دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ


صفحہ 2 از 5

(ب)جو مدرسہ اس عالم کے انتظام و انصرام میں چلتا ہو اس میں اپنے بچوں اور بچیوں کو دینی تعلیم کیلئے بھیجنا درست ہے یا نہیں؟ خصوصاً اُس وقت جبکہ اُس مدرسہ میں پڑھانے والے اساتذہ اس عالم کے نظریہ سے بڑی حد تک واقف ہوں۔

(ج) ایسے عالم کے ساتھ مسلمانوں کو کیا رویہ اختیار کرنا چاہئے؟ اس کی تقریروں مجلسوں اور دروس میں شرکت جائز ہے یا نہیں؟

(د) ایسے افکار کے حامل شخص اور ان کے مؤیدین کی اقتداء میں نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں؟

نوٹ: عالم موصوف کی مطبوعہ کتابوں، مثلاً علمائے اہلِ سنت سے چند سوالات لفظ صحابہ کے بارے میں غلط و فہمیاں اللہ تعالیٰ کے بے لاگ قوانین اور فیصلے، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب اور تهذيب علوم الحدیث کے بعض ضروری صفحات اور تقریروں کے منتخب اقتباسات منسلک ہیں۔ 

المستفتی عرفان نصر فاروقی ندوی لکهنؤ (یوپی) ( 20:9:2020) 

جواب: اس سلسلے میں پہلے چند بنیادی اور اصولی باتیں سمجھنا ضروری ہے۔ 

(1) محدثین کے نزدیک صحابی کی صیح و مقبول اور معتمد تعریف یہ ہے من لقى النبيﷺ‎ مؤمنا ومات علی الاسلام یعنی جس نے حضور اکرمﷺ‎ سے ایمان کی حالت میں ملاقات کی ہو اور اسلام کی حالت میں اس کا انتقال ہوا ہو۔

محدث کبیر حضرت مولانا حبیب الرحمٰن اعظمیؒ لکھتے ہیں کہ حافظ ابن حجرؒ نے الاصابہ فی تمیز الصحابہ میں اس تعریف کے بارے میں لکھا ہے اصبح مما وقفت علیه بی تیح ترین تعریف ہے۔ اور فتح الباری میں اس کو جمہور محدثینؒ کا قول قرار دیا ہے۔ صاحب مواهب لدنیہ اور اس کے شارح علامہ ورزقانیؒ نے بھی اس تعریف کو راجح اور جمہور محدثینؒ اور اصولیین کا مذہب بتایا ہے۔ شیخ عوامہ نے تدریب الراوی کے حاشیہ میں علامہ عراقی کی شرح الافیہ کے حوالہ سے اس تعریف کو راجح قرار دیا ہے۔ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے بھی هداية الشیعہ میں صحابی کی یہی تعریف بیان کی ہے۔ 

اس تعریف کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صحابی ہونے کے لئے صحبت کی کوئی مدت معین نہیں ہے، جس نے بحالت اسلام و ایک نظر بھی حضور اکرمﷺ کو دیکھ لیا اور ایمان کی حالت ہی میں اس کا انتقال ہوا اس کو صحابی کہا جائے گا۔ حافظ ابو القاسم ہبۃ اللہ طبریؒ نے شرح اصول اعتقاد اهلِ سنت والجماعة میں حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا واضح قول ذکر کیا ہے کہ صحبت کے لئے کوئی مدت متعین نہیں ہے، جس نے بھی حضور اکرمﷺ کی صحبت اختیار کی ہو خواہ ایک سال یا ایک ماہ یا ایک دن یا ایک ساعت یا آپﷺ کو ایک نظر دیکھ لیا ہو تو اس کو صحابی کہا جائے گا۔ مذکوره تعریف کے علاؤہ صحابی کی دوسری تعریفات محدثین کے نزدیک مرجوع ہیں۔ 

(2) اگرچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان باہم درجات فضائل میں بہت کچھ تفاوت ہے لیکن اہلِ سنت و الجماعت کے نزدیک ایک عقیدہ سب کے بارے میں بِلا استثناء اور بلا اختلاف اجتماعی ہے، وہ یہ ہے کہ الصحابة كلهم عدول یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سب کے سب عادل وثقہ ہیں، اس سے جس کسی نے بھی اختلاف کیا ہے، وہ ہمیشہ سے مسترد ہوا ہے۔ صدیوں سے یہ عقیدہ بالتواتر مسلّم ہے اور جزءِ ایمان ہے، جس کے بارے میں از سر نو تحقیق کی نہ ضرورت ہے، نہ گنجائش ہے۔ 

امام خطیب بغدادیؒ نے المكفاية في علم الروايه میں مستقل باب قائم کیا ہے باب ماجاء فی تعديل الله ورسوله للصحابة وانه لا يحتاج للسؤال عنه اس کے تحت کئی قرآنی آیات اور احادیث و رسولﷺ سے عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو ثابت کیا ہے۔ حافظ ابنِ حجرؒ نے الاصابة في تميز الصحابة میں خطیب بغدادیؒ کی مذکورہ بحث ذکر کی ہے صحیح ابنِ حبان میں بھی عدالت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا مستقل عنوان ہے ذكر الخبر الدال على ان اصحاب رسول الله كلهم ثقات عدول مقدمه صحيح ابن حبان میں مشہور حديث ألا ليبلغ الشاهد منكم الغائب سے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت کو ثابت کیا ہے، اور شیخ عوامہ نے خطوات منهجية في اثبات عدالة الصحابة کے صفحہ نمبر 41 میں حدیث کے مذکورہ جملہ کو متواتر ثابت کیا ہے۔ علامہ شاطبیؒ نے بھی الموافقات میں آیت قرآنی وكذلك جعلناكم امة وسطاء کے تحت عدالت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تفصیل سے ثابت کیا ہے محد ثین اور فقہاء کی عبارات اس سلسلے میں صریح اور قاطع ہیں۔ الفقہ الاکبر میں حضرت امام اعظم امام ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ ہم ہر صحابی رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تذکرہ خیر ہی کے ساتھ کرتے ہیں۔

امام طحاویؒ نے المعقيدة الطحاویہ میں جو اصول دین کی مستند کتاب ہے، اہلِ سنت والجماعت کے عقیدے کی تفصیل ذکر کی ہے، فرماتے ہیں کہ ہم تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے محبت کرتے ہیں کسی کی محبت میں کمی نہیں کرتے ہیں، نہ کسی سے اظہار براءت کرتے ہیں، ہاں جو ان سے بعض رکھتا ہے یا خیر کے علاؤہ کے ساتھ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر کرتا ہے، تو ہم اس سے بغض رکھتے ہیں، ہم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تذکرہ خیر ہی کے ساتھ کرتے ہیں، ان کی محبت دین و ایمان اور احسان کی علامت ہے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے بغض رکھنا کفر، نفاق اور سرکشی کی علامت ہے۔ 

علامہ ابنِ الہمامؒ نے مسایرہ میں لکھا ہے کہ اہلِ سنت و الجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تزکیہ یعنی گناہوں سے پاکی بیان کی جائے اس طرح کہ اُن سب کو عادل مانا جائے اور ان پر کسی قسم کا طعن کرنے سے پرہیز کیا جائے اور ان کی مدح و ثنا کی جائے۔ علامہ محب اللّٰہ نے مسلم الثبوت میں عدالت صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اہلِ سنت کا مسلک قرار دیا ہے۔ 

صفحہ 2 از 5