سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کروانا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 2 از 7

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ اس روایت کی تمام اسناد باطل ہیں اور اس کی کوئی ایک ایسے سند نہیں ہے جو صحیح ہو اس لیے اس روایت سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ سیدنا امیر معاویہؓ اور سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ سیدنا علیؓ پر لعنت کرواتے تھے حرام ہے۔

دوسری روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی دوسری روایت کچھ یوں ہے۔

سند:

'حدثنی المدائنی عن عبد الله بن فائد و سحيم بن حفص قال۔

متن: سحیم بن حفص کہتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ کو خط لکھا کہ سیدنا علیؓ کو گالیاں دلواؤ اور ان کی تنقیص بیان کرو۔

(انساب الاشراف (عربی)جلد 5 صفحہ 30)۔

اسناد کا تعاقب: اس روایت میں دو علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس کا مرکزی راوی سحیم بن حفص مجہول الحال ہے کتب رجال میں اس پر جرح و توثیق نہیں ملتی صرف حافظ مزیؒ نیک خلیفہ بن خیاط کے ترجمہ میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ یہ کس کس سے روایت کرتا ہے سحیم بن حفص کے بارے میں کہا ہے کہ یہ اخباری ہے لکھتے ہیں

اور ابوالیقطان عجیفی اخباری سے اور اس کا نام سحیم بن حفص ہے۔

(تہذیب الکمال فی اسماء الرجال (عربی)جلد 8 صفحہ 316)۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سحیم بن حفص مجہول ہے کیونکہ اس کے بارے پر کُتب رجال میں جرح و تعدیل نہیں ملتی اس لیے اس راوی کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے کسی صحابی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

دوسری علت: اس روایت کی دوسری علت اس کا منقطع ہونا ہے سحیم بن حفص نے سیدنا امیر معاویہؓ کا زمانہ نہیں پایا۔

سیدنا امیر معاویہؓ کی وفات 60 ہجری میں ہوئی اور سحیم بن حفص 190 ہجری میں فوت ہوا ان کے درمیان 130 سال کا فرق ہے۔

مؤرخ شہاب الدین یعقوب الحموی المتوفی 626 ہجری اس کے بارے میں لکھتا ہے۔ 

سحیم بن حفص ابو الیقطان الاخباری سنہ 190 ہجری میں فوت ہوا۔

(معجم الادباء (عربی) جلد 3 صفحہ 1342)۔

ادیب ربیع سلیمان الحوات الشفشاونی نے بھی اس کے بارے میں لکھا ہے کہ!۔

ابو الیقطان سحیم بن حفص سنہ 190 ہجری میں فوت ہوا۔

(السر الظاہر فیمن احر زبفاس الشرف الباھر (عربی) صفحہ 36)۔

اور مؤرخ محمد بن اسحاق الندیم بھی اس کے بارے میں لکھتا ہے کہ۔ 

ابو الیقطان جو کہ سحیم بن حفص ہے سنہ 190 ہجری میں فوت ہوا ۔

(کتاب الفہرست (عربی) صفحہ 138)۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت منقطع باطل ہے اور اس سے کسی صورت استدلال جائز نہیں

تیسری روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی تیسری روایت کچھ یوں ہے۔

سند:

قال هشام بن محمد عن ابی مخنف عن مجالد بن سعيد والصعقب ابن زهير و فضيل بن خديج والحسين بن عقبه المرادی قال حدثنک بعض هذا الحديث۔

متن: حسین بن عقبہ کہتا ہے مجھے بعض راویوں نے یہ روایت بیان کی کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ کو کوفہ کا گورنر مقرر کیا تو ان کو کچھ باتوں کی تلقین کی ان میں سے ایک یہ کہ سیدنا علیؓ کو گالیاں دلواؤ اور ان کی تنقیص بیان کرو۔

(تاریخِ طبری (عربی) جلد 5 صفحہ 253)۔

اسناد کا تعاقب: اس سند میں پانچ علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس سند کا پہلا راوی ہشام بن محمد بن سائب کلبی متروک و شیعہ راوی ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

امام دار قطنیؒ اور دیگر حضرات نے کہا ہے کہ یہ متروک ہے ابنِ عساکرؒ کہتے ہیں یہ شیعہ ہے اور ثقہ نہیں ہے۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 7 صفحہ 110)۔

امام ذہبیؒ ہی اس کے بارے میں مزید فرماتے ہیں۔ 

ہشام بن محمد یہ اخباری ہے اس کو ترک کر دیا گیا ہے۔

(المغنی فی الضعفاء (عربی) جلد 2 صفحہ 371)۔

امام ذہبیؒ نے اس کو دیوان الضعفاء میں بھی شامل کیا اور کہتے ہیں!۔

ہشام بن محمد کلبی اس کو ترک کر دیا گیا اور یہ شیعہ ہے۔

(دیوان الضعفاء والمتروکین (عربی) صفحہ 419)۔

امام ابنِ جوزیؒ اس کو الضعفاء میں شامل کر کے کہتے ہیں۔

یہ اپنے باپ اور ابو مخنف سے روایت کرتا ہے امام احمدؒ کہتے ہیں میرا نہیں گمان کہ کسی نے اس کے حوالے سے حدیث روایت کی ہوگی (یعنی اس کی حدیث کو کسی نے قبول نہیں کیا) اور امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ متروک ہے۔

(کتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 3 صفحہ 176)۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ہشام بن محمد متروک الحدیث اور شیعہ ہے اس لیے اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔

دوسری علت:

اس سند کا دوسرا راوی ابو مخنف لوط بن یحییٰ بھی متروک الحدیث اور شیعہ ہے اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔ 

امام ذہبیؒ اس کے ترجمہ میں فرماتے ہیں:

یہ ہلاکت کا شکار ہونے والا شخص ہے اس پر اعتماد نہیں کیا جائے گا ابو حاتمؒ اور دیگر حضرات نے اسے متروک قرار دیا ہے امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں ہے اور کوئی چیز نہیں ہے ابنِ عدیؒ کہتے ہیں یہ شیعہ ہے اور جلنے والا شخص ہے۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 صفحہ 484)۔

امام ذہبیؒ 'دیوان الضعفاء 'میں اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

لوط بن یحییٰ ابو مخنف متروک ہے۔

(دیوان الضعفاء والمتروکین (عربی) صفحہ 333)۔

امام ابنِ جوزیؒ اس کو الضعفاء میں شامل کر کے کہتے ہیں۔

امام یحییؒ کہتے ہیں یہ ثقہ نہیں اور ایک بار کہا کہ یہ کوئی شے نہیں ہے اور امام ابو حاتمؒ کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے اور امام دار قطنیؒ کہتے ہیں یہ ضعیف ہے۔

(کتاب الضعفاء والمتروکین (عربی) جلد 3 صفحہ 28)۔

امام ابو حاتمؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔

ابو مخنف متروک الحدیث ہے۔

(کتاب الجرح والتعدیل (عربی) جلد7 صفحہ 182)۔

ان دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ ابو مخنف لوط بن یحییٰ بھی متروک الحدیث ہے اور اس کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔

یہ روایت دیگر کتب میں بھی موجود ہے لیکن تمام اسناد کا دار و مدار ابو مخنف پر ہی ہے جو کہ متروک الحدیث و شیعہ ہے اس لیے کسی دوسری کتاب سے بھی اس کو بطورِ دلیل پیش نہیں کیا جاسکتا۔

تیسری علت: اس کی سند کا تیسرا راوی مجالد بن سعید ہے اور اس کا ترجمہ گزر چکا ہے کہ اس کی روایت سے استدلال نہیں کیا جا سکتا۔

(دیکھیں باب سیدنا معاویہؓ کو میرے ممبر پر دیکھو تو قتل کر دینا پہلی سند کا تعاقب)

چوتھی علت: اس سند کا راوی فضیل بن خدیج مجہول الحال ہے۔

عبدالرحمن بن ابی حاتمؒ اس کے ترجمہ میں کہتے ہیں۔

صفحہ 2 از 7