حسینی رسومات ائمہ کے عہد میں نہ تھے - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

حسینی رسومات ائمہ کے عہد میں نہ تھے

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 2

’’اس دور میں یہ لوگ کسی ایک کے گھر میں جمع ہو کر اشعار پڑھتے اور اہل بیت کے پرسا میں احادیث پڑھ کر سناتے تھے۔ جبکہ دوسرے یعنی سامعین زار و قطار روتے تھے، لیکن یہ سب کچھ کمال راز داری اور تقیہ کے ساتھ ہوتا تھا کہ کہیں ظالم حکومتیں ان پر غضب ناک ہو کر ان کے سر قلم نہ کر دیں۔‘‘ (الشعائر الحسینیۃ: صفحہ 98)

لیکن موصوف شیرازی کا یہ قول ردّ ہے کیونکہ موصوف نے اپنی اس عبارت کا کوئی حوالہ ذکر نہیں کیا۔

 دوسرا دَور:

یہ بنو عباس کا دور ہے۔ شیرازی اس دور کا خوب شکویٰ کرتا ہے اور کہتا ہے:

’’چنانچہ امام شہید پر نوحہ کی مجالس میں وسعت آئی اور منبروں پر مرثیہ خوانی علی الاعلان ہونے لگی۔ البتہ یہ سب کچھ ایک محدود ماحول میں ہوتا تھا، جو تحریک تشیّع سے جدا تھا۔‘‘ (ایضاً)

میں کہتا ہوں کہ موصوف کا یہ قول بھی ردّ ہے، کیونکہ وہ خود اس بات کا اقرار کر رہا ہے کہ یہ نوحہ خوانی وغیرہ تحریک تشیّع سے جدا تھی، تب پھر اس بات سے استشہاد اور استدلال چہ معنی دارد؟!!

 تیسرا دَور:

موصوف شیرازی لکھتا ہے:

’’یہ بویہیین، دیالمہ اور فاطمیوں کا دور ہے۔ بالخصوص معز الدولہ دیلمی کا دور جنہوں نے دہشت گردی کا شیوہ اختیار کیا، کھل کر سبائی طاقت کا مظاہرہ کیا اور اہل تشیع کو ماتمی اور نوحہ و مرثیہ خوانی کی مجالس گھروں سے نکال کر گلی کوچوں اور سڑکوں پر لے آنے کی کھلی اجازت دی۔ اب دس محرم کو حکومتی سطح پر سوگ منایا جانے لگا۔ چنانچہ اس وقت دکانیں بند کر دی جاتیں اور ایک منظم طریق سے مختلف گلیوں، راستوں اور کھلے میدانوں میں ماتمی جلوس نکالے جاتے تھے۔‘‘ (الشعائر الحسینیۃ: صفحہ 99)

 چوتھا دَور:

یہ صفویوں اور بالخصوص علامہ مجلسی کا دور ہے، جس نے اہل تشیع کو اپنے تمام شعائر اور رسوم آزادی کے ساتھ ادا کرنے کی زبردست ترغیب دی۔ اس دَور میں واقعۂ کربلا کے المیہ کو ڈرامائی انداز میں نقل کر کے دکھانے کی بدعت کا بھی آغاز کیا گیا۔ (الشعائر الحسینیۃ: صفحہ 99)

 پانچواں دَور:

موصوف شیرازی لکھتا ہے:

’’یہ متاخرین فقہاء کا دور ہے۔ جن میں سرفہرست شیخ مرتضی انصاری اور آیت اللہ دربندی کے نام آتے ہیں۔ اس دور میں سینہ کوبی اور زنجیر زنی کے جلوسوں کو کثرت کے ساتھ نکالا جاتا تھا۔‘‘ (ایضاً)

اس کے بعد شیرازی بھی تبریزی، اصفہانی اور فانی کی طرح اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ

’’اگر ان لوگوں کو ائمہ کے ادوار میں آزادی میسر آئی ہوتی تو وہ ان شعائر کو آج سے کہیں زیادہ قائم کرنے والے ہوتے، لیکن انہیں ان اَدوار میں آزادی نصیب نہ ہو سکی، گو کہ اہل تشیع اس معاملہ میں ہر دَور میں بے حد حساس رہے ہیں۔‘‘ (الشعائر الحسینیۃ: صفحہ 100)

شیرازی کا یہ قول کہ ’’یہ لوگ ان شعائر کو قائم کرتے جو انہوں نے آج قائم کر رکھے ہیں ‘‘ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یہ رسومات ان اَدوار میں ناپید تھیں۔

معلوم ہوا کہ ان شعائر و رسومات کا نہ تو نبی کریمﷺ نے حکم دیا اور نہ یہ ائمہ کے اَدوار میں تھیں، تب پھر یہ ان بدعات میں سے ہیں، جن سے نبی کریمﷺ نے یہ فرما کر ڈرایا ہے:

’’نئی نئی باتوں سے بچو کہ ہر نئی بات بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں جائے گی۔‘‘

موصوف شیعی مصنف اور اسی طرح ہر شیعی اہل علم کو اس بات کا ادراک حاصل کرنا چاہیے، وہ ان موجودہ رسومات پر نگاہِ غور ڈالے اور ان ماتموں پر پابندی کا ازسر نو جائزہ لے۔

مذکورہ مضمون کو ختم کرنے سے قبل ہم محمد حسین فضل اللہ کے دئیے گئے ایک جواب کو قارئین کی نذرِ نظر کرتے ہیں۔ چنانچہ جب موصوف سے پوچھا گیا کہ حسینی ماتم کی بنیاد کس نے رکھی تھی، تو موصوف اس کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے:

’’حسینی ماتم کی بنیاد ائمہ اہل بیت رضی اللہ عنہم نے رکھی تھی۔ یہ حضرات ان مجالس کا اپنے گھروں میں انعقاد کرتے تھے اور ان لوگوں کو بلواتے، جو رقت آمیز طریقہ سے حسین علیہ السلام پر آنے والی مصیبت کو اشعار کی شکل میں ذکر کرتے تھے۔‘‘ (الندوۃ: جلد، 5 صفحہ 509)

اور ایک موقعہ پر یہ جواب دیتے ہیں:

’’حسینیات کی بنیاد مساجد کے احترام کے تناظر میں ہے۔ لوگوں کو عزاء حسین علیہ السلام کے سننے اور وعظ و ارشاد کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان میں جنبی اور حائض بھی ہوتے ہیں۔ اب چونکہ مساجد کو نجس کرنا جائز نہیں اس لیے حسینیات کو مساجد کے پہلو میں منعقد کیا جاتا تھا۔ یہ سوچ کر ایسا نہیں کیا گیا کہ یہ مساجد میں مجالس کے انعقاد کا بدل ہے۔ بلکہ ایک تو اس میں مساجد کی حمایت و حفاظت ہے، دوسرے کھلی جگہ کا میسر آنا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ آ کر حسینی نوحوں اور ذکر کو سن سکیں اور چاہے مساجد ناپاک بھی ہو جاتی ہوں۔ ہم نہیں جانتے کہ حسینیات کی ابتدا کب سے ہوئی ہے۔‘‘ (الندوۃ: جلد، 4 صفحہ 478-479)

ذرا موصوف کی قلابازیوں کا نظارہ تو کیجیے کہ ابتدا میں حسینیات کے آغاز کو ائمہ اہل بیت کے سر دھرتے ہیں، جبکہ آگے چل کر صاف مکر جاتے ہیں اور دو باتوں کو ان حسینی رسومات کی تاسیس کی وجہ قرار دیتے ہیں:

(1) مساجد کا احترام

(2) جگہ کی وسعت

جبکہ اخیر میں چل کر صاف کہہ جاتے ہیں کہ ان رسومات کی بنیاد کس نے رکھی، ہمیں معلوم نہیں۔


صفحہ 2 از 2