شیعہ کے مذہبی پروگراموں میں اپنے مکان اور برتن وغیرہ کرایہ…

شیعہ کے مذہبی پروگراموں میں اپنے مکان اور برتن وغیرہ کرایہ پر دینا اور اُن کے ساتھ تعاؤن کرنا اور شیعیت کی اسلام دشمنی


صفحہ 2 از 3

 شیعوں کا دوسرا سب سے بڑا اصول صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض وعداوت ہے۔ شیعوں کے نزدیک حضور اکرمﷺ کے بعد جنہوں نے سیدنا صدیقِ اکبرؓ کے ہاتھ پر بیعت کی وہ (نعوذ باللہ) اس فعل کی وجہ سے سب کے سب کافر اور مرتد ہو گئے تھے، کیونکہ انہوں نے امام معصوم یعنی سیدنا علیؓ کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی، ان میں بھی حضرات شیخین (سیدنا صدیقِ اکبرؓ اور سیدنا فاروقِ اعظمؓ) کے بارے میں تو ان کا عقیدہ یہ ہے کہ نہ صرف یہ کافر و منافق تھے بلکہ اگلی اُمتوں اور اس اُمت کے خبیث ترین کافروں، فرعون، ہامان، نمرود، ابولہب، ابوجہل سے بھی حتٰی کہ شیطان مردود سے بھی بدتر درجہ کے کافر تھے، اور جہنم میں سب سے زیادہ عذاب ان ہی دونوں پر ہے (نعوذ بالله)۔ اور یہ کہ ان دونوں کی بیٹیاں(حضور اکرمﷺ کی پاک بیویاں سیدہ عائشہ صدیقہؓ اور سیدہ حفصہؓ) بھی (نعوذ بالله) منافقہ و کافرہ تھیں، اور اپنے باپ (سیدنا صدیقِ اکبرؓ و سیدنا فاروقِ اعظمؓ) کے کہنے سے ان دونوں نے حضور اکرمﷺ کو زہر دے کر شہید کر دیا استغفر الله، ثم استغفر الله و العياذ بالله

(3) تحریفِ قرآن

شیعوں کا تیسرا عقیدہ، اول الذکر دونوں عقیدوں سے بدتر مگر دو اور دو چار کی طرح اول الذکر دونوں عقیدوں کا لازمی نتیجہ ہے، اور وہ ہے تحریف قرآن۔ 

مسلمان تو مسلمان آج تک کسی بد سے بدتر کافر کو بھی یہ کہنے کی جرأت نہیں ہوئی کہ مسلمانوں کے پاس قرآن کریم کے نام سے جو مقدس کتاب محفوظ چلی آتی ہے، اور جس کے ہر زمانہ میں ہزاروں نہیں، لاکھوں حافظ موجود رہے ہیں، وہ ٹھیک وہی کتاب نہیں جو مسلمانوں کو حضور اکرمﷺ نے دی تھی لیکن لعنت ہے شیعہ مذہب کے موجدوں کو، انہوں نے یہ عقیدہ بھی شیعوں سے منوا لیا۔ شیعہ مذہب کہتا ہے کہ قرآن کریم موجودہ شکل میں جو مسلمانوں کے پاس ہے یہ وہ اصل قرآن کریم نہیں جو حضور اکرمﷺ کو دیا گیا تھا، بلکہ یہ صحیفہ عثمانی ہے۔ اصلی وہ بڑا قرآن کریم ہے جو بارہوں امام کے ساتھ کسی نا معلوم غار میں دفن ہے۔

میرے محترم قارئین کرام!

شیعوں کے ان کفریہ عقائد کی وجہ سے تمام علمائے اسلام نے ان کو کافر و مرتد قرار دیا ہے۔ ماضی قریب میں اس سلسلہ میں ایک تفصیلی فتویٰ ہند و پاک و بنگلہدیش کے علماء کے دستخط سے شائع بھی ہو چکا ہے۔ اور خود آپ کے استفتاء میں وڈا ملا کا سالِ گذشتہ محرم الحرام کا عمل بھی تحریر ہے، اور یہ ایسی معروف و مشہور بات ہے جس سے تمام اخبار بین حضرات بخوبی واقف ہیں۔

 اب ایسی شخصیت کی آمد پر ان کا استقبال اور اظہار مسرت کرنا، نیز ان کے مذہبی پروگراموں کے لئے جو ظاہر ہے کہ ان کے انہی باطل عقائد و نظریات کی ترویج و اشاعت کے لئے ہوتے ہیں، بلکہ امسال ان پروگراموں کا سلسلہ بمبئی سے سورت اس لئے منتقل کیا گیا ہے کہ گذشتہ سال کے واقعہ سے بمبئی کے مسلمان چونک گئے ہیں، اور امسال کے پروگراموں پر ان کا تعاقب کا قوی خدشہ تھا، اس لئے اس سے بچنے کیلئے بڑی ہوشیاری سے یہ لوگ اس سلسلہ کو سورت میں لے آئے ، تا کہ ان کی شرارتوں پر پردہ پڑا رہے۔ 

ایسے موقع پر اسلامی غیرت وحمیت کا تقاضا تو یہ تھا کہ سورت کے مسلمان اس سلسلہ کی سورت میں منتقلی پر ہی اپنے غم و غصہ اور ناراضگی کا اظہار کرتے، چہ جائیکہ اپنے اداروں کی عمارتوں کو کرایہ کے لالچ میں ان کے حوالہ کر رہے ہیں، اور لیڈر حضرات ووٹ کے لالچ میں اور اپنی لیڈری چمکانے کے لئے استقبال کر رہے ہیں۔ 

یہ یاد رہے کہ وڈا ملا کی سورت میں آمد کسی سیاسی پروگرام کے ماتحت نہیں تھی بلکہ خالص مذہبی پروگرام کی غرض سے تھی، اس لئے شرعی طور پر ان کے استقبال یا اس پروگرام میں کسی بھی نوع کا تعاون جائز نہیں ہے، باری تعالیٰ جل شانہ کا ارشاد ہے:

 وَلَا تَعَاوَنُوۡا عَلَى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ‌  (سورۃ المائدہ: آیت نمبر، 2) یعنی گناہ اور زیادتی (کی باتوں) میں ایک دوسرے کی اعانت نہ کرو۔

تفسیر روح المعانی میں آیت کریمہ فلن اكون ظهير اللمجرمین کے تحت یہ حدیث شریف نقل کی ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا قیامت کے دن آواز دی جائے گی کہ کہاں ہیں ظالم لوگ اور ان کے مددگار؟ یہاں تک کہ وہ لوگ جنہوں نے ظالموں کے دوات قلم درست کیا، وہ بھی سب ایک لوہے کے تابوت میں جمع کرکے جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے۔ 

یہ یاد رہے کہ قرآن وحدیث کی اصطلاح میں ظلم کا اطلاق تمام گناہوں پر ہوتا ہے، حدیث پاک میں نبی کریمﷺ‎ کا ارشاد ہے من وقر صاحب بدعة فقد اعان على هدم الاسلام یعنی جس نے کسی صاحب بدعت کی توقیر وتعظیم کی، اس نے (گویا تمام اہل) اسلام کے نیست و نابود کرنے پر تعاون کیا، آج کل استقبال، تعظیم و توقیر کی غرض سے ہی کیا جاتا ہے۔

دور حاضر میں ایران کی شیعی حکومت کے باطل پروپیگنڈہ نے مسلمان نوجوانوں کے دل و دماغ کو متاثر کیا ہے، ایسے وقت میں ان لوگوں کے ساتھ اس طرح کا تعاون اور رابطہ عوام مسلمین کے دین و ایمان کے لئے مہلک ہے، شیعوں کے یہاں محرم الحرام کی مجالس ان کا مذہبی شعار سمجھی جاتی ہے جن میں وہ گوناگوں خرافات کے مرتکب ہوتے ہیں ، ان کے اس مذہبی شعار کی ادائیگی کےلئے مکان مہیا کرنا کس قدر خطرناک ہے ؟ اس کا انداز و ہر باحمیت و باغیرت مسلمان بہ آسانی لگا سکتا ہے؟ خصوصاً ادارہ کا یہ مکان اگر مخصوص کام کے لئے وقف ہو تو وقف کرنے والے کے مقرر کردہ شرائط کے خلاف اس کو استعمال کرنا، یعنی کرایہ پر دینا تو عام حالات میں بھی درست اور جائز نہیں ہے۔ 

آیت کریمہ: وَلَا تَرۡكَنُوۡۤا اِلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ وَمَا لَـكُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ اَوۡلِيَآءَ ثُمَّ لَا تُنۡصَرُوۡنَ‏ ۞ (سورۃ ھود: آیت نمبر، 113) کی تفسیر میں حضرت ابنِ جریرؒ نے فرمایا ہے کہ ظالموں کی طرف کسی طرح کا بھی میلان نہ رکھو۔ حضرت ابو العالیہؒ نے فرمایا کہ ان کے اعمال وافعال کو پسند نہ کرو۔ حضرت جابر بن زیدؒ فرماتے ہیں کہ رکون

جو آیت میں مذکور ہے کا مطلب ہے مداہنت پرتنا، یعنی ان کے کفریات پر انکار نہ کرنا۔

صفحہ 2 از 3