تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

تعارف امام بخاری رحمۃ اللہ

  شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم اللہ خان صاحب

صفحہ 1 از 14
نام و نسب
محمد بن اسمٰعیل بن ابراہیم بن المغیرہ بن بروز بہ (قولہ ”بردز بہ“ بفتح الباء الموحدة، وسكون الراء المهمله، وكسر الدال المهمله، وسكون الزای المعجمة، وفتح الباء الموحدة، بعدها هاء، هدی الساری، صفحہ نمبر 477) 
بن بزذ بہ الجعفی البخاری عام طور پر تاریخ کی کتابوں میں امام صاحب کا نسب بردز بہ تک مذکور ہے، البتہ علامہ تاج الدین سبکی رحمةاللہ نے ”طبقات کبریٰ“ میں بذذبہ کا اِضافہ فرمایا ہے۔
(قولہ بذذ بہ، بباء موحدة، ثم ذال معجمة مكسورة، ثم ذال ثانية معجمة ساكنة، ثم باء موحدة مكسورة، ثم هاء، دیکھیے طبقات الشافعیۃ الکبریٰ: جلد 2، صفحہ 2) 
بذذبہ اور بردزبہ کے احوال سے تاریخ خاموش ہے، حافظ ابنِ حجر رحمۃاللہ فرماتے ہیں کہ ”بردز بہ“ فارسی کا لفظ ہے اور اہلِ بخارا یہ لفظ کاشتکار کے لیے استعمال کرتے ہیں، بردز بہ فارسی تھا اور اپنی قوم کے دین پر تھا، گویا یہ آتش پرست تھا۔(ھدی الساری صفحہ نمبر 477)
امام بخاریؒ کے پردادا مغیرہ بخارا کے حاکم یمان بن اخنس جعفی کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ (حوالہ بالا)
یمان عربی النسل تھے، قبیلہ جعفی سے ان کا تعلق تھا اور جعفی بن سعد العشیرة قبیلہ مذحج کی شاخ ہے۔ 
( عمدة القارى: جلد 1، صفحہ 124، کتاب الایمان، باب امور الایمان) 
یمان بن اخنس، عبداللہ محمد مُسنَدی استاذِ بخاری کے دادا کے دادا ہیں
(چنانچہ ان کا نسب نامہ ہے: عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن جعفر بن الیمان بن اخنس بن خنیس الجعفی البخاری۔
(عمدة القاری: جلد نمبر 1، صفحہ نمبر 123، کتاب الایمان، باب امور الایمان)
دستور کے مطابق ولاء اسلام کے پیشِ نظر مغیرہ فارس کو جعفی کہا جانے لگا کیونکہ وہ یمانِ جعفی کے ہاتھ پر اسلام لائے تھے، امام بخاری رحمۃاللہ کو بھی اس لیے جعفی کہا جاتا ہے امام بخاریؒ کے دادا ابراہیم کے حالات سے بھی تاریخ خاموش ہے چنانچہ حافظ ابنِ حجرؒ فرماتے ہیں: "واما ولده ابراهيم بن المغيره فلم نقف على شیٔ من اخباره
(ھدی الساری: صفحہ 477)
امام بخاریؒ کے والد ابو الحسن اسمٰعیل بن ابراہیم علمائے محدثین میں سے ہیں، ابنِ حبان رحمۃاللہ نے کتاب الثقات میں ان کا ذکر کیا ہے۔ (الثقات لابن حبان: جلد 8، صفحہ 98) 
یہ حماد بن زید اور امام مالک رحمہمااللہ سے روایت کرتے ہیں اور ان سے عراق کے حضرات نے روایتِ حدیث کی ہے۔
(ھدی الساری: صفحہ نمبر 477) 
حضرت عبداللہ بن مبارکؒ سے انہوں نے ملاقات کی ہے، امام بخاریؒ فرماتے ہیں: "صافَح ابن المبارک بکلتا یدیہ
(تاریخِ کبیر بخاری: جلد 1، صفحہ 343، رقم 1084) 
علامہ ذھبیؒ فرماتے ہیں: کان ابو البخاری من العلماء الورعین 
(مقدمہ شرح قسطلانی: جلد 1، صفحہ 31) 
تقویٰ کا یہ عالم تھا کہ انتقال کے وقت کثیر مال ترکہ میں چھوڑا، لیکن فرماتے تھے کہ اسمیں ایک درہم بھی حرام یا مشتبہ نہیں 
(ھدی الساری: صفحہ 477 ومقدمہ شرح قسطلانی: جلد 1، صفحہ 31) 
یہی حلال طیب مال امام بخاریؒ کی پرورش میں استعمال ہوا۔
ولادت و وفات
بعض حضرات کا خیال ہے کہ امام بخاری رحمۃاللہ کی ولادت 12 شوال 194ھ کو ہوئی، جبکہ راجح قول کے مطابق آپ کی ولادت 13 شوال 194ھ بعد نمازِ جمعہ ہوئی۔ 
(قال الحافظؒ فی ”ھد الساری“ صفحه 477
قال المستنیر بن عتیق: ”اخرج لی ذلك محمد بن اسماعيل بخط ابيه، وجاء ذلك عنه من طرق
12 شوال کا قول ابویعلیٰ خلیلی نے ”الارشاد“ میں نقل کیا ہے۔
مقدمہ لامع الدراری: صفحہ 28) 
اللہ تعالیٰ نے شوال کا مہینہ عطا فرمایا جو اشہرِ حج میں پہلا مہینہ اور رمضان المبارک و ذوالقعدہ شہرِ حرام کے درمیان واقع ہے، پھر جمعہ کا دن ولادت کے لیے مقرر فرمایا جو سید الایام ہے۔ 
وفات 256ھ میں ہفتہ کی رات میں ہوئی جو عیدالفطر کی شب تھی، اس طرح کل عمر 13 دن کم 62 سال ہوئی، عید الفطر کے دن یکم شوال 256ھ بعد نمازِ ظہر مقام خرتنگ میں مدفون ہوئے، کسی نے مختصر طور پر ولادت و وفات اور عمر کا یوں ذکر کیا ہے: كان البخارى حافظا و محدثا   جمع الصحيح مكمل التحرير ميلاده صدق 194 ومدة عمره فيها 62 حميد  وانقضی 256 فی نور 
(مقدمہ صحیح بخاری از حضرت مولانا احمد علی سہارنپوریؒ، صفحہ 3)
مختصر حالات اور تعلیم
امام بخاری رحمۃاللہ کا ابھی بچپن ہی تھا کہ ان کے والد اسماعیل بن ابراہیم کا انتقال ہو گیا اور تربیت کی ساری ذمہ داری والدہ ماجدہ پر آ گئی، ادھر اسی بچپن کے زمانہ میں امام بخاریؒ کی بینائی زائل ہو گئی جس سے والدہ کو بہت صدمہ ہوا، وہ بڑی عبادت گزار اور خدا رسیدہ خاتون تھیں، الحاح و زاری کے ساتھ انہوں نے دعائیں کیں، ایک مرتبہ رات کو خواب میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زیارت ہوئی تو انہوں نے بشارت سنائی کہ تمہاری دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے تمہارے بیٹے کی بینائی لوٹا دی ہے۔ (ھدی الساری: صفحہ 478)
علامہ تاج الدین سبکی رحمۃ اللہ نے لکھا ہے کہ گرمی اور دھوپ میں طلبِ علم کے لیے سفر سے پھر دوبارہ بینائی جاتی رہی، خراسان پہنچے، کسی نے سر کے بال صاف کرانے اور گلِ ختمی کے ضماد کا مشورہ دیا، اس سے بینائی پھر واپس لوٹ آئی۔
(طبقات الشافعیۃ الکبریٰ: جلد 2، صفحہ 4)
ایک دن امام داخلی رحمۃاللہ نے ایک سند بیان کی "سفیان عن ابی الزبیر عن ابراہیم" امام بخاریؒ نے جو ایک گوشہ میں بیٹھے ہوئے تھے عرض کیا "ابو الزبیر لم یرو ابراہیم" استاد نے طفل نو آموز سمجھ کر توجہ نہیں دی بلکہ جھڑک دیا تو امام بخاریؒ نے سنجیدگی سے عرض کیا کہ آپ کے پاس اصل ہو تو مراجعت فرما لیں، بات معقول تھی، محدث داخلیؒ اندر گھر میں گئے اور اصل کو ملاحظہ فرمایا تو امام بخاریؒ کی بات درست نکلی، واپس آئے تو پوچھا: لڑکے! اصل سند کیا ہے؟ امام بخاری رحمۃاللہ نے فرمایا "ھو الزبیر و ھو ابن عدی عن ابراہیم" محدث داخلی رحمۃاللہ نے قلم لے کر اصلاح کرتے ہوئے فرمایا "صدقت" کسی نے پوچھا کہ اس وقت آپ کی عمر کیا تھی ؟ فرمایا 11 برس۔ (حوالہ بالا)
علامہ بیکندی رحمۃاللہ فرماتے تھے کہ محمد بن اسماعیل جب درس میں آ جاتے ہیں تو مجھ پر تحیر کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور میں حدیث بیان کرتے ہوئے ڈرتا۔ (ھدی الساری: صفحہ 483)
بے مثال حافظہ
صفحہ 1 از 14