بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء - دفاعِ اہلِ…

بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 11 از 12

لیکن افسوس کہ اہل کوفہ نے ان تنبیہات اور تاکیدات کو ذرا درخورِ اعتنا نہ سمجھا اور وہ ایسا کرتے بھی کیوں؟ غدر و خیانت اور جفا و بے وفائی تو ان کی رگ رگ میں پیوست تھی۔ بھلا حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر سب و شتم کرنے والوں کو بھی آخرت کے انجام بد اور شریعت کی مخالفت کا کوئی اندیشہ یا ڈر خوف ہو سکتا ہے؟!!

یہ بات معروف اور معلوم ہے، جس کی شہادت خود شیعہ مآخذ و مصادر بھی دیتے ہیں کہ کوفہ عراق تمام شرور اور فتنوں کا گڑھ تھا۔ جس قدر سازشوں کے جال یہاں بنے جاتے تھے کسی دوسرے شہر میں اس میدان میں کوفہ کی ہم سری کرنے کی تاب نہ تھی۔ اسی لیے امت مسلمہ کے اخیار و ابرار نے کوفہ کی بے حد مذمت بیان کی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ فرماتے ہیں:

’’شیطان نے کوفیوں میں انڈے دئیے، ان کو سینچا اور ان سے بچے نکالے۔‘‘

پھر فرمایا:

’’اے اللہ! ان کوفیوں نے مجھ پر امر کو ملتبس کر دیا، تو بھی ان پر امر کو ملتبس کر دے اور ان پر ایک ثقفی نوجوان مسلط کر، جو ان کے نیکوں کو قبول نہ کرے اور ان کے بروں سے درگزر نہ کرے۔‘‘ (المعرفۃ و التاریخ: جلد، 1 صفحہ 361 اس روایت کی سند چاہے جیسی بھی ہو لیکن اہل کوفہ کی تاریخی حقیقت یہی ہے)

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ ان کوفیوں پر مطلق اعتبار نہ کرتے تھے اور نہ ان کے آئے کسی خط کی طرف التفات ہی فرماتے تھے، کیونکہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بخوبی دیکھ لیا تھا کہ پہلے انہوں نے ان کے والد ماجد کے ساتھ دغا بازی کی، پھر خود ان کے ساتھ بھی فریب کاری سے دریغ نہ کیا۔ یزید الاصم بیان کرتا ہے:

’’سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما مدائن اترے، قیس بن سعد بن عبادہ (رضی اللہ عنہ) مقدمہ میں تھے۔ پھر ’’انبار‘‘ اترے۔ وہاں ان لوگوں نے کدال کا وار کر کے انہیں زخمی بھی کیا اور خیمہ بھی لوٹ لیا۔‘‘

یزید اصم کہتا ہے:

’’ایک موقعہ پر میں سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ کوفیوں کا ایک خط آیا۔ آپ نے اس کی مہر کھول کر حتیٰ کہ اس کے عنوان تک کو دیکھنا گوارا نہ کیا اور خادمہ سے سلفچی منگوا کر اس خط کو اس سلفچی میں پانی سے دھو کر صاف کر ڈالا۔‘‘

یزید کہتا ہے:

میں نے پوچھا: اے ابو محمد! یہ کن کے خطوط تھے؟ تو فرمانے لگے: یہ ان کے خطوط تھے جو حق کی طرف پلٹ کر نہیں آتے اور باطل سے دست کش نہیں ہوتے، یہ عراقیوں کے خطوط تھے، جن کو میں نے دھو کر مٹا ڈالا۔ (المعرفۃ و التاریخ: جلد، 1 صفحہ 361)

یہ تھا سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ان کوفیوں کے بارے میں دو ٹوک موقف جو پکار پکار کر بتلاتا ہے کہ جناب حسن رضی اللہ عنہ کو ان کوفیوں پر ذرا بھروسہ نہ تھا اور وہ ان کوفیوں کو بڑی گہرائی سے جانتے تھے، کیونکہ انہیں ان کوفیوں سے بڑے تلخ تجربات ہوئے تھے۔ جناب حسن رضی اللہ عنہ کو اس بات کا قطعی یقین تھا کہ یہ پرلے درجے کے غدار اور دغا باز ان خطوط میں آل بیت کی جس محبت کو خوب بڑھا چڑھا کر ذکر کرتے ہیں، اس سے کہیں زیادہ یہ نامراد آل بیت رسول سے کینہ، نفرت اور بغض رکھتے ہیں اور ہر وقت ان کا خون بہانے کے درپے رہتے ہیں۔

امت مسلمہ کے صلحاء لوگوں کو کوفہ جانے سے منع کرتے تھے اور دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ! ہمیں اس کوفہ سے نجات دے۔ چنانچہ سفیان ’’فرات القزاز‘‘ سے روایت کرتا ہے، وہ کہتا ہے:

’’سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے جب کوفہ جانے کا ارادہ کیا، تو جناب کعب احبار نے انہیں ان الفاظ کے ساتھ کوفی فطرت پر متنبہ کیا: کوفہ نافرمانوں کا مرکز اور ہر لاعلاج بیماری کا گڑھ ہے۔ کسی نے ان سے پوچھا کہ ’’لا علاج بیماری‘‘ سے کیا مراد ہے؟ تو کہنے لگے: نفس کی وہ خواہشات جن سے شفا نہیں ملتی۔‘‘

ابو صالح حنفی کہتے ہیں:

’’میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے مصحف اٹھا کر اپنے سر پر رکھا یہاں تک کہ میں نے اس کے اوراق کو ہلتے دیکھا۔ پھر فرمانے لگے: اے اللہ! ان لوگوں نے مجھے امت میں اس کی خیروں کے ساتھ رہنے سے روک دیا، پس تو مجھے امت کا ثواب عطا فرما۔ اے اللہ! میں ان سے اور وہ مجھ سے تنگ ہیں، مجھے ان سے اور انہیں مجھ سے نفرت ہے، ان لوگوں نے مجھے میری طبیعت، عادت اور ان اخلاق کے خلاف پر ابھارا جن کو میں پہچانتا نہیں۔ اے اللہ! تو مجھے ان سے بہتر لوگ عطا فرما اور انہیں مجھ سے بھی برا دے۔ اللہ! ان کے دلوں کو یوں فنا کر دے جیسے نمک پانی میں گھل کر فنا ہو جاتا ہے۔‘‘

راوی ابراہیم بیان کرتا ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی مراد اہل کوفہ تھے۔ (کنز العمال للمتقی الہندی، رقم: 36571 البدایۃ و النہایۃ: جلد، 13 صفحہ 170)

خلیفہ چہارم امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’اے اللہ! میں ان سے اور یہ مجھ سے اکتا گئے ہیں ، میں ان سے اور یہ مجھ سے آزردہ ہیں، پس تو مجھے ان سے اور ان کو مجھ سے راحت دے دے۔ ان کے بدبخت ترین نے میرے خون سے اپنے ہاتھ رنگنے اور ان کو میری داڑھی پر رنگنے سے گریز نہ کیا۔‘‘ (المصنف للصنعانی، رقم: 20637 الآحاد و المثانی: صفحہ 156)

تاریخ شاہد ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مختلف لوگوں کو اختلاف رہا۔ حضرت امیر رضی اللہ عنہ کے متعدد لوگوں سے معرکے بھی ہوئے لیکن جناب امیر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سوائے کوفیوں کے کسی ایک کے بارے میں بھی یہ مروی نہیں کہ انہوں نے اس کے حق میں ایسی آزردگی، دل گرفتگی اور رنجیدگی کے ساتھ بددعا کی ہو۔ ہاں صحیح روایات سے اگر ثابت ہے تو صرف ان کوفیوں پر بددعا کرنا ثابت ہے، جو دھڑلے سے جناب امیر رضی اللہ عنہ سے محبت کے بلند بانگ دعوے بھی کرتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ گھناؤ نی سازشوں کے دام ہم رنگ زمین بھی آپ کی راہوں میں بچھاتے تھے۔ حتیٰ کہ بالآخر آپ رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے عین مسجد میں وارکر کے شہید بھی کر دیا۔

کیا ان کوفیوں کے ایسے شرم ناک کردار کے بعد یہ لوگ اس قابل ہو سکتے ہیں کہ ان پر اعتماد کیا جائے؟ اور ان پر اعتماد کی کوئی سبیل ہو بھی کیونکر کہ جب امیر المومنین جناب علی رضی اللہ عنہ صاف صاف ان سے نفرت اور کراہیت کا اظہار فرما رہے ہیں؟!!

صفحہ 11 از 12