بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء - دفاعِ اہلِ…

بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 5 از 12

’’لوگ کہتے ہیں کہ یزید اُمت محمدیہ کا بہتر آدمی نہیں، میں بھی اسی بات کا قائل ہوں ، لیکن بات یہ ہے کہ رب تعالیٰ کا امت محمدیہ کے امر کو متحد رکھنا یہ مجھے اس کے متفرق و منتشر ہو جانے سے زیادہ عزیز ہے، نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: ’’جماعت تیرے پاس خیر ہی لائے گی۔‘‘ (اسد الغابۃ لابن الاثیر، ترجمۃ یُسیر بن عمرو الانصاری رضی اللہ عنہ : جلد، 3 صفحہ 131)

البتہ یہ بات ضرور یاد رہے کہ اس بات کا قائل کوئی بھی نہیں کہ غلبہ کے حصول کے لیے شوریٰ کا یہی منہج ہی سب سے درست ہے۔ حمید ہی سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ یزید کے خلیفہ بننے کے بعد ہم ایک صحابی رسولﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ فرمانے لگے:

’’کیا تم لوگ یہ بات کہتے ہو کہ یزید اس امت کا نہ تو سب سے بہتر آدمی ہے، نہ سب سے زیادہ فقیہ ہے اور نہ سب سے زیادہ معزز ہی ہے؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں ۔ فرمانے لگے: میں بھی یہی کہتا ہوں ، لیکن اللہ کی قسم! مجھے امت محمدیہ کا اتفاق و اتحاد اس کے افتراق واختلاف سے زیادہ عزیز ہے، تمہارا اس دروازے کے بارے میں کیا خیال ہے جس میں ساری امت کے گزر جانے کی گنجائش ہو تو کیا ایک شخص اس میں داخل ہونا چاہے تو کیا داخل نہ ہو سکے گا؟ ہم نے کہا: کیوں نہیں ۔ پھر فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر امت محمدﷺ کا ہر فرد یہ کہے کہ وہ اپنے بھائی کا خون نہ بہائے گا اور نہ اس کا مال ہی چھینے گا۔ کیا یہ اس کے بس میں ہے یا نہیں ؟ ہم نے کہا: ضرور۔ تو فرمایا: یہی وہ بات ہے جو میں تمہیں کہنا چاہتا ہوں۔ پھر فرمایا: نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے: ’’حیا سے تمہیں خیر ہی ملے گی۔‘‘ (تاریخ خلیفہ ابن خیاط: جلد، 1 صفحہ 164 مذکورہ حدیث ’’اسد الغابۃ: جلد، 1 صفحہ 60‘‘ میں موجود ہے)

اس رائے کی درستی اس وقت ہمارے سامنے واضح ہوتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے بے پناہ فضائل و مناقب اور شمائل و محامد کے مالک ہونے، امت محمدیہ میں عظیم تر رتبہ و مرتبہ اور لوگوں کی بے انتہا عقیدت و محبت رکھنے اور علم و فصاحت اور اعوان و انصار کی کثرت ہونے کے باوجود جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے اختیار کی ہوئی ایک بات کو بدلنے کی کوشش کی، تو ایسا نہ کر سکے اور نتیجہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت، شقاق اور فتنوں کے اضافے اور دار الاسلام میں ایک دوسرے کے خلاف اجتہادات کی کثرت کی صورت میں نکلا اور یہی وہ خطرات تھے، جن سے سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ امت کو بچانا چاہتے تھے۔

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ ان کی دقت نظری، باریک بینی، بے پناہ دانائی اور اپنے دور کے حالات کی قرار واقعی تشخیص و تعیین میں غور و تدبر اور فکر و فراست کی راستی و درستی کو بتلاتا ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی اس سیاست و تدبر کی شہادت سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان الفاظ کے ساتھ دیتے ہیں، وہ فرماتے ہیں :

’’میں نے نبی کریمﷺ کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑا سردار نہیں دیکھا۔ کسی نے کہا: کیا ابوبکر اور  عمر رضی اللہ عنہما بھی نہیں؟ تو فرمانے لگے کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما ان سے بہتر تھے اور میں نے نبی کریمﷺ کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑا سردار نہیں دیکھا۔‘‘ (المعجم الکبیر: 13432 المعجم الاوسط للطبرانی: 5769 الآحاد و المثانی لابن عمرو الشیبانی: 516 منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ 430 البدایۃ و النہایۃ: جلد، 7 صفحہ 133) یہ موقعہ ان مسائل کی تفصیل کا نہیں ۔ البتہ اس ذات کا حق پہچاننا بھی ضروری ہے، جس نے اپنے علم، حلم اور دینی غیرت و حمیت کی بدولت پراگندہ امت کی شیرازہ بندی کی اور آراء و اجتہادات کی محاذ آرائی ختم کر کے اعدائے صحابہ کی شورشوں اور یورشوں کے آگے بند باندھ کر رکھ دیا۔ پھر یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ ان جملہ امور میں امت کی مصلحت و عافیت کی بابت مجتہد تھے۔ اس لیے جو دریدہ دہن بھی ان پر موت قریب آ جانے اور قرب و حساب کے سامنے آنے پر اولاد کی محبت کے ہاتھوں مغلوب و مجبور ہو جانے کی تہمت لگاتا ہے، تو بے شک وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ان گزشتہ حسنات پر گھناؤنی تہمت لگاتا ہے، جو انہوں نے جہاد فی سبیل اللہ کرنے، فتنوں کو پیوند خاک کرنے، امت کو متحد کرنے، اس میں امن کو عام کرنے اور اس کی اصلاح احوال کرنے کی راہ میں کی تھیں۔ میں ہرگز بھی یہ گمان نہیں کر سکتا کہ جس شخص کا یہ حال ہو وہ کبھی محض اپنے جذبات کے ہاتھوں مجبور ہو کر امت کی قسمت سے کھلواڑ کرنے کے لیے ایک غلط فیصلہ کرے، خواہ آلِ بیت کی محبت کی آڑ میں ہی سہی۔

دوسری وجہ

ان فتنہ گروں، دغا بازوں اور حضرات صحابہ کرام اور آل بیت رضی اللہ عنہم سے بے پناہ کینہ اور کھوٹ رکھنے والوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے حالات و واقعات کی خلافِ واقعہ منظر کشی کی اور بہتان و جعلسازی سے کام لیتے ہوئے تحریف کرنے اور بھڑکانے اور اکسانے میں بے پناہ مبالغہ کیا۔ ابو سعید مقبری بیان کرتے ہیں:

’’اللہ کی قسم! میں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ دو آدمیوں کے درمیان چل رہے تھے، کبھی وہ اس آدمی کی بات پر اعتماد کرتے، تو کبھی اس دوسرے کی بات پر اور کبھی پھر اس پہلے کی بات پر، یہاں تک کہ مسجد میں یہ شعر پڑھتے ہوئے داخل ہو گئے:

لا ذعرت السوام فی غبش الصب

ح مغیرا و لا دعیت یزیدا

یوم اعطی مخافۃ الموت فیما

و المنایا یرصدننی ان احیدا

’’نہ تو مجھے منہ اندھیرے کسی غارت گر کا ڈر ہے اور نہ مجھے یزید کی بیعت کرنے کو کہا گیا ہے۔ مجھے ڈر ہے تو اس دن کا ہے، جب مجھے ظلم سے مار ڈالا جائے گا اور موت میری تاک میں ہے کہ میں کب تنہا ہوتا ہوں۔‘‘

ابو سعید کہتے ہیں:

’’میں سمجھ گیا کہ اب حضرت حسین رضی اللہ عنہ زیادہ دیر تک نہ ٹھہریں گے اور خروج کر دیں گے۔ پھر تھوڑا عرصہ بھی نہ گزرا کہ انہوں نے خروج کر دیا اور وہ مدینہ سے مکہ چلے گئے۔‘‘ (تاریخ الاسلام للذہبی: جلد، 2 صفحہ 83)

صفحہ 5 از 12