مدفن سر حسین رضی اللہ عنہ کی بابت اختلاف کا سبب - دفاعِ…

مدفن سر حسین رضی اللہ عنہ کی بابت اختلاف کا سبب

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 1 از 4

سر حسین رضی اللہ عنہ کی جائے، تدفین میں پیدا ہونے والے اختلاف کا سبب ان مشاہد و مزارات کی کثرت ہے، جنہیں مسلمانوں کے بلاد و امصار میں جا بجا قائم کر دیا گیا ہے۔ افسوس کہ یہ جملہ مشاہد ان ادوار میں قائم کیے گئے، جب اہل سنت نبویہ کمزور ہو چکے تھے اور ان میں صحیح عقیدہ کا اہتمام اور عقائد کے دشمنوں سے برسر پیکار ہونے کا جذبہ و ولولہ کمزور ہوتے ہوتے تقریباً ختم ہونے کو تھا۔ سر حسین رضی اللہ عنہ کے مدفن کی بابت چند روایات کو ذیل میں اختصار کے ساتھ ذکر کیا جاتا ہے:

ایک روایت یہ ہے کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا سر مبارک کربلا میں دفن ہے۔ (مواقف المعارضۃ للشیبانی: صفحہ 306) جبکہ ایک ثابت روایت میں مذکور ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کے بعد، اہل کوفہ جناب حسین رضی اللہ عنہ کے سر مبارک کو اپنے امیر ابن مرجانہ فارسیہ کے پاس لے گئے تھے۔ ابن مرجانہ سر مبارک کو ایک طشت میں رکھا اور ہاتھ میں پکڑی چھڑی کو اس کے منہ پر مارنے لگا، یہ بد تہذیبی دیکھ کر سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ رہ نہ سکے اور فرمانے لگے: ’’یہ نبی کریمﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ تھے۔‘‘ (صحیح البخاری: 3538)

ابن زیاد کے بعد سر مبارک کہاں لے جایا گیا؟ اس میں زبردست اختلاف ہے۔ چنانچہ جن روایات میں یہ مذکور ہے کہ ابن زیاد نے سر مبارک یزید کے پاس شام بھیج دیا تھا اور یزید ہاتھ میں پکڑی چھڑی کو سر مبارک پر مارنے لگا، جس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے اٹھ کر یزید کے اس فعل پر نکیر کی، تو یہ جملہ روایات درجہ صحت کو نہیں پہنچتیں۔

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ نے ان روایات کے ضعیف ہونے پر اس بات سے استدلال کیا ہے کہ جو صحابہ رضی اللہ عنہم اس الم ناک واقعہ کے وقت موجود تھے، وہ تو سرے سے شام میں تھے ہی نہیں، وہ تو کوفہ میں تھے۔ (منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ 557)

پھر اس روایت کے متن کے فاسد ہونے پر یہ بات بھی دلالت کرتی ہے کہ اس روایت کا متن روایات صحیحہ کے متن کے خلاف ہے، جو اس بات کو بالا تاکید ثابت کرتی ہیں کہ یزید نے آل حسین کے ساتھ ازحد حسن سلوک کیا تھا اور وہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کی آل کے قتل پر بے حد افسردہ اور غم زدہ ہو گیا تھا۔ (مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید للشیبانی: صفحہ 308) جبکہ صحیح روایت میں صرف اس قدر ثابت ہے کہ سر مبارک کو ابن مرجانہ فارسیہ کے پاس لے جایا گیا، یہ ابن مرجانہ تھا، جس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے چہرۂ مبارک پر کمال سنگ دلی کا مظاہر کرتے ہوئے ہاتھ میں پکڑی چھڑی ماری تھی، جس پر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے برملا نکیر کی تھی (صحیح البخاری: 3537 منہاج السنۃ: جلد، 4 صفحہ 141) اور یزید کی طرف سر مبارک کے لے جائے جانے کی روایت باطل ہے، اس کی اسناد منقطع ہے (منہاج السنۃ: جلد، 8 صفحہ 142) اور یہ صحیح روایت کے مخالف بھی ہے۔

جن روایات میں سرمبارک کے شام لے جائے جانے کا ذکر ہے، ان میں سے کوئی روایت بھی البدایہ و النہایہ میں مذکور ہونے کے باوجود درجہ صحت کو نہیں پہنچتی، (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 570) جیسا کہ امام ذہبیؒ نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ (تاریخ الاسلام: صفحہ 106)

اب ذیل میں کسی قدر اختصار کے ساتھ ان شہروں کا ذکر کیا جاتا ہے جن میں سر حسین رضی اللہ عنہ کے دفن ہونے کی بابت روایات منقول ہیں:

 کربلا

اگرچہ اس بارے میں ایک بھی معتبر روایت نہیں ملتی، جس میں اس بات کا ذکر ہو کہ سر حسین رضی اللہ عنہ کربلا میں دفن ہے۔ لیکن اس کے باوجود ایسی روایات کی کثرت ہے اور لطف یہ ہے کہ یہ جملہ روایات انہی شیعوں سے مروی ہیں۔ کچھ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے چالیس دن بعد ان کے سر مبارک کو دوبارہ کربلا لایا گیا اور اسے جسد حسین رضی اللہ عنہ کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ (مواقف المعارضۃ للشیبانی: صفحہ 213)

اس روایت کے اختراع کا مقصد صرف یہی تھا کہ ایک مشہد قائم کر کے اسے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر بغض و نفرت کے اظہار کا مرکز بنا لیا جائے۔

اس روایت کے باطل ہونے کی یہی دلیل کافی ہے کہ اس روایت کو بیان کرنے والے اس روایت میں متفرد اور یہ روایت دلیل سے تہی دست و دامن ہے اور اس کے راوی حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے غداری کرنے والے ہیں۔ جبکہ صحیح روایت تاکید کے ساتھ یہ بیان کرتی ہیں کہ جسد حسین رضی اللہ عنہ کا مدفن غیر معروف ہے اور جو لوگ اس کی معرفت کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت پر افترا پردازی کرتے ہیں۔ (تاریخ بغداد: جلد، 1 صفحہ 143-144 ترجمۃ حسین، رقم الترجمۃ: 276)

ابن جریر وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ قتل حسین رضی اللہ عنہ کی جگہ کے آثار مٹ چکے ہیں، حتیٰ کہ اب کوئی اس جگہ کی تعیین سے آگاہ نہیں رہ گیا۔ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 11 صفحہ 570)

بے پناہ قیل و قال کے باوجود حقیقت یہی ہے، جس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنی شہادت کے بعد ایک مجسم قبر کا نام اور مقام نہیں، بلکہ وہ تو ایک روحانی قدر اور معنوی پیغام ہیں، جو اپنے مدعیان محبت کو اس بات کا درس دے رہے ہیں کہ اصل عزت و شرافت کتاب و سنت سے تمسک میں ہے اور مومن وہ ہے، جو کتاب و سنت کے دشمنوں سے ہوشیار اور خبردار رہے۔

 دمشق

اسے بیہقی نے ایک بلا اسناد روایت میں ذکر کیا ہے کہ سر حسین رضی اللہ عنہ دمشق میں دفن ہے، بے شک یہ ایک سرگشتہ قول ہے، جس کی کوئی قیمت نہیں۔ (المحاسن و المساوی للبیہقی: صفحہ 84 لیکن یہ روایت بلا اسناد ہے، جس کی کوئی قیمت نہیں۔ دیکھیں: مواقف المعارضۃ للشیبانی: صفحہ 313)

ایک روایت اس بارے میں ابن عساکر نے بھی نقل کی ہے، لیکن وہ روایت مجہول ہے۔ (دیکھیں: مواقف المعارضۃ: صفحہ 313 علمی دنیا میں مجہول روایت کی کوئی قیمت نہیں ہوتی) لہٰذا یہ روایت ساقط الاعتبار ہو گی، جو کسی بھی حال میں معتمد و معتبر نہ ہو گی۔ (مواقف المعارضۃ: صفحہ 313)

صفحہ 1 از 4