بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء - دفاعِ اہلِ…

بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 10 از 12

جب یزید کو اس بات کا یقین ہو گیا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ ضرور خروج کریں گے، تو اس نے انہیں اس ارادہ سے باز رکھنے کی نہایت بلیغ کوشش کی اور اس غرض کے لیے اس نے کبار اہل بیت کو بھی جناب حسین رضی اللہ عنہ پر اثر انداز ہونے کو کہا، لیکن یزید اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا۔ چنانچہ یزید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مکہ خروج کر جانے کی خبر لکھ بھیجی۔ یزید کا خیال تھا کہ مشرق کے لوگوں نے انہیں آ کر خلافت کی طمع دلائی تھی۔ یزید نے لکھا کہ آپ ان میں صاحب علم و تجربہ ہیں۔ اگر تو حسین (رضی اللہ عنہ) نے خروج کا ارادہ کیا ہے، تو انہوں نے قرابت کو قطع کیا ہے، آپ اہل بیت کے بڑے اور سب کے منظور نظر ہیں، انہیں تفرقہ سے باز رکھنے کی کوشش کیجیے، اور چند اشعار بھی لکھ بھیجے، جن میں خروج نہ کرنے کا نہایت بلیغ مطالبہ تھا۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں یہ لکھ بھیجا:

’’میں امید کرتا ہوں کہ حسین (رضی اللہ عنہ) کا خروج کسی ایسے امر کے لیے نہ ہو گا، جو تمہیں ناگوار ہو اور جس بات سے بھی الفت اور اتحاد پیدا ہوتا ہو اور شورش ختم ہوتی ہو، میں اس بات کی انہیں ضرور نصیحت کروں گا۔‘‘

اس کے بعد سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو رات گئے تک سمجھاتے رہے اور یہ کہا:

’’میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں کہ کہیں کل کو تم بے یار و مددگار ہلاک نہ ہو جاؤ، عراق تو ہرگز مت جاؤ اور اگر تمہیں یزید کے خلاف خروج کرنا ہی ہے تو حج ختم ہونے تک ٹھہرے رہو، تب لوگوں سے ملو جلو، ان کی رائے معلوم کرو، پھر اپنی رائے دیکھنا۔ یہ 10 ذی الحجہ 69 ہجری کی رات تھی۔ لیکن سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے بات نہ مانی اور عراق کی طرف عازمِ سفر ہو گئے۔‘‘ 

(تہذیب الکمال: جلد، 6 صفحہ 419 تاریخ دمشق: جلد، 14 صفحہ 209 بغیۃ الطلب لابن ندیم: جلد، 3 صفحہ 27)

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے مدینہ قاصد بھیجا۔ اس قاصد کے ساتھ بنی عبدالمطلب کے مردوں، عورتوں اور بچوں پر مشتمل انیس افراد مکہ آ پہنچے، جن میں آپ کی اور آپ کے بھائی کی اولاد اور خواتین بھی شامل تھیں۔ ان کے پیچھے محمد بن حنفیہ بھی چلے گئے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے مکہ آ ملے۔ محمد نے کہا کہ میرے رائے میں ابھی یزید کے خلاف خروج کا وقت نہیں۔ لیکن جناب حسین رضی اللہ عنہ نے ان کی بات نہ مانی، جس پر محمد نے اپنی اولاد کو ساتھ نکلنے سے روک دیا اور ان میں سے کسی کو بھی نہ نکلنے دیا، جس کا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قدرے رنج تھا۔ انہوں نے فرمایا: کیا تم اپنی اولاد کو ادھر جانے سے روک رہے ہو، جہاں مجھے شہادت ملے گی؟ محمد نے جواب دیا: مجھے اس کی حاجت نہیں کہ آپ شہید ہوں اور آپ کے ساتھ یہ بھی شہید ہوں، گو میرے لیے آپ کی مصیبت ان کی مصیبت سے بڑی ہے۔ ادھر عراقیوں نے خط پہ خط لکھ مارے اور قاصدوں کا تانتا بندھ گیا، جو عراق چلے آنے کی دعوت دے رہے تھے۔ چنانچہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ عراق کے ساٹھ شیوخ اور اپنے اہل بیت کے ساتھ بروز سوموار دس ذی الحجہ 60 ہجری کو عراق کی طرف روانہ ہو گئے۔ (تہذیب الکمال: جلد، 6 صفحہ 422 تاریخ دمشق، باب جوامع حدیث مقتل الحسین: جلد، 14 صفحہ 211، جلد، 2 صفحہ 444)

ان جملہ نصوص کو ذکر کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس سارے فتنہ کی آگ کا پہلا ایندھن اہل کوفہ تھے، جن کی فتنہ انگیزیوں کا سلسلہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ میں شرکت سے شروع ہو کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے مار ڈالنے، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو زخمی کرنے اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ غداری کر کے انہیں شہید کرنے پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ اگرچہ جغرافیائی اور اعتقادی اعتبار سے اس جرم کی شناعت میں تعمیم ہے، جو عراقی عوام سب کو شامل ہے بالخصوص معاصر عراق پر بھی جو اپنے افکار اور کینوں میں اہل کوفہ کی تاریخی بداعتقادی و بداطواری سے شدید متاثر ہے۔ لیکن اس کی تاریخی ذمہ داری کی تحدید اہل کوفہ تک محدود ہے، جنہوں نے آل بیت کے قتل کا ارتکاب کیا اور وہ بھی ان کی مدد و نصرت کے نعروں کی آڑ میں کیا۔

جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ عراق کی طرف عازم سفر ہو گئے اور بعض والیوں کو بھی اس کی خبر مل گئی، تو انہوں نے ابن زیاد کو سختی کے ساتھ خبردار کرتے ہوئے خطوط لکھے، جن میں اسے اس بات سے ازحد ڈرایا کہ وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو معمولی سی گزند پہنچانے کا بھی نہ سوچے اور خوب سمجھ لے کر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ لوگوں کو سب سے

زیادہ محبوب ہیں۔ چنانچہ مروان بن حکم نے عبیداللہ بن زیاد کو لکھا:

’’اما بعد! حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) تیری طرف آ رہے ہیں۔ یاد رکھنا کہ یہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لخت جگر ہیں، جو خود جگر گوشہ رسول ہیں ۔ اللہ کی قسم! ہمیں حسین (رضی اللہ عنہ) سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔ خبردار جوش میں آ کر ایسا کوئی کام نہ کر بیٹھنا جس کی تلافی تم کر نہ سکو، نہ عوام اس کو بھلا سکیں اور نہ اس کے ذکر کو کبھی ترک کر پائیں ۔ و السلام!‘‘ (تہذیب الکمال: جلد، 6 صفحہ 422 تاریخ دمشق، باب جوامع حدیث مقتل الحسین: جلد، 14 صفحہ 211، جلد، 2 صفحہ 444)

جبکہ عمرو بن سعید بن عاص نے عبیداللہ ابن مرجانہ فارسیہ کو ان الفاظ کے ساتھ فہمائش کی:

’’اما بعد! حسین تمہاری طرف آ رہے ہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ یا تو حسن سلوک کیا جاتا ہے یا ان کے درپے آزار نہیں ہوا جاتا۔‘‘

اسماعیل بن علی خطبی کہتے ہیں:

’’سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کا مکہ سے عراق کی طرف جانا تب ہوا، جب بارہ ہزار کوفیوں نے مسلم بن عقیل بن ابی طالب کے ہاتھ پر سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لی تھی اور انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ چلے آنے کی دعوت پر مشتمل بے شمار خطوط بھی لکھ دئیے ہوئے تھے۔ چنانچہ خطوط اور قاصدوں کی آمد اور اہل کوفہ کے بیعت کر لینے کے بعد سیدنا حسین رضی اللہ عنہ مکہ سے کوفہ کی طرف روانہ ہوئے تھے۔‘‘ (المعرفۃ و التاریخ: جلد، 1 صفحہ 361 اس روایت کی سند چاہے جیسی بھی ہو لیکن اہل کوفہ کی تاریخی حقیقت یہی ہے)

صفحہ 10 از 12