سنی، شیعہ اور اسماعیلی اتحاد کی تحریک ایک تنقیدی جائزہ -…

سنی، شیعہ اور اسماعیلی اتحاد کی تحریک ایک تنقیدی جائزہ


صفحہ 4 از 4

(2) اس تحریک کو لے کر چلنے والا اگر اسلام اور عقیدۀ اہلِ سنت کا مدعی ہے تو اس پر لازم ہے کہ فوراً توبہ کر لے اور اپنے ایمان کو بچانے کی سعی کرے، ورنہ اس تحریک کے سبب سے وہ اہلِ سنت سے خارج ہو جائے گا۔ رہا یہ کہ وہ پھر کسی زمرہ میں شمار ہو گا؟ مذکورہ بالا تقریر کی روشنی میں ادنیٰ فہم رکھنے والا شخص بھی اس کو سمجھ سکتا ہے۔ کیونکہ اہلِ سنت کے نزدیک کفر و اسلام کے درمیان ایسی کوئی گھاٹی نہیں، جس سے آدمی اہلِ سنت کے زمرے سے نکل کر بھی خالص مسلمان رہ جائے۔ 

اور اگر وہ شخص منع کرنے کے باوجود اور شیعہ و آغا خانیوں کے عقائد سے مطلع ہونے کے باوجود اپنی اس تحریک پر جما رہے اور اصرار کرتا رہے تو یہ شخص دینِ اسلام اور مسلمانوں کا غدار شمار ہو گا۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ اس سے قطع تعلق کر لیں، کیونکہ ایسے شخص سے تعلق آدمی کے ایمان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور حضوراکرمﷺ اور ان کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ناراضگی کا سبب تو ہے ہی۔ 

(فتاوىٰ بينات: جلد، 1 صفحہ، 185/195)


صفحہ 4 از 4