سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کروانا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 4 از 7

سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو (کسی جگہ کا) امیر بنایا پھر ان سے پوچھا اپ کو ابو ترابؓ (یعنی سیدنا علیؓ) کو برا کہنے سے کیا چیز روکتی ہے؟. تو انہوں نے کہا جب تک مجھے تین باتیں یاد ہیں جو رسول اللہﷺ نے ان کے بارے میں کہی تھی میں ہرگز انہیں برا نہیں کہوں گا (پھر انہوں نے وہ تینوں باتیں بیان فرمائیں)۔

(صحیح مسلم (اردو) جلد 4 حدیث 6220)۔

اعتراض کی حقیقت: اس روایت کو بنیاد بنا کر شیعہ دعویٰ کرتے ہیں کی سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہنے کا حکم دیا جبکہ اس روایت میں کہیں پر بھی حکم دینے کا ذکر موجود نہیں ہے۔

بعض شیعہ اس کے عربی متن سے امیر معاویه بن ابی سفیانؓ سعداؓ کے جملہ کو بنیاد بنا کر کہتے ہیں کہ اس کا ترجمہ ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو حکم دیا جبکہ یہ ترجمہ کرنا بالکل غلط ہے دیگر احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ اس جملے کا محاورتاً درست ترجمہ یہی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو امیر بنایا۔

جیسا کہ مختلف احادیث میں ہیں۔

بعث النبيﷺ بعثا و امر عليهم اسامة بن زيد۔

نبي كريمﷺ نے ایک فوج روانہ فرمائی اور سیدنا اسامہ بن زیدؓ کو ان کا امیر بنایا۔

(صحیح بخاری (اردو) جلد 3 روایت 3730)۔

وكان رسول اللهﷺ هو صالح اهل البحرين وامر عليهم العلاء بن الحضرمی۔

نبي كريمﷺ نے بحرین والوں سے صلح کی تو ان پر سیدنا علاء بن حضرمیؓ کو امیر بنایا۔

(صحیح بخاری (اردو) جلد 4 روایت 4015)۔

ان رسول اللهﷺ بعث جيشا وامر عليهم رجلا۔

رسول اللہﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک شخص کو ان کا امیر بنایا۔

(صحیح مسلم (اردو) جلد 4 حدیث 4765)۔

ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کا درست ترجمہ یہی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو (کسی جگہ کا) امیر بنایا۔

اگر سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کو برا کہنے کا حکم دیا ہوتا تو روایت میں الفاظ کچھ یوں ہوتے امر معاويهؓ سعدؓ تسب ابا الترابؓ۔

اگر امر کا ترجمہ یہ کیا جائے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو حکم دیا تو پورا ترجمہ ہی غلط ہو جائے گا۔

جو کہ کچھ یوں بنے گا۔ 

'سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو حکم دیا کہ آپ کو ابو ترابؓ کو برا کہنے سے کیا چیز روکتی ہے؟۔

اب یہ پورا جملہ ہی غلط ہے کہ حکم بھی دیا جا رہا ہے اور سوال بھی کیا جا رہا ہے کیونکہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سوال کیا ہے ما معنک ان تسب ابا الترابؓ؟۔

اگر اس میں لفظ امر کا ترجمہ حکم ہی کرنا ہو تو اس کا ترجمہ یوں بنے گا۔

سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا سعدؓ کو حکم دے رہے ہیں کہ میرے اس سوال کا جواب دیں۔

اور محاورتاً جو درست ترجمہ ہے جو ہم نے دلائل کے ساتھ ثابت کیا وہ یہی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو کسی جگہ کا امیر بنایا اور پھر ان سے سوال پوچھا۔

سیدنا امیر معاویہؓ کا یہ سوال کرنے کا مقصد ہے:

سیدنا امیر معاویہؓ نے اگر یہ سوال سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہلوانے کے لیے نہیں کیا تو اس کا مقصد کیا تھا؟۔

اس بات پر محدثین سے مختلف آراء منقول ہیں جو کہ آپ ملاحظہ فرمائیں گے جبکہ کسی نے بھی اس سے یہ استدلال نہیں کیا کہ سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا علیؓ کو برا کہلوانا چاہتے تھے بلکہ سبھی نے یہی کہا ہے کہ اس روایت میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا علیؓ کو برا کہنے کا حکم دیا ہو۔

سیدنا امیر معاویہؓ اپنے ساتھیوں کو سیدنا علیؓ کا ادب سکھانا چاہتے تھے:

بعض شارحین کا کہنا ہے کہ اس سوال سے سیدنا امیر معاویہؓ اپنے ساتھیوں کو سیدنا علیؓ کی فضیلت بتانا چاہتے تھے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ سیدنا سعدؓ سیدنا علیؓ کی فضیلت بیان کریں گے اور اس سے ان کے ساتھیوں کو سیدنا علیؓ کی فضیلت معلوم ہوگی۔

جیسا کہ امام الدین یحییٰ بن محمد الشیبانیؒ المتوفی 560 ہجری فرماتے ہیں کہ۔

یہ روایت اس بات پر دلیل ہے کہ سیدنا سعدؓ نے سیدنا علیؓ کے فضائل بیان کیے اور سیدنا امیر معاویہؓ نے ان کا انکار نہیں کیا یہ بات بعید نہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ اس (سوال) سے اپنے گھر والوں یا ساتھیوں کو سیدنا سعدؓ کی سیدنا علیؓ کے حق میں کی گئی باتوں سے سیدنا علی کا ادب سکھانا چاہتے ہوں یہ بات مروی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا علیؓ کی تعریف کیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے رسول اللہﷺ نے انہیں علم کے ذریعے خوب روشن فرمایا ہے ان دونوں کے درمیان جب جنگ کی کیفیت تھی وہ تب بھی سیدنا علیؓ سے فتویٰ لیا کرتے تھے سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا علیؓ کی فضیلت کے منکر نہیں تھے۔

(الافصاح عن معانی الصحاح(عربی) جلد 1 صفحہ 348)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام عون الدین الشیبانیؒ کے نزدیک بھی اس سوال کا مقصد لوگوں کو سیدنا علیؓ کی فضیلت سے آشنا کروانا تھا کہ سیدنا سعدؓ نے نبی کریمﷺ کی زبان مبارک سے سیدنا علیؓ کی فضیلت میں کیا کچھ سنا ہے نہ کہ ان کو برا بھلا کہنے کا حکم دینا مقصود تھا۔

سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہنے والوں پر سیدنا علیؓ کی شان واضح کرنا چاہتے تھے:

بعض شارحین کہتے ہیں کہ اس سوال کا مقصد ان لوگوں کو سیدنا سعد بن ابی وقاصؓ کی زبان سے سیدنا علیؓ کی فضیلت سے آشنا کروانا تھا جو سیدنا علیؓ کو برا کہتے تھے۔

جیسا کہ قاضی عیاض مالکیؒ نے اس حدیث کی تشریح میں فرمایا ہے کہ۔

اس روایت میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو سیدنا علیؓ کو برا کہنے کا حکم دیا بلکہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ کو ایسی قوم کے مابین دیکھا جو سیدنا علیؓ کو برا کہتے تھے اور ان کو روکنا ممکن نہ تھا اس لیے سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا سعدؓ سے یہ سوال پوچھا کہ آپ کو ابو ترابؓ کو برا کہنے سے کیا چیز روکتی ہے؟ تاکہ وہ وہی بات بیان کریں جو انہوں نے نبی کریمﷺ سے سنی ہو اور ایک صحابی کی زبان سے ہی ان لوگوں پر حُجت تمام ہو جائے جو سیدنا علیﷺ کو برا کہتے تھے۔

(الکمال المعلم بفوائد مسلم (عربی) جلد 7 صفحہ 415)۔

قاضی عیاض مالکیؒ کہ اس شرح کو اصح قرار دیتے ہوئے امام خلفہ و شتانی ابی المالکیؒ اور امام سنوسی الحسینیؒ فرماتے ہیں۔

صفحہ 4 از 7