سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کروانا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 6 از 7

متن: سیدنا سہل بن سعدؓ فرماتے ہیں آلِ مروان میں سے ایک شخص مدینہ کا عامل بنایا گیا (استعمل على المدينه رجل من آلِ مروان) اس نے مجھے بلایا اور کہا کہ سیدنا علیؓ کو برا کہو سیدنا سہلؓ نے انکار کر دیا تو اس نے کہا اگر تم انکار کرتے ہو تو یوں کہو ابو ترابؓ پر (نعوذ بالله) اللہ کی لعنت ہو تو سیدنا سہلؓ نے کہا سیدنا علیؓ کے نزدیک ابو ترابؓ سے بڑھ کر کوئی نام محبوب نہیں تھا جب ان کو ابو ترابؓ کے نام سے بلایا جاتا تو بہت خوش ہوتے تھے تو اس (امیر) نے سیدنا سہلؓ سے کہا آپ ہمیں یہ قصہ سنائیں کہ انہیں ابو ترابؓ کا نام کیسے ملا؟ (تو پھر سیدنا سہلؓ نے اس کو پورا واقعہ سنایا)۔

(صحیح مسلم (اردو) جلد 4 حدیث6225)۔

شیعہ کے اعتراض کی حقیقت: اس روایت کو دلیل بنا کر جاہل شیعہ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا علیؓ پر یہ لعنت سیدنا امیر معاویہؓ کروا رہے تھے جبکہ اس روایت سے کہیں بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ اس روایت میں آلِ مروان کے کسی شخص کا ذکر کیا ہے کہ جب وہ مدینہ کا امیر بنا تو اس نے سیدنا سہل بن سعدؓ کو بلایا اور سیدنا علیؓ پر لعنت کرنے کا حکم دیا یعنی یہ واقعہ سیدنا امیر معاویہؓ کی وفات کے بعد کا ہے۔

سیدنا امیر معاویہؓ کی وفات 60 ہجری میں ہوئی۔

مروان بن حکم 65 ہجری میں فوت ہوا اور اسی کی اولاد میں سے یہ شخص مدینہ کا امیر بنا۔

یعنی جس وقت مروان کی اولاد میں سے کوئی امیر بنا اس وقت سیدنا امیر معاویہؓ اس دنیا سے پردہ فرما چکے تھے۔

اس لیے اس روایت کو سیدنا امیر معاویہؓ کی تنقیص میں بیان کرنا اور یہ کہنا کہ یہ حکم سیدنا امیر معاویہؓ نے دیا تھا محض بغض و تعصب ہے اور سیدنا امیر معاویہؓ پر بہتان ہے۔

دسویں روایت:

اس اعتراض پر پیش کی جانے والی دسویں روایت کچھ یوں ہے۔

سند:

انبانا ابو اليمن زيد بن الحسن الكندی قال اخبرنا ابو القاسم هبة الله بن احمد بن عمر قال حدثنا ابو القاسم علی بن احمد بن محمد بن البسرى قال اخبرنا ابو الحسن محمد بن جعفر التميمک قال اخبرنا ابوبكر بن ابی دارم قال حدثنا اسحاق بن يحيىٰ بن محمد بن بشر بن سليم الدهقان قال حدثنا ابو محمد القاسم بن الخليفة قال اخبرنا ابنِ عمرون عن يحيىٰ بن يعلى عن محمد بن عبدالله بن ابی رافع عن عون بن عبد الله بن ابی رافع عن ابيه عبيد الله۔

متن: سیدنا امیر معاویہؓ جب سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہہ رہے تھے تو سیدنا ابو ایوب انصاریؓ نے ان سے کہا اپنی زبان کو لوگوں کے سامنے سیدنا علیؓ کو برا کہنے سے روکو تو سیدنا امیر معاویہؓ نے کہا میں ایسا نہیں کر سکتا تو سیدنا ابو ایوبؓ نے فرمایا میں ایسی زمین پر نہیں رہ سکتا جہاں سیدنا علیؓ کو برا کہا جا رہا ہو پھر وہ سمندر کے کنارے جا کر رہنے لگے۔

(بغیة الطلب فی تاریخ الحلب (عربی) جلد 7 صفحہ 3033 3032)۔

اسناد کا تعاقب:  اس سند میں پانچ علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس روایت کا راوی اسحاق بن یحییٰ بن محمد بن بشر بن سلیم الدھقان مجہول ہے اس کا ترجمہ ہمیں اسماء و رجال کی کسی کتاب میں نہیں ملا۔

دوسری علت: اس روایت کا راوی ابو محمد القاسم بن خلیفہ بھی مجہول ہے اس کا ترجمہ بھی اسماء و رجال کی کُتب میں موجود نہیں۔

تیسری علت: اس روایت کا راوی یحییٰ بن یعلی قطوانی ضعیف اور مضطرب الحدیث ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام بخاریؒ کہتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہے امام ابو حاتمؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے (اور پھر امام ذہبیؒ اس کی نقل کردہ منکر روایت کو بیان کرتے ہیں)۔

( میزان الاعتدال ( اردو) جلد 7 صفحہ 224)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی بھی ضعیف ہے اور اس سے منکر روایات منقول ہیں۔

چوتھی علت: اس روایت کا راوی محمد بن عبید اللہ بن ابی رافع منکر الحدیث ہے کتاب کے اندر سند میں محمد بن عبیداللہ کے بجائے محمد بن عبداللہ لکھا گیا ہے جو کے کاتب کی غلطی ہے کیونکہ یہ اپنے بھائی سے روایت کر رہا ہے اور اس کا بھائی اپنے والد سے اور وہاں والد کا نام عبید اللہ ہی لکھا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ کاتب سے غلطی ہوئی ہے دیکھیں (محمد بن عبدالله بن ابی رافع عن عون بن عبدالله بن ابی رافع عن ابيه عبيدالله) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راویمحمد بن عبید اللہ بن ابو رافع ہی ہے محمد بن عبیداللہ بن ابی رافع کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں: 

محدثین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے امام بخاریؒ کہتے ہیں یہ منکر الحدیث ہے یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں اس کی نقل کردہ احادیث کوئی چیز نہیں ہے امام ابو حاتمؒ کہتے ہیں یہ انتہائی منکر الحدیث ہے اور اس کی حدیث رخصت ہو گئی تھی۔

(میزان الاعتدال اردو جلد 6 صفحہ 257)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ راوی ضعیف اور منکر الحدیث ہے اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔

پانچویں علت:

اس روایت کا راوی ابوبکر بن ابی دارم جو کہ احمد بن محمد بن سری بن یحییٰ ہے یہ کذاب شیعہ ہے حدیثیں گھڑتا تھا اور سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمرؓ کو معاذ اللہ فرعون کہتا تھا اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

اس کی کنیت ابوبکر ہے یہ شیعہ اور کذاب ہے امام حاکمؒ کہتے ہیں یہ شیعہ اور غیر ثقہ ہے محمد بن احمد کوفی کہتے ہیں یہ پہلے ٹھیک تھا لیکن پھر اس نے ایسی روایات بیان کرنا شروع کر دی جن میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر تنقید کی گئی تھی ایک شخص اس (ابنِ ابی دارم) کے پاس آیا اور کہا اللہ کے فرمان فرعون آیا سے مراد سیدنا عمرؓ ہیں اور اس سے پہلے والے سے مراد سیدنا ابوبکرؓ ہیں اور الموتفکات سے مراد سیدہ عائشہؓ اور سیدہ حفصہؓ ہیں تو اس(ابنِ ابی دارم) نے اس شخص کی موافقت کی۔

(میزان الاعتدال اردو جلد 1 صفحہ 205)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت موضوع ہے جھوٹ کا پلندہ ہے اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں ہے اور اس سے استدلال کرتے ہوئے سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں بے ادبی کرنا حرام ہے۔

گیارہویں روایت:

اس اعتراض پر کی جانے والی گیارویں اور آخری روایت دو اسناد سے مروی ہے۔

پہلی سند:

صفحہ 6 از 7