دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ - فتاویٰ جات | دفاع اسلام

دارالعلوم دیوبند کا فتویٰ


صفحہ 1 از 5

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں باغی، طاغی، مجرم، حکومت کا حریص اور ظالم جیسے الفاظ استعمال کرنے والے شخص کے انتظام و انصرام میں چلنے والے مدرسہ میں بچوں اور بچیوں کو دینی تعلیم کے لئے بھیجنے، ایسے شخص کو مقتدا ماننے، اس کی تقریر سننے تحریر پڑھنے اور اس کے دُروس میں شریک ہونے اور ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنے کا حکم:

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین درج ذیل امر کے بارے میں کہ لکھنؤ میں ایک مشہور عالم ہیں، جو پہلے ایک اہم ادارہ سے منسلک تھے، انہوں نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس و محترم جماعت کو ایک عرصہ سے تنقیص کا نشانہ بنا رکھا ہے، ایک سال قبل جب ان کی تقریریں اور تحریریں سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھیں تو اہلِ حق علماء کی طرف سے ان کی تلبیسات و تدلیسات کے مدلل جوابات دے دیئے گئے تھے، جس سے الحمدللہ عوام کی بے چینی و بے قراری ایک حد تک دور ہو گئی تھی اور شبہات کا ازالہ ہو گیا تھا، پھر انہوں نے خود بھی بحث بند کرنے کا اعلان کر دیا تھا، حالانکہ مشاجرات جیسے نازک موضوع کو موصوف ہی نے چھیڑا تھا اور حدود سے تجاوز کرتے ہوئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عظمت و تقدس کو سخت ٹھیس پہنچائی تھی اور نازیبا کلمات استعمال کرتے ہوئے بےجا جرح و تنقید کی تھی، اس اعلان کے بعد بھی وقتاً فوقتاً صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تنقیص پر مشتمل تقریریں کرتے رہے اور بعض کتابیں بھی شائع کیں۔ ادھر ایک ماہ قبل انہوں نے پھر مشاجرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو شدت سے اپنی تقریروں کا موضوع بنایا اور اس بار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مقدس و مبارک گروہ کو پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ نشانہ بنایا اور بعض جلیل القدر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شان میں برملا رکیک اور جارحانہ تبصرے کئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو عاصی، باغی، طاغی، مجرم، حکومت کا حریص اور ظالم تک کہہ دیا۔ (معاذ الله)

سیدناابوہریرہؓ جیسے جلیل القدر صحابی رسول کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے (نعوذ بالله) حدیثوں کا ایک ذخیرہ گول کر دیا تھا اور اس پر نہایت سخت لہجہ میں تبصرہ کیا کہ کسی کو حضور اکرمﷺ کی حدیثیں چھپانے کا حق نہیں ہے۔ اور سیدنا صدیقِ اکبرؓ کی خلافت پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کئے اور صحابی کی تعریف و مصادق میں جمہور کی رائے چھوڑ کر ایک الگ راہ اختیار کر لی، اور صحابی کی معروف تعریف کو اہلِ سنت کا غلو اور دین میں تحریف قرار دیا۔ 

نیز یہ عالمِ اُمت کے اجماعی موقف الصحابة كلهم عدول سے شدید اختلاف کرتے ہیں اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جرح و تعدیل سے ماوراء قرار دیتے ہیں بلکہ یہ بھی کہتے ہیں کہ منافق بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین تھے اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں ہر قسم کے اچھے اور برے لوگ تھے (معاذ اللہ) اہلِ سنت و الجماعت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی عدالت پر جن آیات و حدیث سے استدلال کرتے ہیں ان کو وہ غلط معانی پہنا کر عدالت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نظریہ کو بالکل غلط اور بے دلیل قرار دیتے ہیں۔

نیز مذکورہ بالا عالم نے ترتیب نزولی پر قرآن کو مرتب کرکے اپنے ترجمہ کے ساتھ شائع کیا اور اسے عام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جیسے کہ ماضی میں بعض مستشرقین اور عنایت اللّٰہ مشرقی نے بھی ایسی کوششیں کی تھی۔ پہلے کی طرح اس بار بھی موصوف نے ساری بے راہ روی کی باتیں کرنے کے بعد اچانک بحث کو بند کرنے کا اعلان اس طور پر کیا کہ اب حق واضح ہو چکا ہے اور حجت تمام ہو چکی ہے اس لئے میں امت میں اتحاد قائم کرنے کے لئے اس بحث کو بند کرتا ہوں لیکن اپنی تقریروں سے نہ رجوع کا اعلان کیا اور نہ ہی اپنی مطبوعہ تحریروں کے بارے میں کوئی وضاحت جاری کی، اور نہ ہی اپنے آفیشیل اکاؤنٹ سے ان تقریروں کو ڈلیٹ کیا۔ سنجیدہ طبقہ کو اس بات سے سخت تشویش ہے کہ ان کی تقریریں اور تحریر میں عوام میں پھیل چکی ہیں اور سوشل میڈیا پر مسلسل وائرل ہو رہی ہیں جس سے واقعہ یہ ہے کی حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سلسلے میں لوگ نا دانستہ طور پر بدگمانیوں کا شکار ہو رہے ہیں اور اس پاکیزہ جماعت کے بارے میں اب تک امت مسلمہ میں جو عظمت و تقدس اور ان کی عدالت و ثقاہت کی فضا بنی ہوئی ہے، اس پر زَد پڑ رہی ہے، نوجوان طبقہ کا ذہن و دماغ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ ان کے محبین اور متعلقین کی ایک جماعت بھی تیار ہو گئی ہے جو مسلسل سبِ وشتم صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں مصروف ہے، اور موصوف اپنے افکار کے نہ صرف پُر زور داعی ہیں بلکہ اپنی تقریروں میں علماء کو کھلم کھلا چیلنج بھی کرتے ہیں اور اپنے محبین کے حلقے میں یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کے نظریات قرآن وحدیث کے عین مطابق ہیں، جو لوگ اس کو تسلیم نہیں کرتے وہ منکرِ حدیث ہیں اور عند اللہ ماخوذ ہوں گے اور روز قیامت شفاعت سے محروم رہیں گے۔

اس لئے ہمیں ناگزیر محسوس ہوا کہ محض اُمت مسلمہ کی خیر خواہی کے پیش نظر آپ حضرات کی خدمت میں ان مطبوعہ تحریروں کے منتخب اقتباسات مکمل سیاق و سباق کے ساتھ ارسال کرکے واضح حکم شرعی دریافت کریں۔ ہمیں امید ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقام و مرتبہ اور مشاجرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسے نازک موضوع کے سلسلے میں امتِ مسلمہ کی صحیح رہنمائی کرتے ہوئے دلائل شرعیہ کی روشنی میں منسلکہ نظریات کا جو بھی شرعی حکم ہو بلاخوف لومة لائم واضح کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ موصوف کے افکار و نظریات کے مفصل رد کی حاجت نہیں ہے، اہلِ علم اس سے واقف ہیں قدیم و جدید کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے، ہمیں امید ہے کہ مذکورہ بالا عالم کے بارے میں آپ درج ذیل سوالات کے جوابات تحریر فرما کر امت مسلمہ کی بر وقت رہنمائی فرمائیں گے۔ 

(الف) اس عالم کے مذکورہ عقائد و افکار گمراہی شمار ہوں گی یا نہیں؟ اگر وہ عالم گمراہ ہے تو اس کی گمراہی کس نوعیت کی ہے؟ 

صفحہ 1 از 5