سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر لعنت کروانا

  محمد ذوالقرنين

صفحہ 1 از 7

سیدنا امیر معاویہؓ کا سیدنا علیؓ پر لعنت کروانا

شیعہ دعویٰ کرتے ہیں یہ سیدنا امیر معاویہؓ اپنے دورِ خلافت میں سیدنا علیؓ پر لعنت کیا اور کروایا کرتے تھے اور ممبروں پر ان کو گالیاں دلوایا کرتے تھے اس پر شیعہ 11 مختلف روایات پیش کرتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں۔

پہلی روایت: اس اعتراض پر پیش کی جانے والی پہلی روایت چار اسناد سے مروی ہے۔

پہلی سند:

'حدثنا علی بن عاصم قال حصين اخبرنا عن هلال بن يساف عن عبد الله بن ظالم المازنی قال۔

متن: عبداللہ بن ظالم المازنی کہتے ہیں کہ جب سیدنا امیر معاویہؓ کوفہ سے روانہ ہوئے تو وہاں کا گورنر سیدنا مغیرہ بن شعبہؓ کو بنا دیا انہوں نے ایسے خطیب لگا دیے جو سیدنا علیؓ کو برا بھلا کہتے تھے عبداللہ بن ظالم کہتے ہیں میں سیدنا سعید بن زیدؓ کہ پہلو میں بیٹھا تھا وہ شدید غصے میں آئے اور اُٹھ گئے انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا تو میں بھی ان کے پیچھے چل دیا انہوں نے کہا کیا تم اس آدمی کو دیکھ رہے ہو جو اپنے اوپر ظلم کر رہا ہے اور ایک جنتی آدمی پر لعنت کرنے کا حکم دیتا ہے میں نو آدمیوں کے بارے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ سب جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے بارے میں بھی گواہی دے دوں کہ وہ بھی جنتی ہے تو میں گنہگار نہیں ہوں گا عبداللہ بن ظالم کہتے ہیں میں نے ان سے دریافت کیا کہ وہ کون ہیں؟ تو انہوں نے کہا رسول اللہﷺ نے فرمایا تھا اے حرا (پہاڑ)۔تو سکون کر جا تجھ پر اس وقت جو لوگ موجود ہیں وہ یا تو نبی ہیں یا صدیق یا شہید میں (عبداللہ بن ظالم) نے دریافت کیا وہ کون کون ہیں؟ انہوں نے کہا اللہ کے رسولﷺ سیدنا ابوبکرؓ سیدنا عمرؓ سیدنا عثمانؓ سیدنا علیؓ سیدنا زبیرؓ سیدنا طلحہؓ سیدنا عبدالرحمن بن عوفؓ سیدنا سعد بن مالکؓ اس سے آگے وہ خاموش ہوگئے میں (عبداللہ) نے پوچھا اور دسواں آدمی کون ہے؟انہوں (سیدنا سعید بن زیدؓ) نے جواب دیا میں خود۔

(مسند احمد (اردو) جلد 1 حدیث 1644)۔

اسناد کا تعاقب: اس سند میں دو علتیں ہیں۔

پہلی علت: اس سند کا راوی علی بن عاصم منکر الحدیث ہیں اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیں۔

امام ذہبیؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں:

یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں یہ نیک شخص تھا تاہم اس کی غلطیوں کی کثرت اور خطاؤں کی وجہ سے اسے منکر قرار دے دیا گیا یحییٰ بن معینؒ کہتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں ہے یزید بن ہارون کہتے ہیں ہم اسے جھوٹ کے حوالے سے ہی جانتے ہیں امام نسائیؒ کہتے ہیں یہ متروک الحدیث ہے امام بخاریؒ کہتے ہیں محدثین کے نزدیک یہ قوی نہیں ہے خالد الخدا نے اس کی روایات کو منکر قرار دیا ہے امام ذہبیؒ فرماتے ہیں اپنی ذات کے حوالے سے صدوق ہے البتہ یہ ضعیف ہے۔

(میزان الاعتدال (اردو) جلد 5 صفحہ 181 تا 184)۔

امام ذہبیؒ اس پر آخری حکم لگاتے ہوئے فرماتے ہیں:

علی بن عاصم ضعیف ہے۔

(الکاشف للذہبی (عربی) جلد 2 صفحہ 42)۔

امام ابنِ جوزیؒ اس کو الضعفاء میں شامل کر کے کہتے ہیں۔

علی بن عاصم ہمارے نزدیک قوی نہیں ہے۔

(کتاب الضعفاء للبخاری(عربی) صفحہ 81)۔

امام ابنِ حبانؒ نے بھی اس کو المجروحین میں شامل کیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ راوی ان کے نزدیک بھی ضعیف ہے۔

(کتاب المجروحین من المحدثین (عربی) جلد 2 صفحہ 89)۔

ان تمام جروحات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سخت ضعیف اور منکر الحدیث ہے اس لیے اس راوی کی روایت سے استدلال جائز نہیں۔

دوسری علت: یہ روایت منقطع ہیں کیونکہ حلال بن یساف نے عبداللہ بن ظالم المازنی سے سماع نہیں کیا۔

جیسا کہ امام دار قطنیؒ فرماتے ہیں۔

ہلال بن یساف نے عبداللہ بن ظالم سے سماع نہیں کیا۔

(اقوال الدار قطنی فی رجال الحدیث (عربی) صفحہ 693)۔

اور علل میں بھی اس سند کے بارے میں فرماتے ہیں۔

ہلال بن یساف نے عبداللہ بن ظالم سے سماع نہیں کیا۔

(العلل الدار قطنی (عربی) جلد 2 صفحہ 245)۔

امام عبدالقادر المقریزی بھی اس روایت کے بارے میں یہی کہتے ہیں کہ۔

ہلال بن یساف نے عبداللہ بن ظالم سے سماع نہیں کیا۔

(امتاع الاسماع(عربی) جلد 5 صفحہ 58)۔

امام نسائیؒ بھی یہ روایت نقل کر کے فرماتے ہیں۔

ہلال بن یساف نے عبداللہ بن ظالم سے سماع نہیں کیا۔

(سنن الکبریٰ للنسائی (عربی) جلد 7 صفحہ 332)۔

اور امام بخاریؒ نے اس روایت کو عبداللہ بن ظالم کی وجہ سے ضعیف کہا ہے جو کہ ہم چوتھی سند میں بیان کریں گے۔

ان تمام دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ راویت سخت ضعیف ہے اس کا راوی علی بن عاصم متروک ہے اور اس روایت کی سند بھی منقطع ہے۔

دوسری سند:

حدثنا محمد بن العلاء عن ابنِ ادريس اخبرنا حصين عن ہلال بن يساف عن عبد الله بن ظالم۔

تيسری سند:

سفيان عن منصور عن هلال عن عبدالله بن ظالم۔

(سننِ ابو داؤد (اردو) جلد 4 روایت 4648)۔

(سنن الکبریٰ للنسائی (عربی) جلد 7 صفحہ 333)۔

اسناد کا تعاقب: اس روایت کی دوسری اور تیسری سند بھی ہلال بن عبداللہ'سے ہے اور یہ ہم اوپر بیان کر چکے کہ ہلال بھی یساف نے عبداللہ بن ظالم سے سماع نہیں کیا اس لیے ان اسناد میں بھی انقطاع ہے اور یہ روایت بھی منقطع ضعیف ہیں اور ان سے کسی صورت استدلال جائز نہیں۔

چوتھی سند: اس روایت کی چوتھی سند کچھ مختلف الفاظ کے ساتھ ہے جیسا کہ امام ابو داؤد یہ روایت نقل کر کے کہتے ہیں۔

اخبرني عبد الله بن محمد بن عمار قال حدثنا قاسم الجرمی قال حدثنا سفيان عن منصور عن هلال بن يساف عن فلان بن حيان عن عبد الله بن ظالم قال۔

(سنن الکبریٰ للنسائی (عربی) جلد 7 صفحہ 332)۔

اسناد کا تعاقب: یہ سند بھی ثابت نہیں کیونکہ اس میں ہلال بن یساف کا شیخ ابنِ حیان مجہول ہے جیسا کہ امام ابنِ حجرؒ اس کے بارے میں فرماتے ہیں۔

'غیر معروف ہے اس کا نام بھی ذکر نہیں کیا گیا۔

(تقریب التہذیب (اردو) جلد 2 صفحہ 508)۔

اور امام بخاریؒ بی عبداللہ بن ظالم کے ترجمہ میں ان روایات کے بارے میں فرماتے ہیں۔

'اس نے دس لوگ جنت میں جائیں گے والی روایت نقل کی ہے (پھر اس سے منقول اسناد کا ذکر کرتے ہیں کہ) ہلال بن یساف عن عبداللہ بن سعید اور بعض میں ابنِ حیان کا اضافہ ہے (پھر فرماتے ہیں) اور یہ روایات صحیح نہیں ہیں۔

(التاریخ الکبیر للبخاری (عربی) جلد 5 صفحہ 124'125)۔

صفحہ 1 از 7