مدفن سر حسین رضی اللہ عنہ کی بابت اختلاف کا سبب - دفاعِ…

مدفن سر حسین رضی اللہ عنہ کی بابت اختلاف کا سبب

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 3 از 4

ان باطل و فاسد اغراض کے لیے ان عبیدیوں نے پرلے درجے کے بے ضمیر، ایمان فروش اور بے اوقات لوگ منہ مانگے داموں خریدے، جنہوں نے اعدائے صحابہ کو لبھا لبھا کر ان علاقوں میں لا بسایا، شبانہ روز کاوشوں سے لوگوں کی زبردست ذہن سازی کر کے، ان جعلی مشاہد کی بابت عبیدیوں پر سے افترا کے شبہات کو مٹایا اور عامۃ الناس کے سامنے ان جعلی مشاہد کو خوب مزین و آراستہ کر کے پیش کیا۔

آج بھی ان مذموم مقاصد کے حصول کے لیے بے پناہ دولت خرچ کی جا رہی ہے، تاکہ لوگوں کو کتاب وسنت کے منہج سے ہٹایا جا سکے۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 319 النجوم الزاہرۃ للاتابکی: جلد، 5 صفحہ 57)

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ نے لکھا ہے کہ

’’یہ مزعومہ سر جو عسقلان میں مدفون ہے اور اسے سر حسین رضی اللہ عنہ باور کیا جاتا ہے، یہ تو ایک عیسائی راہب کا سر ہے۔‘‘ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 320 رأس الحسین لابن تیمیۃ: صفحہ 187)

امت مسلمہ کے سربرآوردہ علماء نے مصر میں سر حسین کے دفن ہونے کی روایت کا انکار کیا ہے۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 320 رأس الحسین لابن تیمیۃ: صفحہ 186)

باوجود اس کے کہ قاتلان حسین کا دامن اس کھلی بدنامی کے داغ سے آلودہ ہے، لیکن پھر بھی اپنے اسی جرم کو ہتھیار بنا کر امت مسلمہ کے سامنے حقائق کو مسخ کرنے کی ان کی خو آج تک قائم ہے۔ چنانچہ امام ابن کثیر رحمۃ اللہ لکھتے ہیں:

’’ایک جماعت جو خود کو فاطمی (عبیدی) کہلواتی ہے، جس کی 400 ہجری سے قبل سے لے کر 560 ہجری تک مصر پر حکومت رہی، اس بات کی مدعی ہے کہ سر حسین دیار مصر میں پہنچا تھا، جس کو انہوں نے دفن کر کے اس پر ایک عظیم مشہد تعمیر کیا یہ لوگ مصر کے اس مشہور مشہد کو ’’تاج الحسین‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ یہ مشہد 500 ہجری کے بعد تعمیر کیا گیا تھا۔ متعدد اہل علم اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ بالکل بے اصل بات ہے۔ ان لوگوں نے یہ بات صرف اس باطل دعویٰ کو عام کرنے کے لیے پھیلائی ہے کہ یہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد ہیں۔ بلاشبہ اپنے اس دعوی میں یہ عبیدی دروغ گو اور خائن ہیں۔ قاضی باقلانی اور دیار مصر کے دوسرے متعدد علماء نے صراحۃً بیان کیا ہے کہ عبیدیوں کا ’’فاطمی‘‘ ہونے کا دعویٰ باطل ہے۔ میں کہتا ہوں کہ خود عوام نے بھی اس باطل دعویٰ کو عام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ چنانچہ یہ لوگ ایک فرضی سر لے کر آئے اور اسے اس مذکورہ مسجد میں دفن کر کے مشہور کر دیا کہ یہاں سر حسین دفن ہے اور آج یہ بات زبانِ زد خلائق اور ان کے اعتقاد کا جزو لا ینفک بن چکی ہے۔ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 582) اس کی وجہ اس کے سوا اور کچھ نہ تھی کہ جناب حسین رضی اللہ عنہ پر غیرت کھانے والے لوگ انگلیوں پر گنے جا سکتے تھے۔ چنانچہ ان لوگوں نے اکثر دیار و امصار میں آل بیت رسولﷺ کے ساتھ کیے جانے والے اس سانحہ پر کسی ولولہ و انگیخت کا مظاہرہ نہ کیا اور روافض کو دن رات کے اس تماشے سے روکنے کے لیے تنکا بھی نہ توڑا۔‘‘

جبکہ دوسری طرف روافض نے ان مشاہد کی آڑ میں حرمت حسین رضی اللہ عنہ کو پامال کرنے کے ساتھ ساتھ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بے دریغ سب و شتم کی راہ بھی ہموار کی۔ افسوس کہ امت مسلمہ کے عوام و خواص اب تک غفلت کی نیند سوئے ہیں اور استراحت کی اس چادر کو اپنے پر سے نہ جانے کب اتاریں گے؟!!

مدینہ منورہ

مذکورہ بالا تفصیل سے عیاں ہے کہ سر حسین رضی اللہ عنہ کی جائے تدفین کی تعیین کی بابت کوئی صحیح اور ثابت روایت نہیں ملتی اور جو روایات ملتی ہیں، ان کی حیثیت اوہام، خیالات، اندازوں اور تخمینوں سے زیادہ کی نہیں، جو دراصل حضرات کی ان جھوٹی تمناؤ ں کی غماز ہیں، جن کی بنا پر ان خدا ناترسوں نے کتاب و سنت کے صحیح عقیدہ کے خلاف صدیوں سے جنگ برپا کر رکھی ہے۔

ابن سعد نے ذکر کیا ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک قبرستان بقیع (مدینہ منورہ) میں سیدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی قبر مبارک کے پاس دفن ہے۔ (طبقات ابن سعد: جلد، 5 صفحہ 238 تاریخ الاسلام، حوادث سنہ (60-81ھ))

یہی قول امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ کا بھی ہے۔ (راس الحسین لابن تیمیۃ: 183) حافظ ابو یعلی ہمدانی کہتے ہیں کہ اس باب میں اصح ترین قول یہی ہے کہ سر مبارک قبرستان بقیع میں سیّدہ فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہا کی قبر مبارک کے پاس مدفون ہے۔ (التذکرۃ للقرطبی: جلد، 2 صفحہ 295) زبیر بن بکار اور محمد بن حسن مخزومی کا بھی یہی قول ہے۔ (التذکرۃ للقرطبی: جلد، 2 صفحہ 295)

ابن ابو المعالی اسعد بن عمار نے اپنی کتاب ’’الفاصل بین الصدق و المین فی مقر رأس الحسین‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ علماء کی ایک جماعت نے، جن میں ابن ابی الدنیا، ابو الموید الخوارزمی اور ابوالفرج بن الجوزی جیسے بڑے بڑے علماء کے نام آتے ہیں، اس بات کو تاکید کے ساتھ کہا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک قبرستان بقیع میں مدفون ہے۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 323) اسی قول کو علامہ قرطبی نے بھی لیا ہے۔ (التذکرۃ للقرطبی: جلد، 2 صفحہ 295)

زرقانی کہتے ہیں: ابن دحیہ کا قول ہے کہ اس قول کے سوا دوسرا کوئی قول صحیح نہیں۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 324)

ان اقوال کی روشنی میں یہ بات مؤکد ہو جاتی ہے کہ سیّدنا حسین رضی اللہ عنہ کو کربلا میں شہید کیا گیا اور بعد میں امت کو اعتقادی تشتت و انتشار کا شکار کرنے کے لیے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سر حسین رضی اللہ عنہ کے مدفن کے نام پر جا بجا مشاہد و مزارات تعمیر کر دیے گئے۔

صفحہ 3 از 4