بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء - دفاعِ اہلِ…

بیعت یزید، شوریٰ، عقیدۂ مظلومیت اور عاشوراء

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 12

ذیل میں ان تمام نکات پر علی الترتیب روشنی ڈالی جاتی ہے:

 بیعتِ یزید اور شوریٰ

اس وقت کے حالات اکابر اہل اسلام کے اجتہاد کے مطابق یزید کی بیعت کے سوا کسی دوسرے صورت کی اجازت نہ دیتے تھے۔ اس لیے ان حضرات نے امیر المومنین سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کی وفات کے بعد کسی فتنہ گر کو اپنا کھیل کھیلنے کا موقعہ فراہم نہ کیا۔ جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو خلافت سونپنے کا اقدام صرف اور صرف امت کو اختلاف و افتراق سے بچانے کے لیے کیا تھا، تاکہ امت کی وحدت برقرار رہے، جس کا نفع اور مصلحت سب کو پہنچنی تھی۔ چنانچہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

’’اے اللہ! اگر تو میں نے یزید کو اس لیے ولی عہد بنایا ہے کہ میں نے اس میں اس امر کی اہلیت دیکھی ہے، تو اسے میری امید کے مطابق فضل و اہلیت کے اس مقام تک پہنچا دے اور اس بارے اس کی مدد فرما اور اگر میں نے ایسا صرف ایک باپ کی اولاد پر شفقت و محبت کے جذبہ سے مجبور ہو کر کیا ہے اور جو امر میں نے اسے سونپا ہے، یہ اس کا اہل نہیں تو اسے اس امر تک پہنچنے سے قبل ہی موت دے دینا۔‘‘ (تاریخ الاسلام للذہبی: جلد، 1 صفحہ 522، 621 تاریخ الخلفاء للسیوطی: جلد، 1 صفحہ 182 خطط الشام لمحمد کرد علی: جلد، 1 صفحہ 137)

اہل باطل کے شکوک و اوہام کے تار عنکبوت کو تار تار کرنے کے لیے اور سنت نبویہ پر پے درپے حملہ کرنے والوں کے حملوں کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہم نے اس نازک میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ اور اس کی جرأت کی ہے وگرنہ ان مصائب پر قلم اٹھانے سے رکنا کس قدر آسان ہے، جو گزر چکے اور وہ لوگ اپنے رب کے حضور پہنچ چکے، اور وہی ان باتوں کا فیصلہ کرنے والا حقیقی حاکم ہے، جو دلوں کے بھید اور آنکھوں کی خیانت تک جانتا ہے۔ شاید ہماری یہ چند توضیحات خوابِ غفلت میں پڑے مسلمانوں کو بیدار کر دیں اور وہ بچ سکیں۔ یاد رکھیے! کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دو دفعہ قتل کیا گیا اور تم دونوں دفعہ سوتے ہی رہ گئے۔ ایک اس وقت جب کوفہ کی غدار تلواروں نے ان کے معصوم خون کو مباح جانا اور دوسرے اس وقت جب حسینی پرچم جس کو لے کر سنت نبویہ کے دفاع کے لیے نکلا کرتے تھے، ان رافضیوں کے ہاتھ میں آ گیا، جنہوں نے یہی پرچم لے کر خادمانِ ملت و دین اور حامیانِ کتاب و سنت کا بے محابا خون کرنا شروع کر دیا، ان کی حرمتوں کو پامال کیا، ان کے مسلمات کا انکار کیا اور ان کے عقیدہ و منہج میں زبردست تحریف و تبدیلی پیدا کر دی۔

امام ابن خلدون لکھتے ہیں: 

’’جس چیز نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ خلافت کے منصب پر اپنے بیٹے یزید کو متمکن کریں نہ کہ کسی اور کو، وہ امت مسلمہ کی وحدت کی مصلحت کی رعایت تھی تاکہ لوگ اہل حل و عقد کی رائے سے ایک بات پر مجتمع ہوں۔‘‘

آگے لکھتے ہیں:

’’اگر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی عدالت اور ان کا شرفِ صحابیت کسی دوسرے امر کے گمان سے مانع ہے۔ پھر اس موقع پر اکابر صحابہ کی موجودگی اور ان کا اس بارے میں سکوت اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات شک سے بالاتر ہے اور جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے، جو حق کے معاملہ میں کسی مداہنت یا سہل انگاری کا شکار تھے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی عدالت اس گمان کے قائم کرنے سے مانع ہے۔‘‘ (المقدمۃ للقاضی ابن خلدون: صفحہ 210)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں:

’’سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو اس خوف کی بنا پر خلافت کے لیے نام زد کیا تھا، تاکہ مسلمانوں میں افتراق و انتشار پیدا نہ ہو، کیونکہ آپ جانتے تھے کہ بنو امیہ کسی اور کے خلیفہ بنائے جانے پر راضی نہ ہوں گے، چنانچہ اگر خلافت کسی اور کے حوالے کی گئی، تو بنو امیہ اس سے ضرور اختلاف کریں گے، مزید یہ کہ بنو امیہ یزید کے بارے میں نیک گمان رکھتے تھے، کسی کو یزید کی صالحیت میں شک نہ تھا اور نہ ہم جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ گمان کر سکتے ہیں کہ انہوں نے ایک غیر صالح شخص کو امت مسلمہ کی امارت و خلافت جیسے اہم ترین منصب کے لیے نام زد کیا تھا۔‘‘ (المقدمۃ: صفحہ 206)

ابن خلدون لکھتے ہیں:

’’مامون ہی کو دیکھ لیجیے کہ جب اس نے علی بن موسیٰ بن جعفر الصادق کو ولی عہد بنایا اور ان کا نام الرضا رکھا، تو بنو عباس نے کیسے اس پر انکار کیا اور اس کی بیعت توڑ کر مامون کے چچا ابراہیم بن مہدی کی بیعت کر لی، جس کے نتیجہ میں قتل و غارت اور اختلاف ظاہر ہوا، راستے لوٹے جانے لگے اور باغیوں اور خارجیوں کی کثرت ہو گئی، بے پناہ بگڑتی صورتِ حال دیکھ کر مامون فوراً خراسان سے بغداد جا پہنچا اور اس بغاوت کا سر کچلا اور ان کے امر کو ان کے عہد کی طرف لوٹایا۔ ہمیں مامون کے عہد میں اس کا اعتبار کرنا ہو گا۔ بے شک زمانے، ان میں ظاہر والے امور و حوادث اور قبائل و عصبیات کے اختلاف سے مختلف ہیں اور مصالح کے اختلاف سے مختلف رہے ہیں اور ہر زمانہ کا اس کے خاص حالات کے اعتبار سے ایک خاص حکم رہا ہے اور یہ اللہ کا اپنے بندوں پر لطف و احسان ہے۔‘‘

 (العبر و دیوان المبتدأ و الخبر لابن خلدون: جلد، 1 صفحہ 211)

ایسے اقدامات کے ضمن میں امت مسلمہ کی وحدت پوشیدہ ہوتی ہے۔ ان میں امت کے استقرار و استحکام کی حفاظت اور امارت و خلافت جیسے منصب کے بارے میں نزاعات و خصومات کی پیش بندی ہوتی ہے۔ (العواصم من القواصم: صفحہ 228)

یہ بات روافض کو گھبرا کر رکھ دیتی ہے، اور ان کے کلیجے امت مسلمہ کی امن و سلامتی اور وحدت و یگانگت کو دیکھ کر منہ کو آنے لگتے ہیں۔ پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ انہیں امت مسلمہ کی وحدت ایک آنکھ نہ بھائی اور یزید کے بارے میں بے تحاشا افواہیں اور جھوٹی باتیں پھیلا دیں، حتیٰ کہ عالم اسلام کا چپہ چپہ ان کذب بیانیوں سے بھر گیا، تاکہ یزید اور اس کے والیوں کے خلاف شورش برپا ہو، فتنہ سر اٹھائے اور سنت نبویہ پر غیرت رکھنے والوں کے جذبات میں انگیخت پیدا ہو۔

صفحہ 1 از 12