سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث نہیں

  محمد ذوالقرنین

صفحہ 2 از 3

 چوتھی دلیل: شیعہ اس اعتراض پر چوتھی دلیل کے طور پر علامہ بدرالدین عینیؒ کا قول پیش کرتے ہیں جو کہ کچھ یوں ہے۔

علامہ عینیؒ کہتے ہیں:

(بخاری) کا باب ذکر سیدنا معاویہؓ فضیلت سیدنا معاویہؓ پر دلالت نہیں کرتا اگر یہ کہا جائے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں تو بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں تو میں کہوں گا ہاں لیکن وہ اسناد کے لحاظ سے صحیح نہیں ہیں اور یہی بات امام ابنِ اسحاقؒ اور امام نسائیؒ نے کی ہے اسی لیے امام بخاریؒ نے ذکر سیدنا معاویہؓ کا باب قائم کیا یہ نہیں کہا کہ فضیلت یا مناقب سیدنا معاویہؓ کا باب۔

(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری (عربی) جلد 16 صحفہ 343)۔

 عینیؒ کے قول کا جواب: اول تو علامہ عینیؒ سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت کے منکر نہیں ہیں کیونکہ اس قول سے اوپر کی روایت جو سیدنا ابنِ عباسؓ سے مروی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ وہ خود فقیہ ہیں کے بارے میں علامہ عینیؒ کہتے ہیں 

یه روایت سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے جو ان کو نبیﷺ کی صحبت سے حاصل ہوئی۔

(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری (عربی) جلد 16 صحفہ 342)۔

دوسری بات یہ کہ علامہ عینیؒ نے ان منکر و موضوع روایات کا رد کیا ہے جو سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں نواصب نے گھڑی ہیں۔

اور علامہ عینیؒ کو صحیح بخاری میں موجود باب ذکر سیدنا معاویہؓ کے بارے میں خطاء لاحق ہوئی ہے کہ امام بخاریؒ نے ذکر سیدنا معاویہؓ کا باب قائم کیا ہے تو یہ باب فضیلت سیدنا معاویہؓ پر دلالت نہیں کرتا یہ علامہ عینیؒ کی خطاء ہے کیونکہ اگر اس بات کو مانا جائے تو پھر امام بخاریؒ نے دیگر کئی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں بھی یوں ہی باب قائم کیے ہیں جیسے ذکر سیدنا اسامہ بن زیدؓ ذکر سیدنا ابنِ عباسؓ ذکر سیدنا جریر بن عبد اللّٰہ البجلیؓ ذکر سیدنا حذیفہ بن یمانؓ۔

اب اگر علامہ عینیؒ کی اس بات کو قبول کیا جائے تو اسی طرح ان دوسرے جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جن میں سیدنا ابنِ عباسؓ سیدنا حذیفہ بن یمانؓ سیدنا اسامہ بن زیدؓ شامل ہیں ان کے بارے میں بھی یہی کہنا ہوگا کہ یہ باب ان کی فضیلت پر بھی دلالت نہیں کرتا جو کہ ممکن نہیں۔

اور رہی بات کہ علامہ عینیؒ نے امام ابنِ اسحاقؒ اور امام نسائیؒ کا بھی یہی موقف ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو امام ابنِ اسحاقؒ اور امام نسائیؒ کی طرف منسوب ان اقوال کی حقیقت ہم اوپر بیان کر چکے ہیں۔

 پانچویں دلیل: شیعہ اپنے اس اعتراض پر پانچواں دلیل کے طور پر امام سیوطیؒ کا قول پیش کرتے ہیں۔ 

امام سیوطیؒ کہتے ہیں:

امام بخاریؒ نے باب ذکر سیدنا معاویہؓ قائم کیا ہے نہ کہ منقبت (فضیلت سیدنا معاویہؓ) کا کیونکہ سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی صحیح روایت نہیں جیسا کہ امام اسحاقؒ نے کہا ہے۔

(التوشيح شرح الجامع الصحیح (عربی) جلد 6 صحفہ 2379)

 سیوطیؒ کے قول کا جواب:

امام سیوطیؒ نے بھی امام اسحاق بن راہویہؒ کے قول کو نقل کیا ہے جس کی حقیقت ہم اوپر بیان کرچکے ہیں کہ یہ قول صحیح نہیں اور امام سیوطیؒ نے بھی امام بخاریؒ کے قائم کردہ باب سے وہی استدلال کیا ہے جو علامہ عینیؒ نے کیا اور ہم بیان کر چکے کہ یہ استدلال درست نہیں۔

رہی بات علامہ سیوطیؒ کے نزدیک سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں صحیح احادیث ہونے کی تو اس کا ذکر علامہ سیوطیؒ نے خود کیا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں صحیح احادیث موجود ہیں جیسا کہ انہوں نے خود فرمایا ہے۔

سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں وارد احادیث میں بہت ہی کم احادیث ثابت ہیں (یعنی بہت کم احادیث صحیح سند سے ثابت ہیں)۔ 

(التاریخ الخلفاء (عربی) صحفه 155)۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امام سیوطیؒ کے نزدیک سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں صحیح روایات موجود ہیں اور دوسری کتاب میں انہوں نے جو قول نقل کیا ہے وہ امام اسحاقؒ کی طرف منسوب قول نقل کیا ہے جو ثابت نہیں اور انہوں نے بخاری کے باب کے حوالے سے علامہ عینیؒ والی ہی بات کی جو کہ قابل استدلال نہیں۔

اس سب سے ثابت ہوتا ہے کہ علامہ عینیؒ اور امام سیوطیؒ سیدنا امیر معاویہؓ کے فضیلت کے منکر نہیں تھے انہوں نے بخاری کے باب میں ایک غیر ثابت شدہ قول نقل کیا اور ان کو اس باب سے غلطی لاحق ہوئی کہ اس باب کو فضیلت پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔

اس سب سے ثابت ہوتا ہے کہ اس اعتراض پر پیش کیے جانے والے اقوال جو امام نسائیؒ امام عبد اللہ بن مبارکؒ اور امام محمد بن اسحاق راہویہؒ کی طرف منسوب ہیں وہ سب باطل ہیں اور علامہ عینیؒ اور جلال الدین سیوطیؒ نے بھی یہی اقوال نقل کیے ہیں جن سے استدلال جائز نہیں اور علامہ عینیؒ اور امام سیوطیؒ سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت کے منکر نہیں جیسا کہ ہم اوپر ثابت کر چکے ہیں۔ 

چھٹی دلیل: بعض شیعہ ابنِ تیمیہ کے دو اقوال بھی بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ ابنِ تیمیہ نے کہا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے اور ان کی فضیلت میں نبیﷺ سے مروی تمام احادیث گھڑی گئی ہیں۔

جیسا کہ ابنِ تیمیہ لکھتے ہے:

ایک گروہ نے سیدنا امیر معاویہؓ کے فضائل گھڑے ہیں انہوں نے اس سلسلے میں نبیﷺ سے احادیث روایت کی ہیں جو سب کی سب جھوٹی ہیں۔

(منہاج السنة النبوية (عربی) جلد 4 صحفہ 400)

ایک اور مقام پر ابنِ تیمیہ کہتا ہے۔

خصوصاً سیدنا امیر معاویہؓ کی فضیلت کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں سوائے ان کا غزوہ تبوک غزوہ حنین اور حجتہ الوادع میں نبیﷺ کے ساتھ ہونے کے اور کاتبِ وحی ہونے کے۔

(منہاج السنة النبوية (عربی) جلد 7 صحفہ 40)۔ 

 ابنِ تیمیہ پر ہمارا موقف: ہمارے لئے ابنِ تیمیہ کے یہ اقوال حجت نہیں اور نہ ہی ابنِ تیمیہ ہمارے نزدیک کوئی معتبر شخصیت ہے ابنِ تیمیہ کے اقوال کے جوابدہ اس کو ماننے والے ہی ہیں ہمارے نزدیک ابنِ تیمیہ ایک بددین اور گمراہ شخص ہے۔

جیسا کہ امام اہلِ سنت امام احمد رضا خان بریلویؒ ایک مسئلہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

کیونکہ اس کا قائل بلاشبہ بدعتی گمراہ ہے ابنِ تیمیہ جو کہ ایک گمراہ ہے اس کا نقل کرنا اس کی تائید کرتا ہے (کہ ابنِ تیمیہ ایک گمراہ شخص ہے)۔

(فتاویٰ رضویہ شریف جلد 27 صحفہ 468)۔

صفحہ 2 از 3