دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ


صفحہ 5 از 5

ملا علی قاریؒ نے شرح فقہ اکبر میں لکھا ہے کہ مشاجرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں جو باتیں باطل اور جھوٹی ہیں ان کی طرف کوئی التفات نہیں کیا جائے گا اور جو باتیں صحیح و ثابت ہیں ان کے بارے میں اچھی تاویل کی جائے گی۔ (6) پوری امت کا اس پر اتفاق ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی معرفت ان کے درجات اور ان میں پیش آنے والے باہمی اختلافات کا فیصلہ کوئی عام تاریخی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ معرفت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین تو علم حدیث کا ایک اہم جزء ہے جیسا کہ مقدمه اصابہ میں حافظ ابنِ حجرؒ نے اور مقدمه استیعاب میں حافظ ابن عبدالبرؒ نے وضاحت سے بیان فرمایا ہے۔ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باہمی تفاضل و درجات اور ان کے درمیان پیش آنے والے اختلافات کے فیصلہ کو علمائے امت نے عقیدہ کا مسئلہ قرار دیا ہے اور تمام کتب عقائد اسلامیہ میں اس کو ایک مستقل باب کی حیثیت سے لکھا ہے، ایسا مسئلہ جو عقائد اسلامیہ سے متعلق ہو اور اسی مسئلہ کی بنیاد پر بہت سے اسلامی فرقوں کی تقسیم ہوئی ہو، اس کے فیصلے کےلئے بھی ظاہر ہے کہ قرآن وسنت کی نصوص اور اجماعِ امت جیسے شرعی حجت درکار ہیں، اس کے متعلق اگر کسی روایت سے استدلال کرنا ہے تو اس کو محدثانہ اصول تنقید پر رکھنا واجب ہے، اس کو تاریخی روایتوں میں ڈھونڈنا اور ان پر اعتماد کرنا اصولی اور بنیادی غلطی ہے، وہ تاریخیں کتنے ہی بڑے ثقہ اور معتمد علمائے حدیث ہی کی لکھی ہوئی کیوں نہ ہوں، اس کی فنی حیثیت ہی تاریخی ہے جس میں صحیح و سقیم روایات جمع کر دینے کا عام دستور ہے۔ 

سلف و خلف اور متقدمین و متاخرین اصولیین، فقہاء اور اکابر کی مذکورہ واضح تصریحات سے معلوم ہوا کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت و ثقاہت اور ان کا جرح و تنقید سے بالاتر ہونا قرآنی آیات اور احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے اور یہ نصوص اپنی دلالت میں صریح و محکم ہیں، یہ اہلِ سنت والجماعت کا ایک مسلّمہ عقیدہ ہے، جس پر جمہور امت کا اجماع ہے؟ اوران کے درمیان جو اختلافات رونما ہوئے، ان کو اجتہادی قرار دیتے ہوئے سکوت اختیار کرنا اور کسی بھی صحابیؓ کی شان میں منفی تبصرہ کرنے سے احتراز کرنا بھی اہلِ سنت کا مذ ہب ہے۔ 

مذکورہ تفصیلات کی روشنی میں آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں:

(الف) سوال نامے کے ساتھ تحریر و تقریر کے جو اقتباسات منسلک کئے گئے ہیں، ان کو پڑھنے سے واضح ہے کہ مذکورہ شخص کے عقائد و نظریات جمہور اہلِ سنت والجماعت کے قطعاً خلاف ہیں اور موجب فسق ہیں اور منسلکہ صفحات میں جن نصوص سے استدلال کیا گیا ہے، وہ قطعاً درست نہیں ہے، یہ محض کم علمی اور کج فہمی سے عبارت ہے۔ 

بر ملا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں باغی، طاغی، مجرم، حکومت کا حریص اور ظالم جیسے الفاظ استعمال کرنا اور ان کی تنقیص تفسیق براهِ راست ایمان کے لئے نہایت خطرناک ہے، ایسے نظریات کا حامل شخص کوئی بھی ہو بلاشبہ خود بھی گمراہ ہے اور دوسروں کی بھی ضلالت کا سبب ہے، نفوس سلیمہ ایسی باتوں کو کبھی قبول نہیں کر سکتے، اگر کسی کو ایسی باتیں بھلی معلوم ہوتی ہیں تو خود اس کے اندر زیغ ہے۔

(ب) ایسے شخص کے انتظام و انصرام میں چلنے والے مدرسہ میں بچوں اور بچیوں کو دینی تعلیم کے لئے بھیجنا فسادِ عقیدہ کے اندیشہ کی وجہ سے قطعاً جائز نہیں ہے۔ 

(ج) مسلمانوں کے لئے ایسے شخص کو مقتدا ماننا، اس کی تقریر سننا تحریر پڑھنا اور اس کے دُروس میں شریک ہونا نہ صرف یہ کہ ناجائز ہے بلکہ ایمان کے لئے سخت خطر ناک اور نقصان دہ ہے۔ 

(د) ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔

(12:2:1442 ھجری بمطابق 2020:9:30عیسوی)


صفحہ 5 از 5