دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ


صفحہ 3 از 5

ابنِ امیر حاج نے التقرير والتحبير میں علامہ تاج الدین سبکیؒ کے حوالے سے اس سلسلے میں نہایت نفیس بحث ذکر کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اس بارے میں قول فیصل یہ ہے کہ ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت کا بلاتردّد یقین کرتے ہیں صحابہ کرام رضوان اللّہ علیہم اجمعین پر طعن و تشنیع کرنے والا شخص گمراہی اور کھلے خسارے میں ہے۔ آل تیمیہ کی المسودہ فی اصول الفقه میں ہے کہ اسلاف امت اور جمہورِ خلف کا اس پر اتفاق ہے؟ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے ان کی تعدیل فرمائی ہے۔ 

حافظ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں کہ اہلِ سنت کے اصول عقائد میں یہ بات بھی داخل ہے کہ وہ اپنے دلوں اور زبانوں کو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے معاملے میں صاف رکھتے ہیں۔ 

حافظ ابنِ الصلاحؒ نے مقدمے میں اور قاضی ابو الولید باجی نے احکام الفصول : میں لکھا ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین میں سے کسی کی عدالت کے بارے میں سوال بھی نہیں کیا جا سکتا ، کیونکہ یہ ایک طے شدہ مسئلہ ہے، قرآن و سنت کی نصوصِ قطعیہ اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ 

حافظ ابن حجرؒ نے الاصابہ میں ایک خاص فصل اسی مقصد کے لئے قائم کی ہے اور اس کے تحت لکھا ہے کہ تمام اہلِ سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ سارے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین عادل ہیں، اس عقیدے کی مخالفت سوائے چند مبتدعین کے کوئی دوسرا نہیں کرتا۔ مزید لکھتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تعظیم اگرچہ ان کی ملاقات حضور اکرمﷺ سے تھوڑی دیر ہی رہی ہو خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک ایک مقرر اور مانی ہوئی بات تھی ۔

امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب کے سب عادل ہیں، جو اختلافات کے فتنے میں مبتلا ہوئے وہ بھی اور دوسرے بھی ۔ امام سیوطیؒ فرماتے ہیں کہ عدالت کا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں عام ہونا ہی جمہور کا قول ہے اور یہی معتبر ہے۔

علامہ عراقیؒ نے شرح الفیہ میں اس کو ترجیح دی ہے کہ بلا استثنا تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا عادل ہونا ہی جمہور اہلِ سنت والجماعت کا مسلک ہے۔

امام غزالیؒ نے المستصفی میں اور امام قرطبیؒ نے اپنی تفسیر میں جمہورِ اہلِ حق امت کا اس پر اجماع نقل کیا ہے۔

ملا علی قاریؒ نے شرح فقہ اکبر میں لکھا ہے کہ جمہور علماء کا مذہب یہ ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب کے سب عادل ہیں، سیدنا عثمان غنیؓ اور سیدنا علیؓ کے دور میں پیش آنے والے اختلافات سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ۔

(3) سیدنا علیؓ سے قِتال کرنے والے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو (نعوذ بالله) فاسق قرار دینا معتزلہ کی رائے ہے۔ علامہ ابنِ کثیرؒ نے الباعث الحیثیت میں اور علامہ ابن الاثیر جزریؒ نے جامع الاصول میں معتزلہ کے قول کو دلائل کے ساتھ باطل اور مردود قرار دیا ہے۔ 

(4) تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت رکھنا، ان کا ادب و احترام کرنا، ان کی تعظیم و تکریم اور ان کی اقتدا واجب و ضروری ہے، کسی بھی صحابیؓ کو برا کہنا اور ان پر طعن و تشنیع کرنا قطعا جائز نہیں ہے۔ 

امام نوویؒ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہنا حرام ہے، یہ سخت ترین محرمات میں سے ہے، خواہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کوئی فتنے کی حالت سے دو چار ہوا ہو یا نہ ہوا ہو ، سب کا حکم ایک ہی ہے، اس لئے کہ ان اختلافات میں سب کا مبنی اجتہاد اور تاویل تھا۔ 

قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ کسی بھی صحابیؓ کو بُرا کہنا گناہ کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ ہمارا اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ ایسے شخص کی تعزیر کی جائے گی۔

 حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا صرف ذکر خیر ہی کریں گے، وہ ہمارے دینی امام اور مقتدا ہیں، ان کو بُرا کہنا حرام ہے اور ان کی تعظیم ہم پر واجب ہے۔

حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ فرماتے ہیں کہ یقیناً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی جماعت بھی انبیاء کرام علیہم السلام کے حکم میں ہو گی، پس جس طرح کسی نبی پر تنقید نہیں کی جا سکتی اور ان کی بات واجب التسلیم ہوتی ہے، بوجہ دلائل قطعیہ یقینیہ کے، اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر بھی تنقید کرنے کی نیت تک کرنا بد دینی اور کھلی ہوئی گمراہی ہے۔ 

خطیب بغدادیؒ نے الکفایة میں سند نقل کیا ہے کہ امام ابو زرعہؒ نے فرمایا کہ جب تم کسی کو دیکھو کہ کسی صحابیؓ کی تنقید کرتا ہے تو جان لو کہ وہ بددین ہے۔ 

ابنِ عساکرؒ نے حضرت امام احمدؒ سے بسند نقل کیا ہے، جس کو علامہ ابنِ تیمیہؒ نے بھی اپنے رسالہ حکم سبِّ الصحابة میں ذکر کیا ہے کہ جب کسی کو دیکھو کہ کسی صحابیؓ پر تنقید کر رہا ہے تو سمجھ لو کہ اس کا دین مشکوک ہے۔

حضرت امام احمدؒ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص سیدنا امیر معاویہؓ یا سیدنا عمرو بن العاصؓ کی تنقیص کرتا ہے، کیا اس کو رافضی کہا جائے گا؟ فرمایا ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تنقیص کی جراءت وہی کر سکتا ہے جو بد باطن ہو، کوئی بھی شخص کسی بھی صحابی رسول سے اگر بُغض رکھتا ہے تو یہ اس کے بد باطن ہونے کی علامت ہے۔ 

ابنِ عساکرؒ نے بسند نقل کیا ہے اور حافظ مزیؒ نے بھی تهذیب الکمال میں حضرت امام نسائیؒ کے ترجمے کے تحت لکھا ہے کہ حضرت امام نسائیؒ سے سیدنا امیر معاویہؓ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اسلام کی مثال اُس گھر کی سی ہے جس کا ایک درواز ہو، پس اسلام کا دروازہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہیں، جو شخص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تکلیف پہنچائے ، گویا وہ اسلام پر حملہ کرنا چاہتا ہے، جیسے کوئی شخص دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے تو گویا وہ گھر کے اندر داخل ہونا چاہتا ہے۔ لہٰذا جو شخص سیدنا امیر معاویہؓ کو تنقید کانشانہ بنا رہا ہے تو اس کا اصل نشانہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ہی ہیں۔ 

صفحہ 3 از 5