سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کروانا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 7 از 7

'حدثنا محمد بن موسى الشامی حدثنا يزيد بن مهران الخباز ثنا ابوبكر بن عياش عن الاجلح عن حبيب بن ابی ثابت عن عبد الرحمن بن البيلمانی قال۔

متن: عبدالرحمٰن بن بیلمانی کہتا ہے کہ ہم سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس تھے ایک شخص کھڑا ہوا اور سیدنا علیؓ کو برا کہنے لگا تو سیدنا سعید بن زیدؓ کھڑے ہوئے اور کہا اے سیدنا معاویہؓ کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ تمہارے پاس سیدنا علیؓ کو برا کہا جا رہا ہے اور تم اسے کچھ نہیں کہہ رہے میں نے رسول اللہﷺ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ آپﷺ نے فرمایا سیدنا علیؓ کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارونؑ کو موسیٰؑ سے تھی۔

(کتاب السنہ ابنِ ابی عاصم (عربی ) روایت 1350)۔

اسناد کا تعاقب: اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس روایت کا راوی یزید بن مہران الخباز ضعیف ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔ 

امام ابو داؤدؒ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔

(میزان الاعتدال (اردو)جلد 7 صفحہ250)۔

امام ذہبیؒ نے اس کو'المغنی فی الضعفاء' میں بھی شامل کیا کہتے ہیں۔

یزید بن مہران الخباز کوفی اس کو ابو داؤدؒ نے ضعیف کہا ہے۔

(المغنی فی الضعفاء (عربی)جلد 2 صفحہ 426)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی ضعیف ہے ۔

دوسری علت: اس روایت کا مرکزی راوی عبدالرحمٰن بن بیلمانی ضعیف ہے اور اس کی روایت سے حُجت قائم نہیں کی جاسکتی اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔

ابو حاتمؒ نے اسے لین قرار دیا ہے امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے (پھر امام ذہبیؒ کہتے ہیں) اس کے ذریعہ حُجت قائم نہیں ہو سکتی۔

(میزان الاعتدال ( اردو) جلد 4 صفحہ 250)۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔

'تیسرے طبقہ کا ضعیف راوی ہے۔

(تقریب التہذیب (اردو) جلد 1 صفحہ 514)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی بھی ضعیف ہے اور اس کی روایت سے استدلال نہیں کیا جا سکتا اس لیے یہ روایت بھی باطل ہے۔

دوسری سند:

نا عبد السلام بن صالح قال نا ابنِ عيينة عن ابنِ ابي نجيح عن ابيه۔

متن: ابو نجیح کہتے ہیں ربیعہ جرشی سیدنا امیر معاویہؓ کے پاس کھڑا ہوا اور سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہنے لگا سیدنا سعدؓ کھڑے ہوئے اور کہا یہ شخص سیدنا علیؓ کو برا کہہ رہا ہے اور تم (سیدنا امیر معاویہؓ)خاموش ہو میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سنا تھا کہ سیدنا علیؓ کو مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارونؑ کو موسیؑ سے تھی۔

(التاریخ الکبیر ابنِ ابی خیثمہ (عربی) روایت 2819)۔

اسناد کا تعاقب:

اس روایت کا راوی عبد السلام بن صالح یہ شیعہ ہے جھوٹ بولتا تھا اور احادیث ایجاد کرتا تھا اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

یہ انتہا پسند شیعہ تھا امام ابوحاتمؒ کہتے ہیں میرے نزدیک یہ ثقہ نہیں ہے امام ابو زرعہؒ نے اس کی احادیث کو پرے کر دیا تھا عقیلی کہتے ہیں یہ شیعہ اور خبیث ہے ابنِ عدیؒ کہتے ہیں اس پر (جھوٹ بولنے کی) تہمت عائد کی گئی ہے امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ شیعہ اور خبیث ہے اس پر احادیث ایجاد کرنے کا الزام ہے۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 4 صفحہ316)۔

امام ذہبیؒ اس کے بارے میں دیوان الضعفاء میں فرماتے ہیں۔

عبدالسلام بن صالح پر ایک سے زیادہ لوگوں نے جھوٹ بولنے کا الزام لگایا ہے ابو زرعہؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے ابنِ عدیؒ کہتے ہیں یہ مہتم ہیں اور دیگر نے کہا ہے یہ شیعہ ہے۔

(دیوان الضعفاء والمتروکین (عربی) صفحہ 249)۔

امام ابنِ جوزیؒ نے بھی اس کو الضعفاء میں شامل کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی ان کے نزدیک بھی ضعیف ہے ،لکھتے ہیں۔

ابوحاتمؒ کہتے ہیں میرے نزدیک یہ سچا نہیں ہے ابوذرعہؒ نے اس کی احادیث کو پھینک دیا ابنِ عدیؒ کہتے ہیں یہ مہتم ہے عقیلیؒ کہتے ہیں یہ خبیث شیعہ ہے۔

(کتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 2 صفحہ 106)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ عبدالسلام بن صالح شیعہ ہے اور اس پر جھوٹ بولنے اور احادیث ایجاد کرنے کی جرح کی گئی ہے جس وجہ سے اس کی روایت قابلِ استدلال نہیں اور اس کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں کوئی نازیبا جملہ کہنا حرام ہے۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا علیؓ پر لعنت کرنا یا کروانا ثابت نہیں اور اس سلسلہ میں کوئی ایک روایت بھی صحیح سند کے ساتھ موجود نہیں جس میں صراحت ہو کے سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علیؓ پر لعنت کی ہو یا کروائی ہو یا کرنے کا حکم دیا ہو اور اس بارے میں جتنی روایات ہیں سب سخت ضعیف باطل و موضوع ہیں جن سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔


صفحہ 7 از 7