بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء - دفاعِ اہلِ…

بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 8 از 12

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اونچے اور جلیل القدر کردار پر انگلیاں اٹھانے والے اور شوریٰ شوریٰ کا نام لے کر ٹسوے بہانے والے اور جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ غل مچانے والے کہ انہوں نے شوریٰ کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا تھا، خود کو یوں ظاہر اور پیش کرتے ہیں، جیسے امت کی شیرازہ بندی کا سہرا انہی کے سر ہے اور جیسے روم کی سرکشی اور خودسری کو کچل کر خاک میں ملانے والے یہی جغادری اور خون آشام معرکوں کے شہسوار ہیں اور ان کے یہ کارنامے سیّلدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے کارناموں سے کسی طرح کم نہیں جو روزِ قیامت تک کبھی فراموش نہ کیے جا سکیں گے، لیکن افسوس کہ یہ حضرات یہ بات یکسر بھول جاتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تو سب سے زیادہ شوریٰ پر عمل کرنے والے تھے اور یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت تو شوریٰ سے ہی تعبیر تھا۔ لیکن کوئی سچ بولنا اور انصاف کا دامن تھامنا بھی چاہے تو تب نا!!

کیا اس حقیقت سے انکار ممکن ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کے انتخاب کی بابت کس کس سے مشورہ نہ کیا؟ کس کس دروازے پر دستک نہ دی؟ کیا ہر قبیلہ کی طرف وفود نہ بھیجے؟ کیا لوگوں سے رائے نہ لی گئی اور انہوں نے اپنی آراء پیش نہ کیں؟ کیا اقالیم و قبائل کے وفود نے آ آ کر اس مسئلہ میں شرکت نہ کی اور اپنی رضا کا اظہار کر کے برکت کی دعائیں نہ دی تھیں؟ تاریخ کی کتابیں ان کے ذکر سے معمور ہیں۔ (دیکھیں: تاریخ الطبری: جلد، 3 صفحہ 248)

ان واقعات کے تناظر میں برملا کہا جا سکتا ہے کہ یزید کا استخلاف شوریٰ سے تھا، جس میں اغلبیت کی رائے ثابت ہے گو اجماعِ تام نہیں ملتا۔ لیکن پھر بھی نکتہ چینوں اور طعنہ زنوں کے لیے انگشت نمائی کی گنجائش نہیں ملتی۔ لیکن اگر بات افضلیت کی کی جائے کہ اس وقت ولایت کے زیادہ لائق کون تھا، تو بلاشبہ اس وقت ایک نہیں ہزاروں بلکہ بے شمار ایسے ’’رجال‘‘ امت میں موجود تھے، جو ہر اعتبار سے یزید سے زیادہ امر خلافت کے اہل اور لائق تھے۔ لیکن امت نے اس فیصلے کو قبول کیا، اہل قوت و شوکت نے اس کی موافقت کی اور اس پر راضی رہے۔ اس مقام پر ہم بغیر صحیح معلومات کے غلط سلط باتیں پھیلانے والے کو صرف یہی کہہ سکتی ہیں کہ وہ کسی ثبوت کے بغیر بہتان طرازی، الزام تراشی، کردار کشی اور کسی بھی واقعہ اور حادثہ کی غلط عکاسی اور منظر کشی کرنے سے گریز کرے۔

جب حقیقت کا ان دونوں پہلوؤ ں سے صرفِ نظر کرتے ہوئے قرار واقعی جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے علم و تجربہ، فراست و مہارت اور تدبر و سیاست کے ذریعے سے صحیح رہنمائی کی، لوگوں کو قریب کیا، ان سے مشورہ لیا اور انہیں مشورہ میں شریک کیا، جس پر لوگوں نے انہیں مشورہ دیا اور برکت کی دعا دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ فتنہ کا دروازہ کسی طور پر بھی کھلا نہ رہنے دیجیے گا۔ بعد کے واقعات جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے و فہم کی تصویب کرتے ہیں۔ چنانچہ جیسے ہی یزید راہی ملک عدم ہوا امت کی وحدت کی لڑی ٹوٹ کر بکھر گئی اور اطراف و اکناف میں فتنوں کی آگ بھڑک اٹھی اور اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ شوریٰ کے نظام کو یزید نے معطل کر دیا تھا، تو یزید کی وفات کے بعد اب شوریٰ نے آگے بڑھ کر اپنا کردار کیوں نہ ادا کیا اور امر خلافت کے لیے امت کے رجالِ خیر کو آگے کیوں نہ کیا؟ بالخصوص معاویہ بن یزید بن معاویہؓ کا کردار اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت کی بنیاد ہی شوریٰ پر رکھی تھی۔

چنانچہ معاویہ (بن یزید) یزید کی وفات کے بعد ربیع الاول 64 ہجری میں خلیفہ منتخب ہوا۔ معاویہ کی کنیت میں اختلاف ہے، ابو عبدالرحمن، ابو یزید اور ابو لیلیٰ تین نام کتب تاریخ میں ملتے ہیں۔ جب معاویہ (بن یزید) کا انتقال ہونے لگا تو لوگوں نے کہا: آپ اپنے بعد کسی کو خلیفہ نام زد کیوں نہیں کر جاتے؟ تو کہنے لگا: ’’میں نے خلافت کی حلاوت تو چکھی نہیں اور اس کی تلخی جھیل نہیں سکا۔‘‘ (تاریخ الاسلام للذہبی: جلد، 1 صفحہ 565 تاریخ الخلفاء للسیوطی: جلد، 1 صفحہ 182)

اس کے بعد خلیفہ کے اختیاری معاملہ کو بالکلیہ طور پر امت کے حوالے کر دیا اور اپنے کسی قول و فعل سے خلیفہ کے اختیار و انتخاب میں دخل تک نہ دیا۔

معاویہ(بن یزید) نے خلیفہ بننے کے بعد اپنے باپ کے مقرر کیے کسی عامل کو ہرگز نہ بدلا۔ معاویہ ایک خوبرو، سرخ و سپید، نیک سیرت نوجوان تھا۔ اکیس سال کی مختصر سی زندگی پا کر داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔ عثمان بن عنبسہ بن ابی سفیان نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ جب بنو امیہ نے ابن عثمان کو خلیفہ بنانا چاہا، تو انہوں نے انکار کر دیا اور اپنے ماموں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے جا ملے۔ (اریخ الاسلام للذہبی: جلد، 1 صفحہ 565)

امر خلافت ایک بار پھر شوریٰ کے ہاتھ میں تھا۔ تو اب کی بار بھی شوریٰ نے خلافت کے لیے خیر امت کا انتخاب کیوں نہ کیا؟ جیسا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر حرف گیری کرنے والوں کا شب و روز کا وظیفہ ہے؟ یا ان لوگوں کو شوریٰ کی بابت چرب زبانی کرنے میں مزا آتا ہے اور وہ بھی ان باتوں کے علم کے بغیر کہ

شوریٰ کے رجال کون ہوتے ہیں؟

شوریٰ کی مجلس کیسی ہوتی ہے؟

شوریٰ کے اخلاق و ضوابط کیا ہیں؟!!

ان لوگوں نے خلافت اسلامیہ کے شورائی نظام کو معاصر انتخابات جیسا سمجھ لیا ہے جو نظریاتی ہیں، جن میں امت کی اور دین کی کسی مصلحت کی رو رعایت نہیں ہوتی۔ کیا آج مشرق یا مغرب میں کوئی شخص جماعتی، ملکی اور مفاد پرستانہ جذبات سے خالی اور پاک ہو کر بھی انتخابات لڑ سکتا ہے؟ کیا آج انتخابات کا کوئی امیدوار اِن سیاسی اور فکری ہلاکت آفرینیوں کی دلدلوں میں گھسے بغیر بھی اپنی مراد تک پہنچ سکتا ہے؟ کیا آج کے ہر ضابطۂ اخلاق سے آزاد انتخابات خلافت اسلامیہ کے نظامِ شوریٰ سے ادنیٰ سی بھی مماثلت رکھتے ہیں؟!!

صفحہ 8 از 12