اکثر آیاتِ قرآنیہ کو ذکر کرتے ہیں۔
(مقدمہ لامع: صفحہ 102)
تیسری خصوصیت یہ ہے کہ صحابہؓ و تابعینؒ کے آثار سے مسائل مختلف فیہا کی وضاحت کرتے ہیں اور جب مختلف آثار ذکر کرتے ہیں تو جو اثر ان کے نزدیک راجح ہوتا ہے اس کو پہلے بیان کرتے ہیں۔
چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ امام بخاریؒ نے پوری "الجامع الصحیح" میں کوئی ایسی روایت ذکر نہیں کی جس کو انھوں نے اپنے استاذ سے علی سبیل المکاتبہ لیا ہو، البتہ کتاب الایمان والنذور میں ایک روایت ایسی لائے ہیں جس میں "کتب إلى محمد بن بشار" فرمایا ہے
(دیکھیے صحیح بخاری: جلد 2 صفحہ 987
کتاب الایمان والنذور
باب إذا حث ناسيا في الأيمان، رقم 6673)
سند کے درمیان مکاتبت کا آ جانا دوسری بات ہے اور وہ امام بخاریؒ کا فعل نہیں ہے بلکہ دوسرے راویوں کا عمل ہے۔ 
(دیکھیے تدریب الراوی: جلد 2، صفحہ 56
النوع الرابع والعشرون: كيفية سماع الحديث وتحمله، القسم الخامس: الكتابة)
پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ امام بخاریؒ بدء الحکم کا ذکر بھی کیا کرتے ہیں جیسے بدءالوحی بدءالحیض، بدءالاذان اور بدءالخلق کا ذکر فرما کر حکم کی ابتداء کی طرف اشارہ کیا ہے۔ 
(مقدمہ لامع: صفحہ 108)
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریاؒ فرماتے ہیں کہ امام بخاریؒ بعض اوقات بغیر تصریح کے اشارۃً بھی حکم کی ابتداء کو بیان کرتے ہیں۔ 
(حوالہ بالا)
چھٹی خصوصیت یہ ہے کہ وہ براعت اختتام کی طرف اشارہ کرتے ہیں، حافظ ابنِ حجرؒ کی رائے یہ ہے کہ ہر کتاب کے آخر میں جب امام بخاریؒ خاتمہ پر دلالت کرنے والا لفظ لاتے ہیں تو اس کتاب کے اختتام کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔
(فتح الباری: جلد 13، صفحہ 543 
شرح الحدیث الاخیر)
حضرت شیخ الحدیثؒ کی رائے یہ ہے کہ امام بخاریؒ انسانی زندگی کے ختم ہونے کو یاد دلاتے ہیں۔
(مقدمہ لامع: صفحہ 113)
ساتویں خصوصیت یہ ہے کہ امام بخاریؒ فترت کے بعد تالیف بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ سے شروع کرتے ہیں۔
(مقدمہ لامع: صفحہ 96
ولامع الدراری: جلد 2 صفحہ 360)
لیکن یہ نقطہ نظر ضعیف ہے، کیونکہ بعض اوقات کوئی خاص کتاب شروع کرتے وقت اس کتاب کے مستقل ہونے کا لحاظ کرتے ہوئے بھی تسمیہ کو لاتے ہیں۔
آٹھویں خصوصیت صحیح بخاری کی ثلاثیات ہیں، امام بخاریؒ نے بائیس ثلاثیات اپنی کتاب میں درج کی ہیں۔
ثلاثیات
صفحہ 10 از 14