شیعہ کے مذہبی پروگراموں میں اپنے مکان اور برتن وغیرہ کرایہ…

شیعہ کے مذہبی پروگراموں میں اپنے مکان اور برتن وغیرہ کرایہ پر دینا اور اُن کے ساتھ تعاؤن کرنا اور شیعیت کی اسلام دشمنی


صفحہ 3 از 3

آگے تفسیر فرماتے ہوئے علامہ قرطبیؒ رقمطراز ہیں وانها دالة علی هجران اهل المكفر والمعاصى من اهل البدع و غيرهم یعنی اس آیت سے معلوم ہوا کہ اہلِ کفر اور اہلِ معصیت اور اہلِ بدعت کی صحبت سے اجتناب اور پرہیز واجب ہے (بجز اس کے کہ کسی مجبوری سے ان سے ملنا پڑے)۔

مدینہ منورہ میں یہود کے جو قبائل آباد تھے، ان میں سے ایک بنو قینقاع تھا، ان کے ساتھ حضور اکرمﷺ کا معاہدہ تھا کہ ہم آپس میں جنگ نہیں کریں گے، اور ایک دوسرے کے دشمنوں کی مدد بھی نہیں کریں گے۔ اُن لوگوں نے بعد میں اس معاہدہ کی خلاف ورزی کی، اور اس کو توڑ دیا، اُس وقت حضرت عبادہ بن صامتؓ نے (جن کے ان کے ساتھ تعلقات تھے) ان کی اس شرارت کو دیکھ کر ان کے ساتھ جو تعلقات تھے تمام یکسر ختم فرما کر ان سے بیزاری کا اعلان فرمایا۔ اس وقت قرآن کریم کی آیت يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤى اَوۡلِيَآءَ ‌ؔۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌(سورۃ المائدہ: آیت نمبر، 51) نازل ہوئی۔ 

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ اس واقعہ سے استنباط فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ اس حدیث شریف سے ظاہر ہے کہ ایمان کے لئے اللہ تعالیٰ جل شانہ اور رسولﷺ اور عباد مؤمنین کی محبت ضروری ہے، اسی طرح اللہ تعالیٰ جل شانہ اور اس کے رسولﷺ کے دشمنوں سے عداوت و نفرت بیزاری اور برأت کا اعلان بھی ضروری ہے۔

شیعوں کی مسلمانوں کے ساتھ دشمنی اور عداوت ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ یہ لوگ مسلمانوں کے حقیقی خیر خواہ نہیں ہو سکتے، بلکہ ہمیشہ اس کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ مسلمانوں کو بےوقوف بنا کر انہیں نقصان پہنچائیں، اور دینی و دنیوی خرابیوں میں مبتلا کریں، ان کی آرزو یہ ہے کہ مسلمان تکلیف میں رہیں، اور کسی نہ کسی تدبیر سے انہیں دینی یا دنیوی نقصان پہنچے۔ جو دشمنی یا ضرر ان کے دلوں میں ہے وہ تو بہت زیادہ ہے، لیکن بسا اوقات عداوت و غیظ و غضب سے مغلوب ہو کر کھلم کھلا بھی ایسی باتیں کر گزرتے ہیں جو ان کی گہری دشمنی کا پتہ دیتی ہے۔ ارشاد ربانی ہیں لَا يَاۡلُوۡنَكُمۡ خَبَالًا ؕ وَدُّوۡا مَا عَنِتُّمۡ‌ۚ قَدۡ بَدَتِ الۡبَغۡضَآءُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِم وَمَا تُخۡفِىۡ صُدُوۡرُهُمۡ اَكۡبَرُ‌(سورۃ آل عمران: آیت نمبر، 118) الخ کے مصداق ہیں۔ 

(محمود الفتاوىٰ: جلد، 1 صفحہ، 333)


صفحہ 3 از 3