سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی مصیبت عظمیٰ…

سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی شہادت کی مصیبت عظمیٰ اور امت مسلمہ کی شرعی ذمہ داریاں اور غم حسین میں تخفیف کے لیے شرعی نصیحتیں

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 2 از 2

اس مقام پر یہ نکتہ ازحد ملحوظ رہے کہ جن حضرات نے قتل حسین رضی اللہ عنہ کو جن خود ساختہ اور طلسماتی کہانیوں کے پردوں میں لپیٹ کر امت کے سامنے پیش کیا ہے اور اس لامتناہی سلسلہ کو نسل درنسل نقل کرتے چلے آ رہے ہیں، وہ اس بات کو بھول گئے کہ جناب رسول اللہﷺ اور حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان باتوں میں سے کسی ایک بات کو بھی پائے بغیر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ پھر حضرات خلفائے ثلاثہ سیدنا فاروق اعظم، سیدنا عثمان غنی اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم ان حضرات کی سازشوں کا شکار ہوئے اور ان بزرگوں نے مساجد میں اور قرآنی اوراق کے سامنے جام شہادت نوش کیے لیکن انہیں بھی وہ باتیں حاصل نہ ہوئیں، جن کے تذکروں سے ان حضرات کی کتابیں بھری پڑی ہیں، ان لوگوں نے ان باتوں کے تذکروں سے دنیائے عالم کی فضا کو جھنجھنا کر رکھ دیا ہوا ہے۔ آخر یہ سب امور سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے حصہ میں ہی کیوں آئے، جبکہ ان کے والد ماجد بھی ان باتوں کے حصول سے محروم رہے؟ آخر یہ حالات، تغیرات اور واقعات حضرت حسین ابن علی رضی اللہ عنہما کے قتل سے قبل کیوں منصہ شہود پر وقوع پذیر نہ ہوئے؟ کہیں اس کی وجہ صرف یہی تو نہیں کہ یہ جملہ ہوش ربا، طلسماتی اور ماورائے عقل و خرد واقعات و حوادث ان حضرات کے اپنے ساختہ پرداختہ ہیں اور یہ واقعات گھڑنا اور دنیائے تاریخ میں جعل سازی کے اس نئے باب کا آغاز کرنا، ان کی سخت مجبوری تھی تاکہ آنے والی نسلوں کو قتل حسین کے قبیح ترین جرم کے اصلی مجرموں کے چہروں کی شناخت حاصل نہ ہو۔ اس لیے بے اصل و بے سند واقعات کا ایک طومار تیار کر کے کتب تاریخ کو ان سے بھر دیا گیا اور قتل حسین کے واقعہ پر شک و تلبیس اور دجل و تدلیس کی دبیز تہیں چڑھا دی گئیں۔

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ فرماتے ہیں:

’’ان لوگوں نے (یعنی روافض نے) ذکر کیا ہے کہ جس روز سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا، اس روز جس کنکری، روڑے یا پتھر کو پلٹا جاتا تھا، تو نیچے سے تازہ خون نکل آتا، اس دن سورج کو گرہن لگ گیا، آسمان کا کنارا سرخ ہو گیا اور آسمان سے پتھر برسنے لگے۔ یہ سب باتیں محل نظر ہیں اور بظاہر یہ روافض کی کذب بیانی کا شاخسانہ ہے تاکہ قتل حسینؓ کے امر کو بے حد عظیم بنا کر پیش کیا جا سکے۔ اس با ت میں کوئی شک نہیں کہ سبط رسولﷺ کا قتل ایک عظیم واقعہ ہے، لیکن جو باتیں اس قتل کی آڑ میں ان شیعہ حضرات نے جعل سازی سے گھڑ کر بیان کی ہیں، وہ سراسر خلاف واقع ہے۔ جناب حسین رضی اللہ عنہ سے قبل خود ان کے والد ماجد سیدنا علی رضی اللہ عنہ قتل ہوئے، جو بالاجماع ان سے افضل ہیں، لیکن ان کی شہادت پر ایسا کوئی خلاف فطرت واقعہ پیش نہیں آیا۔ پھر ان سے پہلے امیر المومنین سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو محصور کر کے مظلومانہ قتل کر دیا گیا، لیکن ایسے ماورائے عقل واقعات رونما نہ ہوئے اور ان سے بھی قبل سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد و محراب کے درمیان عین نماز فجر میں شہید کر دئیے گئے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت واقعی مصیبت عظمیٰ تھی کہ اس سے قبل اہل اسلام کو ایسا واقعہ ہرگز بھی پیش نہ آیا تھا، لیکن اس طامۂ کبریٰ کے وقت بھی زمین و آسمان کے درمیان کوئی ایسا تغیر و انقلاب پیش نہ آیا تھا اور تو اور جناب محمد مصطفی، احمد مجتبیٰ، جو سید البشر خاتم الانبیاء و المرسلین اور امام الانبیاء ہیں اور بالاجماع ذات باری تعالیٰ کے بعد جملہ مخلوقات میں سب سے افضل ہیں اور آپﷺ کی یہ فضیلت و بزرگی دنیا و آخرت دونوں جہانوں کے لیے ثابت ہے، لیکن جس دن آپ نے اس دار فانی سے رحلت فرمائی گردش لیل و نہار میں سر مو تغیر بھی پیش نہ آیا تھا اور جو باتیں یہ شیعہ شہادت حسینؓ کے دن کے بارے میں بیان کرتے ہیں، ایسی کوئی بات کسی کے دیکھنے سننے میں نہ آئی۔ یہی وجہ ہے کہ جب نبی کریمﷺ کے فرزند ارجمند سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا اور اس دن اتفاقاً سورج کو گرہن بھی لگ گیا اور لوگوں میں اس بات کا چرچا ہونے لگا کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ کی وفات پر سورج بھی گہنا گیا ہے، تو نبی کریمﷺ نے نماز کسوف ادا فرمائی اور بعد میں لوگوں میں ایک نہایت بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا، جس میں اس بات کو واضح فرما دیا کہ آفتاب و ماہتاب کا گہنا جانا، کسی کی موت و حیات پر موقوف نہیں۔‘‘ (دیکھیں : البدایۃ و النہایۃ: جلد، 5 صفحہ 311 صحیح مسلم: 901)

نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’بے شک سورج اور چاند رب تعالیٰ کی (آفاقی) نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، یہ کسی کی موت یا حیات کی وجہ سے نہیں گہناتے۔ پس جب تم ان کو گہناتے دیکھو، تو رب تعالیٰ سے دعا مانگو اور تکبیر پڑھو اور نماز پڑھو اور صدقہ دو، پھر ارشاد فرمایا: ’’اے امت محمد! اللہ کی قسم! اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں، تو (بہت) کم ہنسو اور (بہت) زیادہ روؤ۔‘‘ (صحیح البخاری: 997)


صفحہ 2 از 2