بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء - دفاعِ اہلِ…

بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 12 از 12

سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کوفیوں پر ان الفاظ کے ساتھ بھی ایک بددعا منقول ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’اے اللہ ان کے گھروں میں ذلت گھسا دے، ان کے سینے ہیبت سے بھر دے، ان کے دلوں کو مٹا دے جیسے نمک پانی میں مل کر مٹ جاتا ہے۔‘‘

سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’جس نے ان کوفیوں کے ذریعے سے حملہ کیا اس نے ایک چوک جانے والے تیر سے حملہ کیا۔‘‘

عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ جناب علی رضی اللہ عنہ کو قصر سے باہر ہاتھ میں درہ پکڑے دیکھا۔ جناب عمرو رضی اللہ عنہ نے آپ کو سلام کیا، تو آپ نے سلام کا جواب دینے کے بعد فرمایا:

’’اے عمرو! میں اس سے قبل یہ سمجھتا تھا کہ یہ والی لوگ عوام پر ظلم ڈھاتے ہیں، لیکن یہ کیا کہ یہاں تو عوام والیوں پر ستم کرتے ہیں۔ اے اللہ! میرے اور ان کے درمیان تفریق کر دے اور ان پر مجھ سے بھی برا مسلط کر دے۔‘‘ (المعرفۃ و التاریخ للفسوی: جلد، 1 صفحہ 360)

جب ان کوفیوں کا جناب علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ رویہ تھا حالانکہ وہ صاحب سلطنت و شوکت اور لشکروں کے قائد تھے، معاملات کی کنجیاں ان کے ہاتھ میں تھیں لیکن پھر بھی یہ کوفی متمرد و سرکش تھے اور اتنے نافرمان کہ جناب علی رضی اللہ عنہ نے فرطِ غیظ سے ان پر بددعائیں کیں، تو بھلا ان نامرادوں نے جناب حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ کیا کیا نہ کیا ہو گا، جن کے پاس نہ حکومت تھی اور نہ قوت و شوکت، نہ لشکر تھے اور نہ مادی و عددی غلبہ؟ ہاں آپ کے پاس تھا تو صرف ایمان اور گنتی کے چند مخلص جاں نثار و وفادار۔

ایسی کسمپرسی میں ان سبائیوں نے جناب حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ غدر و خیانت کا ارتکاب کیا، قتال میں پہل کی اور بالآخر رسول اللہﷺ کے پھول کو مسل کر شہید کر ڈالا۔

ان پر کن الفاظ کے ساتھ بددعا کی جائے؟

رب کا کون سا قہر و عتاب ان کے لائق ہو؟

جگر گوشۂ رسولﷺ کو بے یار و مددگار چھوڑ کر انتہائی بے دردی سے انہیں مار ڈالنے والوں کا دین کیا ہو سکتا ہے؟

آخر وہ کس شرعی، اخلاقی اور عرفی قدروں پر قائم ہیں؟

جن کے آل بیت رسول اللہﷺ کے ساتھ بغض اور حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ نفرت کو ناپا نہیں جا سکتا؟!!

ہاں جنہوں نے جناب رسول اللہﷺ کے اس محبوب ترین نواسے کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے، جس سے آپﷺ کو خود بھی بے پناہ محبت تھی اور رہتی دنیا تک کے لیے اپنی امت کو بھی ان سے محبت کرنے کی بلیغ ترین تاکید فرما گئے!!


صفحہ 12 از 12