مقتل حسین رضی اللہ عنہ کا خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع…

مقتل حسین رضی اللہ عنہ کا خلاصہ

  حامد محمد خلیفہ عمان

صفحہ 3 از 4

’’رب تعالیٰ نے اہل شہادت کو ایسا کرنے سے روکا ہے اور میرا تمہارے اوپر کوئی اختیار نہیں۔‘‘ (البدایۃ و النہایۃ: جلد، 8 صفحہ 233 تاریخ الاسلام، حوادث السنۃ: 61-80 مختصر تاریخ دمشق: جلد، 1 صفحہ 3756)

محمد بن حنفیہ رحمۃ اللہ کا یہ موقف ان لوگوں کی تادیب و سرزنش اور تنبیہ و تاکید کے لیے کافی ہے، جنہوں نے ایک ایسے شخص کے خلاف اتہام بازی اور تہمت طرازی کے میدان میں اپنی زبان اور قلم کو بگٹٹ گھوڑے کی طرح سرپٹ دوڑا رکھا ہے، جس کی بیعت پر امت کی طرف سے ’’شبہ اجماع‘‘ ثابت ہے اور جب ہم محمد بن حنفیہ کے اس موقف کے ساتھ اپنے زمانہ کے ’’شیخ الصحابہ‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر اور رفیع المرتبت صحابی رسولﷺ کے موقف کو بھی ملا لیتے ہیں، جو اس اجماع کے خلاف خروج کرنے والوں کو شدت کے ساتھ ڈراتے ہیں اور انہیں گناہ گار اور اوزار و آثام کا بوجھ اٹھانے والا قرار دیتے ہیں، تو اس بہتان بازی کی قباحت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

یہی موقف امام زین العابدین علی بن حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کا بھی تھا، جنہوں نے اپنے کسی قول یا فعل کے ساتھ یزید کے خلاف خروج کرنے والوں کا ساتھ نہ دیا تھا اور نہ بنی عبدالمطلب میں سے ہی کسی نے ایسا کیا تھا۔ اگر مؤرخین کی بیان کردہ یہ باتیں درست ہوتی، تو امام زین العابدین رحمہما اللہ سے بڑھ کر اور کون ہو سکتا تھا، جو ان باتوں پر خاموش رہتا اور یزید کے خلاف خروج نہ کرتا؟

مزید یہ کہ نبی کریمﷺ کا یہ ارشاد اس بات کو واجب کرتا ہے کہ اٹکل سے حکم بیان کرنے سے قبل خوب غور و خوض ضرور کر لیا جائے۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:

’’قیصر کے شہر سے میری امت کا جو پہلا لشکر جہاد کرے گا، وہ مغفور (بخشش کیا ہوا) ہے۔‘‘ (صحیح البخاری: 2766)

یعنی اس کے لیے مغفرت اور بخشش کی بشارت ہے۔

قیصر کے شہر سے مراد قسطنطنیہ ہے۔ یزید بن معاویہؓ نے اپنے والد ماجد جناب امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بلاد روم میں جہاد کیا اور قسطنطنیہ تک جا پہنچا۔ اس غزوہ میں اس کے ہمراہ کبار صحابہ اور اشراف و اکابر تھے، جیسے حضرت ابن عمر، حضرت ابن عباس اور حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہم وغیرہ، جنہوں نے اسی غزوہ میں وفات پائی اور قسطنطنیہ کی فصیل کے قریب دفن کیے گئے۔ ان کی قبر آج بھی مشہور و معروف اور مرجع خلائق ہے۔ یہ 52 ہجری کے قریب قریب کا قصہ ہے جس کا انکار صرف ایک ہٹ دھرم، بے انصاف اور موضوعیت سے محروم انسان ہی کر سکتا ہے۔

اس حدیث میں اس لشکر کی منقبت بھی ہے اور ان کے لیے لسان نبوت سے مغفرت کی بشارت بھی ہے۔ جب نیکوں کا ہم مجلس بھی محروم نہیں رہتا، تو یاد رکھیے کہ پھر اس لشکر میں شریک ہر انسان چاہے وہ امیر تھا یا مامور، رب تعالیٰ کے کرم کا طلب گار اور نبی کریمﷺ کی بشارت کا خواست گار تھا۔

اہل سنت و الجماعت کے علماء جو یزید پر سب و شتم کے جواز کے قائل ہیں، تو اس کی وجہ ان کے علم و فہم کا قصور اور کوتاہی ہے۔ جس کے اصولی طور پر تین ہی اسباب ہو سکتے ہیں:

1۔ یا تو یہ نادان دوست بھی اعدائے صحابہ کے بچھائے مکر و فریب کے جالوں میں جا پھنسے ہیں۔

2۔ یا پھر یہ اس شدید جذباتی اور حساس ماحول کا نتیجہ ہے جس میں یہ علماء رہ رہے ہوتے ہیں۔

3۔ یا پھر تحقیق و تدقیق کا ذہول انہیں سب و شتم کے جواز کے دروازے پر لے جاتا ہے۔ حالانکہ اگر یہ لوگ تحقیق کرنا چاہیں تو کر بھی سکتے ہیں اور یہ امر انہیں نبی کریمﷺ کے ساتھ محبت و ولا رکھنے میں زیادہ پاکیزگی کا باعث بنے گا۔

لیکن جنہوں نے حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کو لعن طعن کے تیروں کی آماج گاہ بنا لیا اور اس کی دلیل آل بیت رسولﷺ کی محبت بیان کی کہ ان کا کام ہی امت میں کتاب و سنت کی بابت تشکیک پھیلانا ہے۔ ان کے لیے ہلاکت و بربادی ہو، انہوں نے بے شمار حوادث و واقعات کو ایسے طلسماتی رنگ میں پیش کیا ہے اور ان کی ایسی فاسد توجیہات اور ان کی بابت ایسے بارد اقوال پیش کیے ہیں، جن کو روافض، مستشرقین اور لامذہب ملحدین نے امت کی وحدت پر حملہ کرنے کا تباہ کن ہتھیار بنا لیا ہے اور آج اس ہتھیار کو لے کر یہ نامراد طبقے حق کی بیخ کنی میں لگے ہیں۔

اس طبقہ کی جانب داری، غفلت، سوء فہم، کج فکری اور حالات و واقعات کی خلاف واقعہ منظر کشی کی عادت کی اس سے بڑھ کر اور کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ جب بات حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی آتی ہے، جو میدان کربلا میں شہید ہوئے نہ کہ کسی مسجد اور اس کے محراب میں، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے نام کی غیرت پر وہ شور مچایا جاتا ہے کہ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ لیکن جب بات آتی ہے شہید منبر و محراب، جناب محمد مصطفی احمد مجتبیٰﷺ کے وزیر و نصیر، خلیفہ راشد، امیر المومنین عمر بن خطاب الفاروق رضی اللہ عنہ کے قاتل کی، جن کو بلا دلیل و تاویل غدر کرتے ہوئے، ایک باقاعدہ منصوبہ کے تحت نماز کے دوران میں عین مسجد نبوی میں اور محراب رسول میں ظلمًا شہید کر دیا گیا، جو ان کے زمانہ میں روئے زمین کے ہر فرد بشر سے افضل و بزرگ تھے، تو ان کی غیرت و حمیت پیوند خاک ہو جاتی ہے اور خلیفہ مسلمین پر ہونے والے اس ظلم و ستم کے بارے میں ایک حرف بھی ان کے لبوں پر نہیں آتا، جنہوں نے امت مسلمہ کو رفعتوں اور عزتوں کی چوٹیوں پر جا بٹھایا تھا۔

قاتلان حسینؓ پر بے محابا غل مچانے والوں کا مشیر رسول کے مجوسی قاتل ابو لولو فیروز دیلمی پر لبوں کو سی لینا کسی اور امر کی غمازی کرتا ہے اور ان کے اس ’’فکری سکوت‘‘ کے تانے بانے کہیں اور جا ملتے ہیں!!

صورتِ حال یوں ہے کہ

اب نہ تو یہاں کوئی شور و غل ہے نہ ہنگامہ

نہ اظہار غم ہے اور نہ رونا دھونا

نہ جلوس ہیں اور نہ قاتل فاروق پر سب و شتم اور لعن طعن!!

تو کیا اس کی وجہ کہیں یہ تو نہیں کہ

’’وہ قاتل ’’مجوسی ایرانی اور فارسی‘‘ تھا۔

کیا اب بھی تاریخ کا آئینہ صاف نہیں ہوتا اور اس کے سامنے سے تشکیک کی اڑائی گرد نہیں چھٹتی اور یہ بات الم نشرح ہو کر سامنے نہیں آتی کہ مذہبی رجحانات کے پیچھے اصل مقصد اسلام کی تاریخ میں علمی اور فکری تشکیک پیدا کرنا ہے۔

صفحہ 3 از 4