مدفن سر حسین رضی اللہ عنہ کی بابت اختلاف کا سبب - دفاعِ…

مدفن سر حسین رضی اللہ عنہ کی بابت اختلاف کا سبب

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 4 از 4

بہرحال ان تفصیلات کی روشنی میں خلاصہ یہ سامنے آتا ہے کہ سر حسین رضی اللہ عنہ اور خود جسد حسین رضی اللہ عنہ کی تدفین کی بابت میسر اور منقول روایات کا زیادہ تر حصہ جعلی ہے اور ان روایات کے پیچھے لگنا سراب کے پیچھے دوڑنے کے مترادف ہے۔ ان روایات کو تراشنے کا مقصد جہاں امت مسلمہ میں فکری و اعتقادی فتنہ انگیزی پیدا کرنا ہے، وہیں آل بیت رسولﷺ سے جھوٹی محبت و عقیدت کے اظہار کی آڑ میں لوگوں کے احساسات و جذبات کو مہمیز کر کے دنیا بھر سے حرام کا مال بٹورنا اور حسین مظلوم رضی اللہ عنہ کی مدد کے نام پر امت مسلمہ کی آبرو سے کھیلنا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبہ کا ذرا پاس و لحاظ نہیں کرتے، بالخصوص آل بیت رسولﷺ کی مقدس و مطہر خواتین کے بارے میں ایسی ایسی رسوائے زمانہ باتوں کی تشہیر کرتے ہیں، جن کو سن کر ایک غیرت مند مسلمان کا سر مارے شرم کے جھک جاتا ہے۔ یہ لوگ صرف عامۃ الناس کے جذبات کو ہوا دیتے ہیں، جن میں سرے سے کوئی فکری و عملی استعداد ہی نہیں ہوتی۔

ان لوگوں نے شہادت حسین رضی اللہ عنہ کے الم ناک واقعہ کو اپنے مقاصد کے حصول کا قوی ذریعہ بنا رکھا ہے۔ چنانچہ لوگ ان کی زبانوں سے اس المیہ کی حزن و الم پر مبنی فرضی تفصیلات سن کر بے خود ہو جاتے ہیں اور نصرتِ حسین کے نام پر اپنی تجوریوں کے منہ کھول دیتے ہیں جو صرف اور صرف جد حسین رضی اللہ عنہ حضرت رسالت مآبﷺ کی سنت پر لعنت کرنے اور اس سنت سے محبت رکھ کر اس پر سچائی کے ساتھ عمل کرنے والوں پر لعنت کرنے سے تعبیر ہے۔ ان کوفیوں نے میدانِ کربلا میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی لاش پر رقص کیا اور اسی نہج پر چلتے ہوئے ان کے جد اعلیٰ حضرت رسالت مآبﷺ کے دین کو بدلا اور یہی ان رافضیوں کا سب سے بڑا مقصد ہے۔ امت کی غفلت سے فائدہ اٹھا کر مال بٹورنے کے لیے یہ کسی شروع و اخلاق کی پابندی نہیں کرتے۔

غرض سر حسین رضی اللہ عنہ کی جائے تدفین کی تعیین کی بابت اقرب ترین روایت قبرستان بقیع کی ہے، اکثر ثقہ علماء نے اسی قول کو لیا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ روایت جزم و وثوق اور یقین و قطعیت کا فائدہ نہیں دیتی اور شاید اسی میں رب تعالیٰ کی حکمت اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی تکریم تھی کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ کی لاش اور سر مبارک کا مدفن غیر متعین، غیر قطعی اور مجہول ہی رہے تاکہ لوگ ان مقامات کو رب کے سوا عبادت کا مرکز نہ بنا لیں اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا ذکر تسویلات اور محرمات و اعراض کے ساتھ نہ جڑا رہے۔ چنانچہ کربلا کے میدان میں روافض کے مزعومہ مشاہد پر مردوں عورتوں کے بے محابا اختلاط، زینت کے اظہار اور تبرج کے ارتکاب کے جو مظاہر دیکھنے کو ملتے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ ان قبروں پر اباحیت، معاصی کے ارتکاب اور سنت کے اِمحاء کے پورے پورے اسباب و وسائل باضابطہ طور پر میسر کیے جاتے ہیں اور یہ سارا کھیل حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر کھیلا جاتا ہے اور یہ کہنا بالکل بے جا نہ ہو گا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر بنائے گئے مشاہد و مزارات پر جن گناہوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے اس کی مثال کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔ کیا محبان حسین رضی اللہ عنہ کے یہی اخلاق ہوتے ہیں؟

ان مشاہد و مزارات کو جابجا بنانے والے جانتے ہیں کہ وہ صرف اٹکل کے تیر چلا رہے ہیں اور یہ ان کی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے شہادت پا جانے کے بعد ان پر اسی طرح جرأت و جسارت ہے، جس طرح انہوں نے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان کے خون سے ہاتھ رنگ کر ان پر جرأت و جسارت کی تھی۔ اس سے زیادہ حیرت کی بات اور کیا ہو گی کہ انہوں نے ایسی ایسی جگہوں پر مشاہد و مزارات بنا ڈالے ہیں، جہاں جناب حسین رضی اللہ عنہ نے کبھی قدم بھی نہ رکھا تھا۔


صفحہ 4 از 4