بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء - دفاعِ اہلِ…

بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 7 از 12

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تعاون و تواصل اور دلوں کی شفافیت کے اس ماحول اور حال کو باقی رکھنے پر بے حد حریص تھے اور آپ یہ بھی جانتے تھے کہ یہ اہل کوفہ جو فتنوں اور شرارتوں کے سرغنہ ہیں، وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو خلافت کے حصول پر بھڑکانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہ دیں گے اور آپ نے حالات کے تناظر سے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ بالآخر ایسا ہو کر رہے گا اور آپ کو یہ بھی بخوبی علم تھا کہ اس میں جناب حسین رضی اللہ عنہ اپنی نیک نیتی کی بنا پر عذر پر ہوں گے اور اس امر کے اصل مجرم جناب امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے قاتل، سکہ بند شریر کوفی ہوں گے۔

چنانچہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں اس بات کا شدید اہتمام رکھا کہ امت پر جناب حسین رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کو خوب خوب اجاگر کریں اور کسی بھی طور پر ان کے ساتھ تصادم کی صورت پیدا نہ ہونے دیں۔ آپ کی شدید تمنا تھی کہ اس بات کا اہتمام پوری تاکید کے ساتھ آپ کی وفات کے بعد بھی رہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے مرض الموت میں اپنے بیٹے یزید کو بلا کر اسے تاکید کے ساتھ وصیت کرتے ہوئے فرمایا:

’’حسین بن علی، فاطمہ بنت رسول اللہﷺ کے لخت جگر کو دیکھنا۔ وہ لوگوں کو سب سے زیادہ محبوب ہیں، ان سے صلہ رحمی کرنا، نرمی کا برتاؤ کرنا، تمہارے لیے ان کا معاملہ درست رہے گا اور اگر ان سے کسی بات کا صدور ہو تو مجھے امید ہے کہ اللہ تمہیں ان سے ان لوگوں کے ذریعے سے کافی ہو جائے گا، جنہوں نے ان کے باپ کو قتل کیا اور ان کے بھائی کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔‘‘

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پندرہ رجب 60 ہجری کو وفات پائی اور لوگوں نے ان کے بعد یزید کی بیعت کی۔ (مخصر تاریخ دمشق، باب جوامع حدیث مقتل الحسین: جلد، 2 صفحہ 440) سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے زندگی بھر اپنے سب والیوں اور گورنروں کے سامنے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی بابت اپنا یہی منہج قائم رکھا، اسی کی تاکید کے ساتھ یزید کو وصیت بھی کی اور یزید نے بھی اسی نہج کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی اپنی سی بھرپور کوشش کی۔ لیکن اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں کہ یزید میں اپنے والد ماجد کا سا سیاسی تدبر، معاملہ فہمی، صبر و سیادت اور زمامِ حکومت سنبھالنے کا تکلف اور بناوٹ سے خالی سلیقہ اور طریقہ نہ تھا اور نہ لوگ اسے اس نگاہ سے دیکھتے تھے جیسے وہ اس کے والد کو دیکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ امت مسلمہ کے تین جلیل القدر صحابہ اور بزرگوں، سیدنا حسین، سیدنا ابن زبیر، اور سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر الصدیق رضی اللہ عنہم نے یزید کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے نزدیک یزید کا انتخاب شوریٰ کی حقیقت اورروح سے خالی تھا اور نہ حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی سیرت سے میل ہی کھاتا تھا۔ ان حضرات نے امر خلافت کے لیے اپنی اولادوں کو آگے نہ کیا تھا۔ جبکہ باقی امت نے یزید کی بیعت کر لی جو معروف ہے۔

یزید کی خلافت کی بابت شوریٰ پر ہمارا یہ نقد برحق ہے خواہ اس میں جمہور امت بھی شامل تھی۔ لیکن یزید کا استخلاف اس تناظر میں نہ تھا بلکہ امت کی وحدت اور اس کی سلامتی کے تناظر میں تھا۔ اگر سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے اس اجتہاد کو کہ دو نقصانوں میں سے ہلکے کو اختیار کیا جائے، ترک کر دیتے تھے تو خلافت کے کئی امیدوار کھڑے ہو جاتے اور ہر ایک کو اعوان و انصار اور یار و مددگار بھی میسر آ جاتے۔ بھلا بتلائیے کہ ان سب کو ایک کون کرتا، اس پر مستزاد یہ کہ خوارج کب سے تاک میں بیٹھے تھے کہ جس طرح بھی بن پڑے امت مسلمہ کے عقیدہ و ایمان کے وجود میں بدعت و سبائیت کے پنجے گاڑ دئیے جائیں۔ اس لیے اگرچہ یزید کا انتخاب افضل نہ تھا لیکن ضرر میں کم اور وحدت امت کا ضامن زیادہ تھا۔ جیسا کہ سیدنا یسیر بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات مذکور ہو چکی ہے۔ اس لیے ہمارا یہ کہنا بے جا نہیں کہ یزید کے انتخاب کی بابت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر زبان چلانے والوں نے اس امر کا صرف ایک زاویہ سے ہی جائزہ لیا ہے۔ جبکہ وہ امت کی واقعیت اور حقیقت احوال سے جاہل ہیں بلکہ وہ امت کی گھات میں بیٹھے دشمن کوفیوں کی باطنیت اور مکر و ایہام سے تجاہل برت رہے ہیں۔ لیکن صحیح نتیجہ تک پہنچنے کے لیے کینہ، حسد، خود غرضی، نفس پرستی، خود رائی، لاچارگی اور جہل و بے علمی سے خالی ہونا بھی تو ناگزیر ہے۔

میرا پختہ یقین ہے کہ ایک دانا و بینا ذی ہوش مومن سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی امت سے محبت اور اس کی وحدت کی شدید حرص کے دامن پر تہمت کا کوئی داغ لگانے کی جرأت ہرگز بھی نہ کرے گا اور یہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ جیسے دو خلفائے راشدین کے بعد کس نے امت کو متحد کیا؟ کس نے امت کو دوبارہ اس کی عزت و رفعت پر متمکن کیا؟ کس نے از سر نو فتوحات کا وسیع تر سلسلہ جاری کیا؟ کیا تاریخ کسی ایسے شخص کا پتا بھی دیتی ہے جس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مصاحبت اختیار کرنے کے بعد ان سے اکتا کر اور دل آزردہ ہو کر انہیں اور جماعت کو چھوڑ دیا ہو؟ کیا ہمیں روزنِ تاریخ سے کوئی محتاج نظر پڑتا ہے، جس کی دورِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں حاجت روائی نہ کی گئی ہو اور اس کی کسمپرسی اور لاچارگی کا مداوا نہ کیا گیا ہو؟ حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے بعد جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے سوا ایسا کون ہے، جس سے امت نے اس طرح محبت کی ہو جیسی اس نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے کی ہے؟ یہ اور نہ جانے اور کتنے فضائل و مناقب ہیں، جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نامۂ اعمال میں درج اور امت کے دلوں پر نقش ہیں جن کا انکار ممکن نہیں، اگرچہ یہ طعنہ زن زبان دراز سبائی سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے مبارک دور کی طرف خود ساختہ کتنے ہی حوادث و مصائب کیوں نہ منسوب کرتے رہیں، جن کی حیثیت اس شور و شغب سے زیادہ کی نہیں، جو دیکھنے یا سننے کے لائق نہیں۔

صفحہ 7 از 12