دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ


صفحہ 4 از 5

حضرت امام وکیعؒ سے منقول ہے کہ جس طرح دروازے کا کنڈا ہلانے سے پورے دروازے میں حرکت ہوتی ہے، اسی طرح سیدنا امیر معاویہؓ کی مثال ہے، جو ان کو نشانہ بنائے گا، ہم ان کے علاوہ دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں بھی اس کو متہم سمجھیں گے۔ 

علامه مرتضی زبیدیؒ شرح احیاء میں لکھتے ہیں کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عدالت کے ذریعہ تزکیہ کرنا اور ان پر کسی طرح کا بھی طعن کرنے سے بچنا واجب ہے اور دیندار کے لئے زیبا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جس حال میں عہد نبوی ﷺ میں تھے، اسی حال پر آخر تک ان کو باقی رکھنے والا اعتقاد کرے، پس اگر کوئی لغزش نقل کی جائے تو عاقل کو چاہئے کہ اس نقل پر غور کرے، اگر وہ کمزور ہو تو اس کو رد کر دے اور اگر ایسا نہ ہو اور روایت آحاد میں سے ہو تو بھی امرِ متواتر میں اور جس چیز کی شاہد نصوص ہوں وہ نقل کوئی قدح پیدا نہیں کر سکتی۔

حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن دیوبندیؒ ایک سوال کہ ایک شخص سیدنا امیر معاویہؓ کی شان میں الفاظ دغاباز خائن، جھوٹا، خاطی، آلِ رسولؐ کا دشمن کہتا ہے، ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے؟ کے جواب میں لکھتے ہیں کہ ایسا شخص گنہگار اور فاسق ہے، اس کو فوراً توبہ کرنی چاہئے، کسی صحابیؓ کی شان میں ایسی گستاخی کرنا کسی مسلمان کا کام نہیں، بہت سے بہت یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ سے اجتہادی غلطی ہوئی ، جس سے ان کی شان صحابیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

نیز ایک دوسرے سوال کہ جس کتاب میں سیدنا امیر معاویہؓ کی عظمت و عزت کا لحاظ نہ کیا گیا ہو، بلکہ ایک قسم کی توہین ٹپکتی ہو اس کتاب کا پڑھنا اور جس کا عقیدہ اُس کے موافق ہو اس کا امام بنانا کیسا ہے؟ کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ سیدنا امیر معاویہؓ جو کہ صحابی کا تب وحی تھے اور حضور اکرمﷺ نے ان کے لئے دعا فرمائی جیسا کہ کتب احادیث سے ظاہر ہے، ان کی شان میں ایسے الفاظ لکھنا نہایت سوءِ ادبی اور لکھنے والے کے فساد عقیدہ کی دلیل ہے۔ پس ایسی کتاب کا دیکھنا اور اس پر عقیدہ رکھنا درست نہیں اور جس کا عقیدہ ایسا ہو وہ لائق امام بنانے کے نہیں ہے، اور اس کے پیچھے نماز نہ پڑھیں اور اس کو معزول کر دیں۔

فقیه الامت حضرت مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ لکھتے ہیں کہ جن مقدس ہستیوں کو رسول اکرمﷺ نے امین قرار دیا، آج ان کے متعلق یہ بحث کرنا کہ ان سے گناہ صادر ہوئے تھے اور انہوں نے فلاں فلاں گناہ کئے ہیں، در حقیقت ان کی امانت و ذمہ داری کو مجروح کر کے ان سے بے اعتمادی پیدا کرنا ہے جس کی زد حضور ا کرمﷺ پر جا کر پڑتی ہے کہ (معاذ اللہ) آپﷺ نے نا اہلوں پر اعتماد فرمایا اور اتنی بڑی امانت کی ذمہ داری ان کے سر ڈالی جس کے وہ اہل نہیں تھے اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ سارا دین مخدوش و ناقابل اعتماد ہو جائے گا۔ نیز فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں بے ادبی اور گستاخی نہ کی جائے کہ ایمان کے لئے خطرہ ہے۔ 

(5) مشاجرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں اہلِ سنت کا مذہب یہ ہے کہ ان کے درمیان جو کچھ واقعات پیش آئے ، وہ اجتہاد پر مبنی تھے، اس کی بنیاد پر کسی کی تفسیق و تنقیص کرنا قطعاً جائز نہیں ہے، ان کے بارے میں سکوت اختیار کرنا چاہئے اور ان کی شان میں کوئی ایسی بات ہرگز نہیں کہنی چاہئے جس سے ان کی تنقیص ہوتی ہو ۔ 

حافظ ابنِ حجرؒ فتح الباری میں لکھتے ہیں کہ اہلِ سنت اس بات پر متفق ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان جو مشاجرات ہوئے، ان کی وجہ سے کسی پر طعن کرنا ممنوع ہے اگرچہ یہ جان لیا جائے کہ ان میں سے حق پر کون تھا۔ اس لئے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے وہ جنگیں اجتہاد کی بنیاد پر کیں اور اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اس شخص کو معاف کیا ہے جس سے اجتہاد میں خطا ہو جائے ، بلکہ یہ ثابت ہے کہ اس کو ایک اجر ملے گا اور درست اجتہاد کرنے والا دوہرے اجر کا مستحق ہو گا۔ اسی طرح کی بات علامہ عینیؒ نے بھی لکھی ہے۔ 

علامہ ابن الہمامؒ لکھتے ہیں کہ سیدنا علیؓ سیدنا امیر معاویہؓ کے درمیان جو جنگیں ہوئیں وہ اجتہاد پر مبنی تھیں۔ امام غزالیؒ نے بھی احیاء علوم الدین میں اسی طرح کی بات لکھی ہے۔ 

علامہ ابنِ تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان جو اختلافات ہوئے ان کے بارے میں اہلِ سنت سکوت اختیار کرتے ہیں۔

امام قرطبیؒ نے اس سلسلے میں اہلِ سنت کے مسلک کی بہترین رہنمائی کی ہے، لکھتے ہیں کہ یہ جائز نہیں کہ کسی بھی صحابیؓ کی طرف قطعی اور یقینی طور پر غلطی منسوب کی جائے، اس لئے کہ ان سب حضرات نے اپنے طرزِ عمل میں اجتہاد سے کام لیا تھا اور سب کا مقصد اللہ تعالیٰ جل شانہ کی خوشنودی تھی، یہ سب حضرات ہمارے پیشوا ہیں اور ہمیں حکم ہے کہ ان کے باہمی اختلافات سے کف لسان کریں اور ہمیشہ ان کا ذکر بہترین طریقے سے کریں، کیونکہ صحابیت بڑی حرمت عظمت کی چیز ہے اور نبی کریمﷺ نے ان کو بُرا کہنے سے منع فرمایا ہے اور یہ خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے انہیں معاف کر رکھا ہے اور ان سے راضی ہے۔

صفحہ 4 از 5