بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء - دفاعِ اہلِ…

بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 3 از 12

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر نکتہ چینی کرنے والے ان نام نہاد عقل مندوں نے خود کو اہل عقل و خرد اور اربابِ حکمت و دانش کے نزدیک ’’ایک مذاق‘‘ بنانا گوارا کر لیا اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ ان کی زبانیں بھی انہی خرافات کے ذکر سے ہر وقت تر رہتی ہیں، جو روافض صحابہ کا وظیفۂ حیات ہیں کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت لے کر ایک بالکل غیر شرعی امر کا ارتکاب کیا ہے، کیونکہ اس میں وراثت کا شبہ ہے۔ جبکہ عین اسی وقت ان کا اپنا کردار یہ ہے کہ ان کے خود ساختہ دین کی ساری بنیاد اور مکمل ڈھانچہ ہی ’’وراثت‘‘ کے نظام پر قائم ہے اور یہ ان کی نری سیاست نہیں بلکہ ’’اصل دین‘‘ ہے۔ لہٰذا ان کے نزدیک امامت صرف اولاد حسین رضی اللہ عنہ میں ہی جاری ہو سکتی ہے، دوسرے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے بھی صرف اس اولاد میں امامت قائم اور جاری و ساری رہ سکتی ہے، جو جناب حسین رضی اللہ عنہ کی ایرانی لونڈی کے بطن سے چلی اور طرفہ تماشا یہ کہ سیّمدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر وراثت اور موروثی نظام حکومت کے بانی ہونے کی تہمت لگانے والے یہ حضرات، خود جناب حسین رضی اللہ عنہ کے دین حق کو مٹانے میں اپنی تمام تر توانائیاں خرچ کرنے میں صدیوں سے لگے ہوئے ہیں۔ اس بات کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو گی کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ کی ذریت و اولاد آفاقِ عالم میں خوب خوب پھیلی ہوئی ہے، لیکن اہل بیت سے محبت جے دعوے دار یہ حضرات اور ان کی حکومتیں امامت و قیادت کو صرف اپنے اندر ہی جائز سمجھتے ہیں اور یہ حق اور منصب اپنے سوا کسی اور کو دینے کے لیے ہرگز بھی تیار نہیں۔ حتیٰ کہ امامت کے خود ساختہ جلیل القدر منصب کا یہ کسی ہاشمی عرب کو بھی اہل باور نہیں کرتے؟!!

ان لوگوں کے زبانی دعووں، دلی عقیدوں اور عملی رویوں سے یوں لگتا ہے کہ جیسے جس ’’بیت‘‘ کا یہ نام لیتے ہیں، وہ کسی اور ہی کا بیت ہے نہ کہ بیت نبوی ہے اور جس آل کا یہ نام لیتے ہیں، یہ آل رسول ہی نہیں؟!!

افسوس! کہ رافضیوں کے اس پروپیگنڈے کی زَد میں نام نہاد اہل سنت بھی آ گئے اور انہوں نے سیّدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی رسول پر یہ طعن کرنا شروع کر دیا کہ انہوں نے خلافت کو وراثت میں بدل دیا۔ حالانکہ خود ان رافضیوں کے نزدیک خلافت صرف وراثت میں ہی ہے۔ یہ اولادِ حسین رضی اللہ عنہ کے سوا کسی میں بھی خلافت و امامت کو جائز نہیں سمجھتے۔ یہاں چند سوالات اٹھتے ہیں:

٭ آخر یہ کس نے کہا ہے؟

٭ اس پر کس نے عمل کیا؟

٭ اس قول کو کون تسلیم کرتا اور صحیح مانتا ہے؟

٭ کیا اس بات کی خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ وصیت اور حکم کر گئے تھے؟

٭ پھر انہوں نے خود سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو اپنی خلافت کا وارث کیوں نہ بنایا؟

٭ اور کیا یہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا قول ہے؟

٭ اگر خلافت و امامت صرف اولاد علی و حسین رضی اللہ عنہما ہی میں روا ہے، تو پھر خود جناب حسن رضی اللہ عنہ امر خلافت سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں دست بردار کیوں ہوئے تھے اور مسلمانوں نے اس سال کا نام ’’عام الجماعت‘‘ (باہمی اتفاق و اتحاد کا سال) کیوں رکھا؟

جب ان نام نہاد الزامات و اتہامات کا تاریخ اسلام میں نام و نشان تک نہیں ملتا، تو ہم پر لازم ہے کہ ہم امت کے اسلاف اکابر اور ائمہ اعلام کی بابت شکوک و شبہات پیدا کرنے والے ان افکار کے پھیلانے والوں کو جانیں اور پہچانیں، اور اسلام کی ثابت اور کھری تاریخ کی بیخ کنی کرنے والی ان روایات کا سینہ سپر ہو کر مقابلہ کریں۔ جبکہ اس جعلسازی کا سنگین ترین پہلو یہ ہے کہ ان جعلسازوں کو ان جعلی روایات کی خطرناکی کی ذرا پروا نہیں۔ ضرورت ہے کہ امت مسلمہ کے حساس قلب و نظر رکھنے والے درد مند لوگ ان رافضیوں کی تاک میں رہیں اور ان کی ظاہری اور پوشیدہ ہر ہر حرکت پر کڑی نگاہ رکھیں۔ ان کی شخصیت، کردار اور عقیدہ و عمل کو قلم سے طشت از بام کریں، تاکہ خوابِ غفلت میں پڑے ہوؤں کو بیدار کریں۔

یہ روافض خود سے واقعات تراشتے ہیں ، اشعار گھڑتے ہیں اور انہیں امت مسلمہ کے اکابر و اشراف کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ چنانچہ ایسا ہی برامکہ نے بھی کیا۔ ہارون الرشید نے انہیں قریب کیا، اپنا مصاحبِ خاص بنایا لیکن انہوں نے ان احسانات کا بدلہ غدر و خیانت کی صورت میں دیا اور خلافت کو عربوں سے چھین کر عجمیوں کے ہاتھوں میں دینے کی سرتوڑ کوشش کی۔

ان برامکہ نے دھونی دینے اور بھٹی جلانے کے نام پر مساجد میں مجوسیوں کی آگ کو داخل کیا۔ ’’العواصم من القواصم ‘‘ کا مؤلف برامکہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’یہ لوگ باطنیہ تھے، فلاسفہ کے عقائد رکھتے تھے۔ چنانچہ ان لوگوں نے دین اسلام کے خلاف گہری چال چلی اور مجوسیت کو دین کے نام پر حیاتِ نو بخشی، ان لوگوں نے مساجد کو دھونی دینے کی نیو ڈالی۔ اس سے قبل مساجد کو ’’خلوق‘‘ (خُلُوْق یا خِلَاق: ایک قسم کی خوشبو جس کا بیشتر حصہ زعفران ہوتا ہے۔ (القاموس الوحید: صفحہ 469)) سے معطر کیا جاتا تھا لیکن ان لوگوں نے مساجد کو آگ سے معمور کرنے کے لیے انگارے جلانے کو رواج دیا اور تو اور، ان لوگوں نے یہ تک گھڑ لیا کہ مساجد میں دھونی دینا حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے۔ یہ برامکہ عربوں کی حکومت کو عجمیوں کے ہاتھوں اور آزاد دین دار شرفاء کی حکومت کو ملحد بے دین غلاموں کے ہاتھوں برباد کروانے میں کامیاب رہے۔ ان لوگوں نے اپنے نفوس میں عربوں اور خلافت اسلامیہ کے خلاف کینہ پال رکھا تھا، ہر وقت اس کی بربادی کے منتظر رہتے تھے۔ چنانچہ ان لوگوں نے ہر کوڑھ مغز، بے لگام اور بے صبر بخیل کو اپنے گرد اکٹھا کیا، ان کے سامنے کھل کر فلسفیانہ نظریات کو رکھا، جو اب تک چھپاتے چلے آ رہے تھے۔ لوگوں کو قریب کرنے کے لیے ان پر داد و دہش کے دروازے کھول دئیے۔ یوں برامکہ نے اسلامی معاشرہ سے وہ لوگ چھانٹ چھانٹ کر الگ کر لیے، جن کو نیکی و راستی اور رشد و ہدایت سے کوئی سروکار نہ تھا، کسی نے صحیح کہا ہے:

عَنِ الْمَرْئِ لَا تَسْئَلْ وَ سَلْ عَنْ قَرِیْنِہٖ

فَکُلُّ قَرِیْنٍ بِالْمَقَارِنِ یَقْتَدِیْ

صفحہ 3 از 12