سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کروانا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 3 از 7

فضیل بن خدیج ابو مخنف وغیرہ سے روایت کرتا ہے میرے والد (امام ابو خاتم الرازیؒ) کہتے ہیں یہ مجہول ہے اور متروک الحدیث راویوں سے روایت کرتا ہے۔

(کتاب الجرح والتعدیل (عربی) جلد 7 صفحہ 72)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فضیل بن خدیج مجہول ہے اور اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔

پانچویں علت: اس روایت کا مرکزی راوی بھی مجہول ہے حسین بن عقبہ کہتے ہیں کہ بعض راویوں نے مجھے روایت بیان کی (الحسين بن عقبه المرادی قال حدثنی بعض هذا الحديث) بعض راوی کون ہیں؟ ان کی عدالت ثابت ہے یا نہیں ثقہ ہیں یا کذاب یہ سب معلوم کیے بغیر اس روایت سے استدلال جائز نہیں۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت موضوع ہے اس کے راوی متروک الحدیث و مجہول ہیں اس لیے اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا علیؓ پر (معاذ اللہ) لعنت کرواتے تھے حرام ہے۔

چوتھی روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی چوتھی روایت بھی طبری کی اسی گزشتہ روایت سے اگلی روایت ہے جو کہ کچھ یوں ہے۔

سند:

قال ابو مخنف قال الصقعب بن زهير سمعت الشعبى يقول۔ 

متن: شعبی کہتے ہیں کہیں سیدنا مغیرہؓ سات سال اور چند ماہ سیدنا امیر معاویہؓ کی طرف سے کوفہ کے گورنر رہے اور وہ بہت نیک سیرت اور امن و عافیت کی خواہش مند تھے مگر سیدنا علیؓ کو برا کہنا اور ان کی مذمت کرنا انہوں نے کبھی ترک نہیں کیا۔

(تاریخِ طبری (عربی)جلد 5 صفحہ 254)۔

اسناد کا تعاقب:

اس روایت کی سند میں بھی ابو مخنف لوط بن یحییٰ ہے جس کا ترجمہ گزر چکا ہے کہ یہ شیعہ اور متروک الحدیث راوی ہے جس وجہ سے اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں اس لیے یہ روایت بھی موضوع ہے اور اس سے استدلال جائز نہیں۔

پانچویں روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی پانچویں روایت جو کہ دو اسناد سے مروی ہے کچھ یوں ہے۔

پہلی سند:

حدثنا محمد بن حسين ابو حصين القاضي قال نا عون بن سلام قال نا عیسیٰ بن عبد الرحمٰن السلمى عن السدي عن ابي عبد الله الجدلی۔

متن: ابو عبداللہ الجدلی کہتا ہے کہ سیدہ ام سلمہؓ نے کہا کیا رسول اللہﷺ کو ممبروں پر برا بھلا کہا جا رہا ہے؟ تو میں نے کہا سبحان اللہ نبی کریمﷺ کو کہاں پر برا بھلا کہا جا رہا ہے؟ تو سیدہ ام سلمہؓ نے کہا کیا سیدنا علیؓ اور ان سے محبت کرنے والوں کو برا بھلا نہیں کہا جا رہا؟ اور میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہﷺ ان سے محبت کرتے تھے۔

(معجم الاوسط للطبرانی (عربی)جلد 6 روایت 5832)۔

اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس روایت کا راوی اسماعیل بن عبدالرحمن السدی صدوق ہے البتہ شیعہ ہے جیسا کہ امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔

حسین بن واقد کہتے ہیں میں نے سدی سے احادیث کا سماع کیا اور اس کے پاس سے اس وقت تک نہیں اٹھا جب تک میں نے اسے سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور سیدنا عمر فاروقؓ کو برا کہتے ہوئے نہیں سنا پھر میں دوبارہ اس کے پاس نہیں گیا۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 1 صفحہ 322)۔

امام ابنِ حجرؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں۔

چوتھے طبقہ کا صدوق حدیث میں وہم کر جانے والا راوی ہے اس بار شیعہ ہونے کا طعن کیا گیا ہے۔

(تقریب التہذیب ( اردو) جلد 1 صفحہ 77)۔

اور صدوق شیعہ کی وہ روایت جو اس کے مذہب کو تقویت دے قبول نہیں کی جاتی۔

دوسری علت: اس روایت کا راوی ابو عبداللہ الجدلی بھی شیعہ ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذہبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

یہ شیعہ ہے اور بعض رکھنے والا شخص ہے جو زجانی کہتے ہیں یہ مختار کے جھنڈے کا نگران ہے۔

(میزان الاعتدال ( اردو)جلد 7 صفحہ 368)۔

امام ابنِ سعدؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔ 

ابو عبداللہ الجدلی شدید التشیع(یعنی کٹر شیعہ ہے)۔

(طبقات ابنِ سعد( اردو ) جلد 3 حصہ 6 صفحہ 151)۔

امام ابنِ قتیبةؒ بھی اپنی کتاب میں غالی شیعوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

ان میں مختار اور ابو عبداللہ الجدلی اور زرارة بن اعین اور جابر الجعفی شامل ہیں۔

(المعارف لابنِ ابنِ قتیبة (عربی) صفحہ 624)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ابو عبداللہ الجدلی شیعہ ہے اور اصول اہلِ سنت پر صدوق شیعہ راوی کی وہ روایت جو اس کے مذہب و بدعت کو تقویت دے اس کو قبول نہیں کیا جاتا۔

جیسا کہ امام ابنِِ حجرؒ یہ اصول بیان فرماتے ہیں کہ:

شیعہ غالی راوی کی نہ ہی روایت قبول کی جاتی ہے اور نہ ہی اس کی کرامت۔

(تہذیب التہذیب (عربی) جلد 1 صفحہ 89)۔

اس لیے یہ روایت باطل ہے اور اس کو دلیل بنانا جائز نہیں۔

دوسری سند:

اخبرنا احمد بن كامل القاضي حدثنا محمد بن سعد العوفی حدثنا يحيىٰ بن ابی بكير حدثنا اسرائيل عن ابی اسحاق عن ابی عبد الله الجدلی۔

(مستدرک الحاکم (اردو) جلد 4 روایت 4615)۔

اسناد کا تعاقب: اس سند میں بھی دو علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس روایت کا راوی ابو اسحاق السبیعی تیسرے طبقے کا مدلس ہے اور عن سے روایت کر رہا ہےابی اسحاق عن ابی عبداللہ الجدلی اور درجہ سوم کے مدلسین کی معنن مطلقاً رد ہیں جب تک سماع کی تصریح نہ کریں۔

امام ابنِ حجرؒ اس کو مدلسین کے تیسرے طبقے میں شامل کر کے فرماتے ہیں:

عمرو بن عبداللہ السبیعی الکوفی تدلیس کرنے میں مشہور ہے۔

(تعریف اہلِ التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس (عربی) صفحہ 42)۔

اور تیسرے طبقہ کے مدلسین کے بارے میں فرماتے ہیں۔ 

یہ وہ مدلسین ہیں جن کی (معنن) حدیث سے آئمہ نے احتجاج نہیں کیا جب تک سماع کی تصریح نہ کریں تو ان کی (معنن) احادیث مطلقاً رد کی جاتی ہیں۔

(تعریف اہلِ التقدیس بمراتب الموصوفین بالتدلیس (عربی) صفحہ 13)

اس لیے یہ روایت ابو اسحاق کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے اور اس سے استدلال درست نہیں۔

دوسری علت: اس روایت کی سند میں بھی ابو عبداللہ الجدلی ہے جو کہ شیعہ ہے اور اس کے حالات ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ شیعہ ہے اور اس کی ہر وہ روایت جو اس کے مذہب و بدعت کو تقویت دے وہ قبول نہیں کی جائے گی اس لیے یہ روایت بھی باطل ہے۔

 چھٹی روایت: اس اعتراض پر شیعہ کی طرف سے پیش کی جانے والی چھٹی روایت صحیح مسلم یہ ایک روایت ہے جس کو شیعہ اپنی نادانی کی بنا پر اس اعتراض کو ثابت کرنے کے لیے پیش کرتے ہیں۔

متن:

صفحہ 3 از 7