قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف - دفاعِ اہلِ سنت…

قتل حسین رضی اللہ عنہ کی بابت یزید کا موقف

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 3 از 7

٭ عبیداللہ بن مرجانہ فارسیہ جو اعدائے صحابہ کا مہرہ، ان کی سواری اور ان کا اسلحہ تھا، جس نے ان نامرادوں کی باتیں سنیں، ان کا مشورہ مانا اور ان کی نامسعود مراد کو پورا کرنے کے لیے سبط رسول کو قتل کیا، وہ بھی ویسے ہی حالات میں گھر کر قتل ہوا، جن حالات میں گھیر کر اس نے جناب حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کروایا تھا۔ چنانچہ ابن عبدالبر لکھتے ہیں:

’’رب کا فیصلہ جاری ہوا۔ چنانچہ عبیداللہ بن زیاد 67 ہجری عاشوراء کے دن قتل کیا گیا۔ اسے ابراہیم بن اشتر نے جنگ میں قتل کیا۔ اس کا سرقلم کر کے مختار بن ابی عبید کے پاس بھیج دیا۔ اس نے ابن مرجانہ کا سر ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے وہ سر علی بن حسین امام زین العابدین رحمۃ اللہ کے پاس بھیج دیا۔‘‘ (الاستیعاب لابن عبدالبر: جلد، 1 صفحہ 118)

جان لیجیے کہ کسی معتبر روایت سے اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ یزید نے سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کر دینے کا حکم دیا ہو، اس باب میں مروی جملہ روایات کوفیوں کی ساختہ پرداختہ اور ان کی افترا پردازیوں کا شاخسانہ ہیں۔ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کے بغیر ایک زمانہ گزار دیا، مگر کسی نے بھی آپ سے کسی قسم کا تعرض نہ کیا۔ البتہ جناب حسین رضی اللہ عنہ سے جب یزید کی بیعت کا مطالبہ کیا گیا، تو آپ ہجرت کر کے مکہ چلے آئے تھے اور اگر آپ کوفیوں کے مکر پر متنبہ ہو جاتے تو شاید تاریخ اسلام میں ایسا درد ناک واقعہ پیش ہی نہ آتا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

’’اہل نقل و روایت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یزید نے قتل حسین رضی اللہ عنہ کا حکم نہ دیا تھا۔ البتہ ابن زیاد کو یہ لکھ بھیجا تھا کہ وہ انہیں ولایت عراق سے روک دے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا یہ گمان تھا کہ اہل عراق ان کی نصرت کریں گے اور جیسا کہ انہوں نے اپنے خطوط میں لکھا تھا، اس پر قائم رہ کر آپ کے ساتھ وفا کریں گے۔ پس سیدنا حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے چچا زاد مسلم بن عقیلؓ کو کوفیوں کے پاس بھیجا۔ جب کوفیوں نے انہیں گھیر کر بے بس کر کے قتل کر دیا اور آپ کے ساتھ غداری کی اور بجائے آپ کی بیعت کرنے کے ابن زیاد کی بیعت کر لی، تو آپ نے لوٹ جانے کا ارادہ کر لیا، لیکن اس ظالم فوجی دستے نے آپ کا راستہ روک لیا۔ آپ نے ان تین باتوں میں سے ایک کے مان لینے کا مطالبہ کیا:

یا تو مجھے یزید کے پاس جانے دو،

یا کسی سرحد پر جا کر جہاد کرنے دو،

یا پھر مجھے اپنے شہر لوٹ جانے دو،

لیکن ان لوگوں نے آپ کو ان تینوں باتوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کا موقعہ نہ دیا اور مطالبہ کیا کہ آپ گرفتاری دے دیں۔ آپ نے گرفتاری دے دینے سے انکار کر دیا۔ اس پر ان ظالموں نے آپ سے قتال کیا، حتیٰ کہ آپ ظلماً شہید کر دئیے گئے۔ جب یزید کو قتل حسین رضی اللہ عنہ کی خبر پہنچی، تو وہ غم زدہ ہو گیا اور حرم میں جا کر رونے لگا۔ یزید نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے آل بیت اور حرم میں سے کسی کو ہرگز بھی قیدی نہ بنایا، بلکہ ان کا بے حد اکرام و اعزاز کیا اور تحائف سے نواز کر ان کے شہر واپس بھیج دیا۔‘‘ (منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ 472)

آلِ حسین رضی اللہ عنہ کے قیدی بنائے جانے کے بارے میں بیان کی جانے والی باتیں بھی انہی قاتلانِ حسین رضی اللہ عنہ کی گھڑی ہوئی ہیں، جو آج تک اپنے اس بدترین جرم کے آثار کو مٹانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں، جس کے شواہد پکار پکار کر اپنے مجرموں کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، بلاشبہ یہ وہی لوگ ہیں جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آل بیت رضی اللہ عنہم کی محبت کے دعوے کی آڑ میں اپنے آپ کو چھپانے کی نامشکور سعی میں لگے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف ان کا وظیفۂ حیات صرف اور صرف کتاب و سنت کی تعلیمات کو نابود کرنا اور جاہلی رسموں کی آڑ میں حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بغض و نفرت کا اظہار اور اس کی اشاعت کرنا ہے۔

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ دو ٹوک فرماتے ہیں:

’’جن روایات میں ان ناشائستہ باتوں کا ذکر آتا ہے کہ آل بیت رسول کی خواتین کی اہانت کی گئی، انہیں قیدی بنا کر شام لے جایا گیا اور وہاں ان کے ساتھ ذلت آمیز رویہ روا رکھا گیا، بلاشبہ یہ جملہ روایات باطل اور ساقط الاعتبار ہیں۔ بنی امیہ تو بنی ہاشم کی بے پناہ تعظیم و توقیر کیا کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حجاج بن یوسف نے سیدہ فاطمہ بنت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب کو اپنی زوجیت میں لیا، تو عبدالملک بن مروان کو اس سے بے حد گرانی ہوئی (کہ حجاج سیدہ محترمہ کے لائق نہ تھا) اس لیے عبدالملک نے حجاج کو ان سے علیحدگی اختیار کر لینے کا اور طلاق دے دینے کا فرمان جاری کیا۔ معلوم ہوا کہ بنی امیہ بنی ہاشم کا اس قدر اکرام و احترام کیا کرتے تھے۔ یہی حقیقت ہے کہ کسی ہاشمی خاتون کو ہرگز بھی قیدی نہ بنایا گیا تھا۔‘‘

آگے لکھتے ہیں:

’’متعدد لوگوں نے یہ بات نقل کی ہے کہ یزید نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کر دینے کا حکم نہ دیا تھا اور نہ اسے اس بات سے کوئی غرض تھی، بلکہ وہ تو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا احترام اور اکرام کرنا چاہتا تھا، جیسا کہ خود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی یزید کو اس بات کا تاکیدی حکم دیا تھا۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو ولایت سے اور خروج کرنے سے روکتا تھا۔

صفحہ 3 از 7