مدفن سر حسین رضی اللہ عنہ کی بابت اختلاف کا سبب - دفاعِ…

مدفن سر حسین رضی اللہ عنہ کی بابت اختلاف کا سبب

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 4

ذہبیؒ نے بھی ایک روایت میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ سر حسین رضی اللہ عنہ دمشق میں دفن ہے لیکن یہ روایت بے حد ضعیف ہے (سیر اعلام النبلاء: جلد، 3 صفحہ 314 سمط النجوم العوالی: جلد، 3 صفحہ 82) جس کا سیاق صحت و مصلحت دونوں کے منافی ہے۔ 

 رقہ

(سوریہ عربیہ کے مشرق میں فرات کے کنارے آباد ایک شہر۔ ہارون الشرید گاہے گاہے یہاں صرف آرام کرنے کے لیے آیا کرتا تھا)

دور حاضر میں روافض اس بات پر بے پناہ پیسہ اور قوت خرچ کر رہے ہیں کہ عامۃ الناس کا رخ کسی نہکسی طرح اس شہر کی طرف موڑ دیا جائے۔ اس روایت میں سبط ابن جوزی منفرد ہیں، جن پر رافضی ہونے کی تہمت ہے۔ سبطِ ابن جوزی نے یہ روایت کسی سند و حجت کے بغیر ذکر کی ہے، جو اس بات کو واضح کرتی ہے کہ سر حسین رضی اللہ عنہ کے نام پر بنایا جانے والا یہ مقبرہ جعلی ہے، جس کا مقصد امت مسلمہ کے ساتھ عداوت کا اظہار، اسے عداوت صحابہ کی دلدل میں دھکیلنا اور کینہ و فتنہ کی تہذیب کی ترویج کے ذریعے سے اس پر کتاب و سنت کو ملتبس کرنا ہے۔ (مواقف المعارضۃ للشیبانی: صفحہ 314 شخصیات اسلامیۃ للعقاد: جلد، 3 صفحہ 298) ان روافض کا وتیرہ خلاف واقعہ روایات و اخبار کی ترویج ہے۔ (مواف المعارضۃ: صفحہ 314) اسی لیے یہ سبط ابن جوزی جیسے حضرات کے گرویدہ اور اس کی روایات پر فریفتہ ہیں۔ چنانچہ ذہبی سبط ابن جوزی کے بارے میں کہتے ہیں: ’’میں نے اس کی ایک کتاب دیکھی ہے جو اس کے رافضی ہونے پر دلالت کرتی ہے۔‘‘ (سیر اعلام النبلاء للذہبی: جلد، 23 صفحہ 264)

عسقلان

ان روایاتِ مکذوبہ میں ایک نام عسقلان کا بھی ملتا ہے، محققین کی ایک جماعت نے اس خبر کا انکار کیاہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک فلسطین کے شہر عسقلان میں دفن ہے۔ ان محقق علماء میں ایک نام علامہ قرطبی کا بھی ہے، جنہوں نے سر حسین رضی اللہ عنہ کی بابت جملہ افسانوں کا قرار واقعی تعاقب کر کے ان کی جعل سازی کی قلعی کھولی ہے۔ علامہ قرطبی کہتے ہیں:

’’سر حسین رضی اللہ عنہ کے عسقلان میں مدفون ہونے کی بابت منقول روایت سراسر باطل ہے۔‘‘ (التذکرۃ للقرطبی: جلد، 2 صفحہ 295)

علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ نے بھی اس روایت پر انکار کیا ہے۔ (تفسیر سورۃ الاخلاص لابن تیمیۃ: صفحہ 264)

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ نے بھی شیخ الاسلام رحمۃ اللہ کی متابعت میں ’’البدایۃ و النہایۃ‘‘ میں سر حسین رضی اللہ عنہ کے عسقلان میں مدفون ہونے کی روایت کو رد کر دیا ہے۔ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 582)

 قاہرہ

حاقدین اسلام نے اس بات کو بھی خوب تشہیر دی ہے کہ قاہرہ سر حسین رضی اللہ عنہ کا مدفن ہے۔ چنانچہ عبیدیوں نے مصر پر اپنے ایام حکومت کے دوران میں لوگوں کی عقلوں سے خوب کھلواڑ کیا اور کسی شعبدہ باز اور مداری کی طرح لوگوں کو بے وقوف بنایا اور انہیں یہ باور کروایا کہ سر حسین رضی اللہ عنہ قاہرہ میں مدفون ہے۔ اس سے ان کی ایک غرض تو خود حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی حرمت کو پامال کرنا تھا، دوسرے صلیبیوں کے ساتھ اپنے خفیہ مراسم کی پردہ پوشی کرنا بھی مقصود تھا تاکہ کسی کا اس طرف خیال بھی نہ جائے کہ بالآخر ان عبیدیوں نے صلیبیوں کے سامنے انتہائی قابل مذمت پسپائی کیوں اختیار کی۔

چنانچہ جب 549 ہجری میں صلیبیوں نے عسقلان پر قبضہ کر لیا، تو عبیدی وہاں سے ایک موہوم سر لے کر آئے اور اسے خلیفہ اور ارکان دولت کی موجودگی میں مشہد حسین کے قریب خان خلیل میں ایک معروف قبر میں بڑی دھوم دھام سے دفن کیا گیا (مواقف المعارضۃ: صفحہ 316) اور عوام کو یہ باور کروایا کہ وہ اس سر کو عسقلان جا کر اپنے صلیبی بھائیوں سے فدیہ کی بھاری رقم دے کر چھڑا کر لائے ہیں۔ (ایضاً)

اس سراسر خود تراشیدہ افسانے کی اصل غرض و غایت سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے بناوٹی محبت کے اظہار کی آڑ میں، ان سے غداری کرنے والے اصل مجرموں کی پردہ پوشی اور امت مسلمہ پر ازحد تنگی کرنا تھی، جو جناب حسین رضی اللہ عنہ اور آل بیت رسول سے سچی محبت کرنے والے ہیں۔

کتاب و سنت سے عداوت اور فتنوں کی نشر و اشاعت سے والہانہ محبت رکھنے والے متاخرین میں سے ایک صاحب قلم و قرطاس اور محقق فاضل جناب حسین محمد یوسف بھی ہے، جس نے اس بات کے اثبات میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے کہ سر حسین واقعی مشہد حسینی میں مدفون ہے، یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے نہ کہ وہم اور باطل خیال۔ اپنے اس مبنی بر جزم دعویٰ کی دلیل میں موصوف لوگوں کے بیان کردہ چند منامات اور رؤیا (خوابوں )کو پیش کرتے ہیں۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 217 الحسین سید شباب اہل الجنۃ لحسین محمد یوسف: صفحہ 149)

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جن روایات کی بنیاد پر عسقلان میں سر حسین کا جو عظیم الشان مقبرہ بنایا گیا ہے، وہ روایات موضوع اور جھوٹے اور وہمی خوابوں پر مبنی ہیں۔ جن کو حاکم مصر مستنصر باللہ عبیدی اور وزیر مملکت بدر الجمالی کے دورِ حکومت میں گھڑا گیا تھا۔ چنانچہ بدر الجمالی نے چند خوابوں کو سن کر ان کی بنیاد پر عسقلان میں ایک عظیم الشان مشہد تعمیر کروا دیا۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 316 نور البصائر: صفحہ 121 الشبلنجی) بدر الجمالی کے بعد افضل عبیدی نے اس جگہ سے وہ سر نکلوا کر عسقلان ہی میں ایک اور جگہ دفن کروا دیا اور اس پر پہلے سے بھی بڑا مشہد تعمیر کروایا۔ (المقریزی اِتّعَاظ الحنفاء: جلد، 3 صفحہ 22)

عبیدیوں کی یہ حرکات اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ انہیں اپنے اس جرم کا پورا پورا شعور و ادراک تھا کہ وہ اپنے آپ کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی طرف منسوب کر کے امت مسلمہ کے ساتھ خیانت اور مکر و فریب کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ وگرنہ دراصل یہ تنکے کی آڑ لے کر خود کو چھپانے کی ایک نامعقول اور نالائق کوشش تھی۔ ان حرکات سے عبیدیوں کا پہلا بنیادی مقصد اپنے نسب، اپنے عقائد کے مآخذ اور فلسطین پر صلیبیوں کے قبضہ کی بابت ان کے ساتھ اپنے خفیہ تعلقات سے لوگوں کی توجہ ہٹانا تھا۔ جبکہ دوسرا بنیادی مقصد کتاب و سنت پر قائم بلاد شام کی سکونتی ترکیب میں زبردست تغیر پیدا کر کے وہاں کتاب و سنت سے انحراف و اعراض اور بدعات میں اشتغال کی فضا کو پیدا کرنا تھا۔

صفحہ 2 از 4