بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء - دفاعِ اہلِ…

بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 9 از 12

بلاشبہ شوریٰ حکومت اسلامیہ کے وسائل میں سے ایک وسیلہ ہے، لیکن شوریٰ اس وقت ہی سود مند ہے جب ایک اسلامی معاشرہ حدود شرعیہ اور امت کے بلند تر مصالح کی رو رعایت کرنے پر بھی آمادہ ہو۔ روایتی شوریٰ اور نظریاتی انتخابات نے امت مسلمہ کو کس قدر نقصان پہنچایا ہے، اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے۔ کتنے ہی سنگ دل، بے رحم، سرکش، ہٹ دھرم، باغی و طاغی سرکش رہنما نظریاتی انتخابات کی راہ سے اقتدار تک پہنچے اور امت کی قسمت پر براجمان ہو کر بیٹھ گئے۔ حالانکہ وہ لوگ شوریٰ اور آزادانہ انتخابات کے بدترین مخالف ہوتے ہیں۔ ان لوگوں نے امت کے سینے میں جو چرکے لگائے تاریخ کے اوراق ان کی داستانوں سے معمور ہیں۔

اس بنا پر واجب ہے کہ حکومت کے وسیلہ کی منہجیت کا مدار اولویت ہو، نہ کہ اولویت حکومت تک پہنچنے کے وسیلہ کا مدار ہو، ایک مسلمان کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کی حکومت شرعی حکومت ہو جو عقیدہ و دین کی نصوص پر کاربند ہو، نہ یہ کہ ایک حاکم نام کا تو مسلمان ہو لیکن اس کا طرزِ حکومت لا دین، ملحدانہ اور لبرل وغیرہ ہو۔ دوسرے یہ کہ اولویت دستور اسلامی کو مستحکم کرنے اور اس کو نافذ العمل بنانے کے لیے ہو جبکہ حکومت کا حصول اور حاکم کی آزادی اس کے نزدیک ثانوی درجے میں ہو۔ نظام شوریٰ کو جہاں نظامِ اسلام کے حصول و تنفیذ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، وہیں اس کو جماعت، وطن، قوم قبیلہ اور فرقہ کی نصرت و حمایت کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ نصوص شرعیہ پر مشتمل دستورِ اسلامی کے ساتھ، جس میں رعایا حکام کی گردنوں پر مسلط ہو، ایک ایسی امت میں کھلواڑ کرنا ممکن نہیں جو اپنے عقیدہ کا احترام کرتی ہو اور اپنے اہداف و مقاصد کو جانتی پہچانتی اور سمجھتی ہو۔ اسلام میں شوریٰ کا حقیقی ہدف یہی ہے۔ امت پر لازم ہے کہ وہ اس کو سیکھے، سمجھے، اس سے محبت کرے اور اسی کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالے۔

اس سب کے بعد ہم یہ کہتے ہیں کہ ہماری یہ تمنا ہے کہ کاش اس مرحلہ میں امت شوریٰ کی تطبیق کر سکتی اور ایک ایسے شخص کو مسند خلافت پر بٹھاتی جو ہر اعتبار سے یزید سے بہتر اور معزز و موقر ہوتا تو یقینا پوری امت اس پر راضی بھی ہوتی اور وہ شخص فتنوں اور مصائب سے امت کی آڑ اور ڈھال بھی بنتا۔ لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا۔

تب پھر ہم صرف یہی کہہ سکتے ہیں اور انہی الفاظ کے ساتھ ان حالات و واقعات اور مصائب و حوادث کی تعزیت کر سکتے ہیں کہ امت نے تو اپنا زور پورا لگایا اور نہ شوریٰ نے کوئی کوتاہی کی، لیکن جو تقدیر میں لکھا تھا وہ ہو کر رہا۔

یہی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی شدید خواہش تھی کہ امت ان کے وفات پا جانے کے بعد اسی پر کاربند رہے۔ اس کی تائید و تاکید اس خط سے ہوتی ہے جو یزید نے مدینہ کے والی ولید بن عتبہ بن ابی سفیان کو لکھا تھا کہ

’’لوگوں کو بیعت کی دعوت دو، ابتدا قریش کے اشراف سے کرنا۔ لیکن ان میں سے بھی پہل حسین بن علی سے کرنا۔ کیونکہ امیر المومنین معاویہ (رضی اللہ عنہ) نے مجھے ان کے ساتھ نرمی کرنے اور حسن سلوک کرنے کی وصیت کی تھی۔‘‘ (مختصر تاریخ دمشق، باب جوامع حدیث مقتل الحسین: جلد، 5 صفحہ 440)

ولید نے یزید کا خط ملتے ہی نصف شب کو سیّدنا حسین (رضی اللہ عنہ) اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو بلوا بھیجا اور انہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر دے کر یزید کی بیعت کر لینے کا مطالبہ کیا۔ دونوں نے جواب میں صبح تک مہلت مانگ لی کہ دیکھیے، صبح کو لوگ کیا کرتے ہیں اور نکل گئے۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نکلتے ہوئے یہ کہا:

’’ہم یزید کو جانتے ہیں، نہ اس میں حزم و احتیاط ہے اور نہ مروت۔‘‘

ولید نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے ذرا سختی سے بات کی تھی، جس کے جواب میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اسے برا بھلا کہا اور اس کا عمامہ پکڑ کر سر سے اتار پھینکا، جس پر ولید کہنے لگا:

ہم نے ایک شیر کو برانگیختہ کیا ہے۔‘‘

جب ولید گھر پہنچا، تو اس کی بیوی اسماء بنت عبدالرحمن بن حارث بن ہشام کہنے لگی: کیا تم نے حسین (رضی اللہ عنہ) کو گالی دی؟ ولید نے کہا: ابتدا انہوں نے کی تھی۔ جس پر اسماء کہنے لگی: اچھا چلو حسین (رضی اللہ عنہ) کی گالی کا جواب تم نے ان کو گالی دے کر دے دیا، لیکن اگر وہ تیرے باپ کو گالی دیں، تو کیا تم بھی ان کے باپ کو گالی دو گے؟ ولید نے کہا: نہیں!

سیدنا حسین اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما اسی رات مکہ کو نکل گئے۔ صبح لوگوں نے یزید کی بیعت کر لی۔ جب سیدنا حسین اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو طلب کیا گیا، تو معلوم ہوا کہ وہ دونوں تو راتوں رات مکہ نکل گئے ہیں۔ مکہ پہنچ کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے گھر جا اترے۔ (تہذیب الکمال للمزی: جلد، 6 صفحہ 415 تاریخ دمشق لابن عساکر: جلد، 14 صفحہ 207)

یہ روایات بیان کرتی ہیں کہ خلافت کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے مطالبہ اور معاملہ بے حد نرمی کا تھا جس کا ثبوت مدینہ کے والی کے رویے سے ہوتا ہے، جو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا بھائی اور نئے خلیفہ کا چچا تھا، حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اس کے سر سے عمامہ اتار پھینکا، لیکن اس نے جواب میں کچھ نہ کہا اور نہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے اس فعل پر ان کا کوئی مواخذہ کیا، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بنو امیہ کے دل آل بیت رسول کی بابت سلامتی سے معمور تھے اور یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اہل ایمان کے درمیان اختلاف رائے جائز ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اس دور کے خاص و عام سب کے سب جناب حسین رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ سے بخوبی واقف تھے، لیکن افسوس کہ اعدائے صحابہ نے مسلمانوں کی باہمی صلہ رحمی اور مودت و محبت کو ختم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔

صفحہ 9 از 12