شیعہ کی دلیل #14: ولی کا معنی رسول اللہ کا خلیفہ اور رسول…

شیعہ کی دلیل #14: ولی کا معنی رسول اللہ کا خلیفہ اور رسول اللہ کا جانشین بزبان حضرت عمر (صحیح مسلم)

  جعفر صادق

صفحہ 2 از 2

الم :  سورۃ البقرة : آیت 107

اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰہَ لَہٗ  مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۰۷﴾

ترجمہ الکوثر (اہل تشیع )

کیا تو نہیں جانتا کہ آسمانوں اور زمین کی سلطنت صرف اللہ ہی کے لیے ہے ؟ اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی کارساز اور مددگار نہیں ہے۔

آیت میں لفظ ولی کا ترجمہ شیعہ مترجم نے کارساز اور مددگار کیا ہے، کیا ہم یہاں ولی سے جانشین، نائب، خلیفہ مراد لے سکتے ہیں؟ وضاحت مطلوب ہے۔

تلک الرسل :  سورۃ آل عمران : آیت 68

اِنَّ اَوۡلَی النَّاسِ بِاِبۡرٰہِیۡمَ لَلَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ وَ ہٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیۡنَ  اٰمَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ وَلِیُّ  الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۸﴾

ترجمہ الکوثر (اہل تشیع )

ابراہیم سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق ان لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے ان کی پیروی کی اور اب یہ نبی اور ایمان لانے والے (زیادہ حق رکھتے ہیں) اور اللہ ایمان رکھنے والوں کا حامی اور کارساز ہے۔

شیعہ مترجم نے آیت میں لفظ ولی کا ترجمہ حامی اور کارساز کیا ہے؟ کیا اسے علم نہیں ہوا کہ ولی کے معنی تو نائب، جانشین اور خلیفہ ہے۔اگر شیعہ کی مان لی جائے تو مطلب اللہ عزوجل ایمان رکھنے والوں کا نائب، جانشین اور خلیفہ تسلیم کرنا پڑے گا! اللہ کی پناھ۔

وماابرئ :  سورۃ یوسف : آیت 101

رَبِّ قَدۡ اٰتَیۡتَنِیۡ مِنَ الۡمُلۡکِ وَ عَلَّمۡتَنِیۡ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۟ اَنۡتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّ اَلۡحِقۡنِیۡ  بِالصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰۱﴾

ترجمہ نمونہ (اہل تشیع )

پروردگار ! تو نے مجھے حکومت کا (عظیم) حصہ بخشا ہے اور تو نے مجھے خوابوں کی تعبیر کا علم دیا ہے تو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور تو دنیا و آخرت میں میرا سرپرست ہے ، مجھے مسلمان مارنا اور صالحین کے ساتھ ملحق فرمانا۔

شیعہ مترجم کی مانیں یا شیعہ مناظر کی! اس آیت کے مطابق حضرت یوسف علیہ السلام تو اللہ کو ولی کہہ رہے ہیں کیا اس کا مطلب اللہ عزوجل کو  حضرت یوسف کا  نائب، جانشین اور خلیفہ سمجھ لیں! معاذاللہ

ایسی کئی آیات اور بھی ہیں، بطور مثال تین پیش کردی ہیں اور تراجم بھی شیعہ کے ہی ہیں۔ مطالبہ کرنے پر اسکینز بھی پیش کرسکتا ہوں۔

حم :  سورۃ محمد : آیت 16

وَ مِنۡہُمۡ  مَّنۡ یَّسۡتَمِعُ  اِلَیۡکَ ۚ حَتّٰۤی  اِذَا خَرَجُوۡا مِنۡ عِنۡدِکَ قَالُوۡا لِلَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ  مَاذَا  قَالَ  اٰنِفًا ۟ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ طَبَعَ اللّٰہُ  عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ اتَّبَعُوۡۤا  اَہۡوَآءَہُمۡ ﴿۱۶﴾

 ترجمہ الکوثر (اہل تشیع )

ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو آپ کو سنتے ہیں لیکن جب آپ کے پاس سے نکل جاتے ہیں تو جنہیں علم دیا گیا ہے ان سے پوچھتے ہیں : اس نے ابھی کیا کہا ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر لگا دی ہے اور وہ اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں۔

    اس آیت  میں اہل علم کا ذکر ہے۔


صفحہ 2 از 2