سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کروانا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 5 از 7

سیدنا سعدؓ کے قول کی اصح تاویل یہی ہے جو قاضی عیاض مالکیؒ نے ذکر کی ہے (پھر فرماتے ہیں) اور سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا علیؓ کی فضیلت و بلند مرتبہ کے معترف تھے۔

(مکمل اکمال الاکمال (عربی) جلد 6 صفحہ 224)۔

علامہ عبدالعزیز بن احمد بن حامد (المتوفی 1239 ھ)۔ بی اس روایت کے بارے میں یہی کہتے ہیں۔

سیدنا امیر معاویہؓ نے بعض لوگوں کو سیدنا علیؓ کو برا کہتے ہوئے سنا تو سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا سعدؓ کی زبان سے ان کی فضیلت بیان کروا کر ان لوگوں کو سیدنا علیؓ کو برا کہنے سے روکنا چاہتے تھے۔

(الناھیة عن طعن امير المؤمنين معاويهؓ (عربی) صفحہ 72)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ شارحین کے نزدیک سیدنا امیر معاویہؓ کے اس سوال کا مقصد سیدنا سعدؓ کو سیدنا علیؓ کو برا کہنے کا حکم دینا نہیں تھا بلکہ سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کی زبان سے سیدنا علیؓ کی فضیلت بیان کروا کر ان لوگوں کو روکنا اور ان پر حُجت قائم کرنا تھا جو سیدنا علیؓ کو برا کہتے تھے۔

اس لیے اس روایت کو دلیل بنا کر یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو حکم دیا کہ وہ سیدنا علیؓ کو برا کہیں جائز نہیں اور نہ ہی اس روایت میں کوئی ایسی بات ہے کہ جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ انہوں نے سیدنا سعدؓ کو سیدنا علیؓ کو برا کہنے کا حکم دیا ہو اگر سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو واقعی حکم دیا ہوتا تو سیدنا سعدؓ غصہ کرتے اور سختی سے جواب دیتے لیکن سیدنا سعدؓ کا ایسا نہ کرنا بھی اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے ایسا کہنے کا حکم نہیں دیا محض کسی حکمت کی بناء پر ایک سوال پوچھا جو کہ ہم بیان کر چکے۔

ساتویں روایت:

اس اعتراض پر پیش کی جانے والی ساتویں روایت کچھ یوں ہے۔

سند:

حدثنی محمد بن اسماعيل الواسطی عن الفرات العجلى عن ابيه عن قتادة۔

متن: قتادہ کہتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے مدینہ میں خطاب کیا اور سیدنا علیؓ کا ذکر برے الفاظ سے کیا اور سیدنا عثمانؓ کی شہادت اور ان کے قاتلین کو پناہ دینے کا ذمہ دار سیدنا علیؓ کو ٹھہرا دیا اور سیدنا حسن بن علیؓ ممبر کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔

(انساب الاشراف ( عربی )جلد 5 صفحہ 121)۔

اسناد کا تعاقب: اس روایت کا راوی الفرات العجلی اور اس کا باپ دونوں مجہول ہیں ان کا ترجمہ کسی کتاب میں موجود نہیں کہ یہ کون ہیں آیا ثقہ ہیں یا نہیں۔

ان کی عدالت ثابت کیے بغیر ان کی روایت سے کسی صورت استدلال جائز نہیں اس لیے یہ روایت بھی محض باطل ہے اور اس کو دلیل بنا کر سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں تنقیص کرنا جائز نہیں۔

آٹھویں روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی آٹھویں روایت دو اسناد سے مروی ہے۔

پہلی سند:

المدائنی عن غسان بن عبد الحميد عن ابيه۔

متن: سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا شداد بن اوسؓ کو کہا کہ کھڑے ہو کر سیدنا علیؓ کا ذکر کرو اور ان پر تنقید کرو۔(انساب الاشراف ( عربی )جلد 5 صفحہ 105)۔

اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس روایت کا راوی غسان بن عبدالحمید مجہول ہے۔

امام ذہبیؒ اس راوی کے ترجمہ میں فرماتے ہیں یہ مجہول ہے۔

(میزان الاعتدال ( اردو ) جلد 5 صفحہ 392)۔

اور امام ابنِ ابی حاتمؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ

غسان بن عبدالحمید بن عبید بن یسار القرشی مجہول ہے۔

(کتاب الجرح والتعدیل ( عربی) جلد 7 صفحہ 51)۔

اس راوی کو امام ابنِ حبانؒ نے الثقات میں شامل کیا ہے لیکن ہم یہ پہلے ہی بیان کرچکے ہیں کہ امام ابنِ حبانؒ راویوں کی توثیق میں متساہل ہیں ان کا کسی مجہول راوی کو ثقہ کہنا راوی کی ثقاہت ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔

دوسری علت: غسان کے باپ عبدالحمید بن عبید بن یسار القرشی بھی مجہول ہے اس کا ترجمہ کسی کتاب میں موجود نہیں یہ بھی اپنے بیٹے کی طرح مجہول ہے اس لیے اس کی روایت بھی قابلِ قبول نہیں۔

اس سب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں باپ بیٹا مجہول ہیں اور ان کی روایت سے استدلال جائز نہیں اس لیے یہ روایت بھی باطل ہے۔

دوسری سند:

بلغنی عن حفص بن عمر الرازی عن الحسن بن عمارة عن منهال بن عمرو قال۔

(عيون الاخبار (عربي) جلد 1 صفحہ 92 )۔

اسناد کا تعاقب: اس روایت کا راوی حسن بن عمار کذاب و متروک الحدیث راوی ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ابو داؤدؒ امام شعبہؒ کا قول نقل کرتے ہیں کہ حسن بن عمارہ جھوٹ بولتا تھا امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں یہ متروک ہے ابنِ مدینیؒ کہتے ہیں یہ شخص حدیث ایجاد کرتا ہے امام ابو حاتمؒ امام مسلمؒ امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ متروک ہے شعبہؒ نے کہا جو سب سے زیادہ جھوٹے شخص کو دیکھنا چاہے وہ حسن بن عمارہ کو دیکھ لیں لوگوں نے شعبہؒ کا یہ قول قبول کرلیا اور حسن بن عمارہ کو ترک کر دیا امام احمدؒ کہتے ہیں وکیع جب حسن بن عمارہ کی کسی روایت پر مطلع ہوتے تو کہتے اسے پرے کر دو اسے پرے کر دو۔

(میزان الاعتدال ( اردو ) جلد 2 صفحہ 313 تا 315)۔

امام ذہبیؒ اس کے بارے میں خود فرماتے ہیں کہ۔

'حسن بن عمارہ ہمارے نزدیک متروک ہے۔

(المغنی فی الضعفاء (عربی) جلد 1 صفحہ 244)۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔

حسن بن عمارہ بجلی ساتویں طبقہ کا متروک راوی ہے۔

(تقریب التہذیب ( اردو) جلد 1 صفحہ 180)۔

امام ابنِ جوزیؒ اس کو الضعفاء میں شامل کر کے فرماتے ہیں۔

شعبہؒ کہتے ہیں یہ کذاب ہے حدیث وضع کرتا تھا یحییٰ کہتے ہیں یہ کذاب ہے اور امام احمدؒ امام رازیؒ امام نسائیؒ امام مسلمؒ امام یعقوب بن شیبہؒ اور علی بن جنید اور امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ متروک ہے زکریا ساجی کہتے ہیں اس بات پر اجماع ہے کہ حسن بن عمارہ کی حدیث کو ترک کیا جائے۔

(کتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 1 صفحہ 207)۔

امام نسائیؒ اس کو الضعفاء میں شامل کر کے اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔

حسن بن عمارہ کوفی متروک الحدیث ہے۔

(کتاب الضعفاء والمتروکین للنسائی (عربی) صفحہ 87)۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ حسن بن عمارہ کذاب و متروک راوی ہے اور اس کی کسی روایت سے استدلال جائز نہیں اس لیے یہ روایت بھی موضوع ہے۔

نویں روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی نویں روایت کچھ یوں ہے۔

صفحہ 5 از 7