بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء - دفاعِ اہلِ…

بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 6 از 12

فتنہ گروں کی آپ سے ملاقاتیں بڑھتی گئیں۔ وہ آپ کے سامنے ظلم و ستم کے جھوٹے قصے بیان کر کر کے آپ کی حمیت دینی کو انگیخت کرتے رہے، حتیٰ کہ بالآخر انہوں نے سنت کی مدد کے نام پر -جس سے یہ ہمیشہ بیزار رہتے ہیں- آپ کی حمیت کو مہمیز کر ہی دیا اور ان مکار و عیار کوفیوں کے مزعومہ ظلم و باطل کے قلع قمع کے لیے آپ کو تیار کر ہی لیا، تو جنابِ حسین رضی اللہ عنہ سے کچھ ایسے امور سرزد ہونے لگے، جو آپ کی نیتِ خروج کی غمازی کرتے تھے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حکومت کی طرف سے بعض لوگوں کو آپ کی نشست و برخاست اور حرکات و سکنات پر نظر رکھنے کے لیے مقرر کیا گیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات سے کچھ عرصہ قبل ہی انہیں ان امور کی خبر دمشق لکھ بھیجی۔ انہی خطوط میں مروان بن حکم کا لکھا یہ خط بھی ہے، جس میں انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ

’’مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں حسین (رضی اللہ عنہ) فتنہ کا باعث نہ بن جائیں۔ میں حسین (رضی اللہ عنہ) کی بابت آپ لوگوں کا دن طویل دیکھ رہا ہوں۔‘‘

جس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو وعظ و نصیحت بھرا یہ خط لکھا:

’’جس نے اللہ سے اپنے داہنے ہاتھ سے کوئی عہد کیا ہو، وہ پور کیے جانے کے زیادہ لائق ہے۔ مجھے خبر ملی ہے کہ اہل کوفہ آپ کو شقاق و افتراق کی دعوت دے رہے ہیں۔ ان عراقیوں کو آپ آزما چکے ہیں، یہ وہی تو ہیں جنہوں نے آپ کے والد اور بھائی کے ساتھ بُرا کیا تھا۔ سو اللہ سے ڈریے اور عہد کو یاد رکھیے، جب آپ مجھے تھکائیں گے تو میں آپ کو تھکاؤں گا۔‘‘

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں یہ لکھ بھیجا:

’’آپ کا خط ملا۔ آپ کو میرے بارے میں غلط باتیں پہنچی ہیں۔ نیکیوں کی راہ اللہ ہی دکھاتا ہے۔ میرا آپ سے محاربہ کرنے یا آپ سے اختلاف کرنے کا کوئی ارادہ نہیں اور اگر میں آپ سے جہاد ترک کرتا ہوں، تو رب کے حضور میرے پاس کوئی عذر نہ ہو گا اور میرے نزدیک اس سے بڑا فتنہ نہیں کہ آپ نے اس امت کے امر کی ولایت یزید کے ہاتھ میں دے دی ہے۔‘‘

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ خط پڑھ کر فرمایا:

’’ہم نے ابو عبداللہ پر ایک شیر کو ترجیح دی ہے۔‘‘(مختصر تاریخ دمشق، باب جوامع حدیث مقتل الحسین: جلد، 2 صفحہ 440 البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد، 8 صفحہ 175)

یہ جملہ نصوص بتلاتی ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور خلیفۃ المسلمین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان امور صراحت و باہمی خیر خواہی کی انتہا پر تھے۔ ہر ایک کو بات کی آزادی تھی۔ دورِ معاویہ رضی اللہ عنہ میں جنابِ حسین رضی اللہ عنہ کو کسی بات کا اندیشہ اور کھٹکا نہ تھا، وہ جو چاہتے تھے کہہ دیتے تھے، جس چیز پر چاہتے تنقید کر دیتے تھے۔ انہیں اخذ و ردّ میں آزادی تھی، ان کے قول و فعل کو اعتماد کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان کو نہایت شائستہ نصیحت فرماتے تھے اور ان دونوں بزرگوں میں دقیق و عمیق امور میں خوب صراحت تھی اور ان دونوں بزرگوں میں یہی رویہ اخیر تک قائم رہا۔

جناب حسین رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ سے زیادہ یہ سننے کو ملا کہ وہ خروج پر آمادہ ہیں اور اس کی وجہ بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو پہنچنے والی خبریں تھیں۔ چنانچہ انہوں نے لکھ بھیجا کہ

’’میرا خیال ہے کہ آپ کے دماغ میں ایک خواہش ہے، میں اس کو معلوم کرنا چاہتا ہوں تاکہ میں وہ آپ کو معاف کر دوں۔‘‘ (مختصر تاریخ دمشق، باب جوامع حدیث مقتل الحسین: جلد، 2 صفحہ 440 البدایۃ و النہایۃ لابن کثیر: جلد، 8 صفحہ 175)

یہ امر بتلاتا ہے کہ دورِ معاویہ رضی اللہ عنہ عفو و درگزر اور چشم پوشی کی سیاست کی انتہا پر تھا۔ شاید یہ جناب حسن رضی اللہ عنہ اور جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان منعقد ہونے والی عظیم تر صلح کا ثمرہ تھا اور یہی وہ صلح تھی، جس کی بدولت امت مسلمہ نے مودّت و محبت، اخوت و ہم دردی، باہمی اعتماد و ہم آہنگی اور نیکی و تقویٰ کے کاموں پر ایک دوسرے کی مدد کے ثمرات کو چنا تھا۔

اس دور میں خلافت معاویہ رضی اللہ عنہ اور آل بیت رضی اللہ عنہم کے درمیان تعلقات میں کسی قسم کی رنجش و تکدر کا شائبہ تک نہ تھا، جناب معاویہ رضی اللہ عنہ حضرات حسنین کریمین، حضرت ابن عباس اور حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہم کا اس قدر اکرام کرتے تھے کہ اتنا کوئی دوسرا نہ کرتا تھا۔ جبکہ یہ حضرات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ہر قسم کی خیر خواہی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتے تھے اور جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کا منشا پورا کرنے میں کسی ناگواری کا اظہار تک نہ کرتے تھے۔ بلکہ یہ حضرات تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حلم و بردباری اور لوگوں کے ساتھ ان کے حسن سلوک دیکھ کر ان پر رشک کرتے تھے، جو لوگوں کے دلوں میں ان کے بارے میں کسی کینہ کو باقی رہنے نہ دیتا تھا۔ البتہ کوفیوں کا معاملہ دوسرا تھا، وہ رب کے ہاں سے اور ہی دل لائے تھے جہاں خیر کا گزر تک نہ ہوتا تھا، ان کے دلوں کے کینوں سے امت مسلمہ کا کوئی بزرگ نہ بچ سکا۔ جبکہ دوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ آل بیت رضی اللہ عنہم کو بے کھٹکے جو چاہتے تھے کہہ دیتے تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خوب جانتے تھے کہ آل بیت رضی اللہ عنہم کا امت محمدﷺ میں کیا مقام و مرتبہ ہے اور ان بزرگ ہستیوں کو جناب رسول اللہﷺ سے کتنا قرب حاصل ہے۔ پھر آل بیت حسین رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی چچیری اولاد بھی تھے۔ دونوں کا نسبعبد مناف پر جا کر ایک ہو جاتا تھا۔ اب اس بات میں کیا شک رہ جاتا ہے کہ جو دونوں بھائیوں اور دو چچوں میں صلح اور خیر کے ارادہ کے بغیر زبردستی جا گھسے، وہ دراصل شقاق و نفاق اور انتشار و افتراق کا داعی ہے جو رشتہ داریوں اور قرابتوں کو توڑنا چاہتا ہے۔

صفحہ 6 از 12