بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء - دفاعِ اہلِ…

بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 4 از 12

’’آدمی کے بارے میں نہ پوچھ بلکہ اس کے مصاحب و ہم نشین کے بارے میں پوچھ کہ آدمی ہمیشہ اپنے ہم مجلس اور ہم صحبت کی سیرت کو اپناتا ہے۔‘‘

ہم اپنے ذی شعور اور دانش مند قاریوں پر یہ بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ روافض اپنے اس مکر پر آج تک جمے ہوئے ہیں۔ یہی ان کا عقیدہ ہے، گمراہی کے انہی ہتھیاروں سے لیس یہ سبائی اسلام کے خلاف محاذ آراء ہیں، یہ رافضی غیرتِ اسلامی اور دینی حمیت سے محروم غافل مسلمانوں کی بے خبری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے آتے ہیں اور اب تک بھی غیرت و حمیت اور صحیح دینی و تاریخی علم سے محروم طبقہ ہی ان کا آسان شکار بنتا چلا آ رہا ہے۔ سبائیوں نے بد اعتقادی اور مکر و فریب کے انہی ہتھیاروں سے سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما پر حملہ کیا تھا اور جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی کردار کشی میں اپنی ساری صلاحیتیں خرچ کر دیں اور ان پر یہ بہتان باندھ دیا کہ انہیں اپنے بیٹے یزید کی بے دینی کا علم تھا، لیکن وہ یہ سمجھتے رہے تھے کہ یزید اپنے کرتوت لوگوں کے سامنے عیاں نہ کرے گا۔ حاشا و کلا کہ جنابِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں یا زبان پر یہ بات آئی ہو۔ افسوس کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف یہ دروغِ بے فروغ ان کی رحلت کے صدیوں کے بعد گھڑا گیا۔ یہ افترا پرداز اور دروغ باف کمال حیا باختگی سے یہ کہتے ہیں کہ سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید سے یہ کہا تھا:

فَبَاشِرِ اللَّیْلَ بِمَا تَشْتَہِیْ

فَاِنَّمَا اللَّیْلُ نَہَارُ الْاَرِیْبِ

کَمْ فَاسِقٍ تَحْسِبُہٗ نَاسِکًا

قَدْ بَاشَرَ اللَّیْلَ بِاَمْرٍ عَجِیْبٍ 

غَطّٰی عَلَیْہِ اللَّیْلُ اَسْتَارَہٗ فَبَاتَ

فِیْ اَمْنٍ وَ عَیْشٍ خَصِیْب

وَ لَذَّۃُ الْاَحْمَقِ مَکْشُوْفَۃٌ

یَشْفِیْ بِہَا کُلُّ عَدُوٍّ غَرِیْبٍ

’’رات کو جو چاہے کر لیا کرو کہ رات زیرک کا دن ہوتا ہے۔ کتنے ہی گناہ گار ہیں، جن کو تم بڑا عبادت گزار سمجھتے ہو لیکن وہ رات کو نہ جانے کیسے کیسے عجیب کام کرتے ہیں۔ رات کی تاریکی اس پر اپنے پردے ڈال دیتی ہے، یوں وہ رات کو کمال بے خوفی اور عیش و لذت میں گزارتا ہے۔ لیکن احمق سب کے سامنے گل چھرے اڑاتا ہے، جس سے دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع ملتا ہے۔‘‘

اگرچہ قاتلانِ حسین نے کذب بیانی اور افترا پردازی کی انتہا کر دی، لیکن رب تعالیٰ نے انہیں برسر بازار فضیحت و رسوائی سے دوچار کیا۔ یہ اشعار نہ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں کہے گئے اور نہ ان کے بعد کہے گئے اور نہ ان اشعار کا سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ، یزید یا خلافت بنو امیہ سے کوئی تعلق ہی ہے۔ ان اشعار سے اہل بصرہ واقف تک نہیں۔ یہ تو یحییٰ بن خالد برمکی کے اشعار ہیں جو ہارون الرشید کے دور میں تھا اور یہ یزید کی وفات کے تقریباً سو سال بعد کا زمانہ ہے۔ (تاریخ دمشق: جلد، 65 صفحہ 403) کیا یہ ان رافضیوں کی کھلی بہتان تراشی نہیں؟!!

بہرحال آل بیت حسین رضی اللہ عنہ کی بابت خود ساختہ مظالم کی جو داستانِ ہوش ربا یزید کے دورِ خلافت کی طرف منسوب کر کے سنائی جاتی ہے، اس کا ’’سچ کی دنیا‘‘ سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ان غداروں نے ایسا ہی کیا۔ چنانچہ جب تک جناب حسین رضی اللہ عنہ کوفیوں کی خط و کتابت کے بعد کوفہ کی طرف روانہ نہ ہوئے تھے، کسی نے بھی آپ کو یزید کی بیعت کر لینے پر مجبور نہ کیا تھا، لیکن جیسے ہی یزید کی بیعت کر لی گئی، تو ان حضرات کو سب سے زیادہ خدشہ امت میں وحدت و اتحاد کے قائم ہو جانے کا تھا، اس لیے انہوں نے بہتان تراشیوں اور فتنہ انگیزیوں کی آگ بھڑکا دی۔ ان کی جھوٹی افواہوں اور دغا بازیوں کو دیکھتے ہوئے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت نہ کرنے کی بابت اپنا موقف تبدیل کر لیا اور اب آپ نے پرامن معارضہ کے بجائے اسلحہ اٹھا لینے کا فیصلہ کر لیا اور شاید اس کی دو وجوہات تھیں:

پہلی وجہ:

خلافت یزید کی بیعت کے لیے شوریٰ کی اس عملی شکل میںنے تشکیل نہ دی گئی تھی، جیسا کہ حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے ادوار میں ہوتا تھا اور یہ حقیقت ہے۔ جبکہ سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے اجتہاد سے یہ سمجھتے تھے کہ انہوں نے یزید کی بیعت کے لیے شوریٰ منعقد کر لی ہے، وہ یوں کہ انہوں نے اقالیم، سربر آوردہ شخصیات،

والیان، لشکروں کے قائدین، قاضیوں اور علماء سے یزید کی بابت بیعت لے لی تھی۔ یوں انہوں نے اس طرح یزید کی بیعت کی بابت امت کی موافقت و تائید حاصل کر لی تھی۔ دوسرے اس وقت حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم جیسا ایسا کوئی فرد بھی تو نہ تھا کہ جس پر وحدتِ کلمہ کا انعقاد ہو سکتا۔ جیسا کہ حضرات انصار و مہاجرین رضی اللہ عنہم مدینہ منورہ میں کیا کرتے تھے کہ جب وہ کسی کی بیعت کر لیتے تھے، تو باقی امت پر سمع و طاعت لازم ہو جاتی تھی کہ حضرات انصار و مہاجرین رضی اللہ عنہم اہل حل و عقد تھے۔

پھر اگر یزید کے علاوہ کسی کی بیعت کی جاتی، تو امر خلافت میں استقرار و استحکام اور استقامت منعقد نہ ہو سکتی تھی، کیونکہ اس وقت قوت و شوکت اور استقرار خلافت کے جملہ اسباب یزید کی تائید میں جاتے تھے اور کوئی دوسرا اس قوت و شوکت اور تائید و حمایت میں یزید سے آگے نہ نکل سکتا تھا، جس کا لازمی نتیجہ تشتت و افتراق اور متعدد اجتہادات کی صورت میں نکلتا اور صراع و نزاع کا آغاز ہو جاتا۔ اسی امر نے جلیل القدر اور سربرآوردہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو سکوت اختیار کرنے اور امت کی وحدت اور امن و استقرار کی خاطر یزید کی بیعت کو تسلیم کر لینے پر آمادہ کیا، وگرنہ جملہ اصحابِ رسول اور ان کی اولادیں سب کے سب یزید سے ظاہر و باطن ہر اعتبار سے بہتر تھے۔ اسی بات کو حضرت یُسیر بن عمرو رضی اللہ عنہ نہایت بلاغت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ چنانچہ حمید بن عبدالرحمن روایت کرتے ہیں کہ ہم یزید کے خلیفہ بننے کے بعد حضرت یسیر بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو فرمانے لگے:

صفحہ 4 از 12