سنی، شیعہ اور اسماعیلی اتحاد کی تحریک ایک تنقیدی جائزہ -…

سنی، شیعہ اور اسماعیلی اتحاد کی تحریک ایک تنقیدی جائزہ


صفحہ 3 از 4

چوتھے پیراگراف میں تحریف قرآن کی سازش پر افواہ کا اطلاق کیا گیا ہے، جو پرلے درجے کی جہالت اور جھوٹ ہے، اس لئے کہ شیعوں کے امام ملا باقر مجلسی نے تو تذکرۃ الائمہ میں ان سورتوں کو بھی نقل کیا ہے جو اس کے زعم میں قرآن سے نکال دی گئی تھیں۔ اور خمینی موجودہ شیعہ امام اسی ملا باقر مجلسی کو اپنی کتاب کشف الاسرار میں اپنا امام و مقتدا لکھتا ہے۔ اب اگر یہ لوگ مجبور ہو کر ایسے شخص کو جو تحریف قرآن کا قائل ہو، اسلام سے خارج قرار دیں تو پھر انہیں ملا باقر مجلسی، خمینی اور دیگر شیعہ مجتہدین اور آغا خانی مصنفین کو بھی کافر کہنا ہو گا، حالانکہ وہ اس کے قائل کبھی نہیں ہو سکتے، اور اگر بغیر تقیہ کے اس کے قائل ہو جاتے ہیں تو پھر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ کفر کی مختلف وجوہ میں سے ایک وجہ ان میں نہیں رہی۔ اب اگر وہ مزید وجوہ کفر کو بھی چھوڑ دیں تو اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ ورنہ ہزار خداؤں کو ماننے والا اور دو خداؤں کو ماننے والا کفر میں برابر ہیں ۔

آخر پمفلٹ میں مختلف تجاویز اور فیصلے دیئے گئے ہیں، ان میں سے پہلا فیصلہ تو یہ ہے کہ سنی، شیعہ اور اسماعیلی، ہر ایک کو اجازت ہو گی کہ دوسرے کے عبادت خانے میں جا کر عبادت کرے۔ معلوم نہیں اس پر عمل کہاں ہوا؟ یہاں کراچی میں تو اسماعیلی جماعت خانوں میں داخلے پر پابندی تو ویسے ہی ہے جیسے کہ پہلے تھی اور جملہ حقوق داخلہ بحق متبعین آغا خان محفوظ ہیں۔ اب اگر اس کو عقلاً بھی دیکھا جائے تو نا ممکن نظر آتا ہے۔ کیونکہ جب عقائد دونوں فریقوں کے جدا اور طرز عبادت جدا ہے، اور دونوں کے درمیان کفر و اسلام کا فاصلہ ہے تو پھر کیسے ایک جگہ عبادت کی جاسکتی ہے؟ 

اور جہاں تک مخلوط مدارس و مکاتب کا تعلق ہے تو اس میں سادہ لوح اہلِ سنت کو تو اپنے بچوں سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔ باقی شیعہ اور آغانی تو اس کے علاؤہ اور چاہتے ہی کیا ہیں۔ یہ روزمرہ کے مشاہدے کی بات ہے کہ شیعہ اور اسماعیلی کا بچہ بچہ اپنے عقائد سے بخوبی واقف ہوتا ہے، جبکہ اہلِ سنت کے بڑے حضرات بھی اس سے واقف نہیں ہوتے۔ پھر تبرّا بازی کے انسداد کے لئے شیعہ خود محاسبہ کریں گے تو بہت اچھا! سب سے پہلے تو موجودہ امام خمینی کا محاسبہ کریں، کیونکہ اس کی کتابیں مثلا کشف الاسرار اور المحكومة الاسلاميه ان خرافات سے بھری پڑی ہیں۔ اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو محاسبہ کیسا ہو گا؟

باقی یہ کہنا کہ سنی پُرامن عزّاداری کو یقینی بنائیں گے۔ عزّاداری پُر امن ہی کہاں ہوتی ہے؟ کیونکہ عزّا داری کا ڈھونگ پہلے دن ہی سے اہلِ سنت کے خلاف خونی ڈرامہ کھیلنے کے لئے رچایا گیا ہے۔ چنانچہ یہ جلوس ہمیشہ چھریوں اور خنجروں سے لیس قاتلوں پر مشتمل ہوتے ہیں، جیسا کہ گزشتہ کئی سال کے واقعات گواہ ہیں، اور اگر بالفرض والمحال یہ جلوس پُرامن ہوں بھی تو ان کا جواز شرعی کہاں سے ثابت ہے؟ خود شیعہ کی کتابوں میں اس کو ناجائز لکھا ہے مثلاً ملا باقر مجلسی اپنی کتاب جلاء العیون کے صفحہ 123 پر لکھتا ہے کہ ماتم کی ابتداء قاتلانِ سیدنا حسینؓ نے کی، تا کہ اپنے جرم پر پردہ ڈال سکیں۔

اس کے علاؤہ جو فیصلے اور تجاویز ہیں وہ خود فریبیوں کے سوا کچھ حیثیت نہیں رکھتیں۔

اب بدیہی طور پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ان فرقوں کے عقائد واقعتاً ایسے ہی ہیں تو پھر ان پر حکومت گرفت کیوں نہیں کرتی؟ اور ان کو کافر کیوں قرار نہیں دیتی جبکہ یہ ایک اسلامی مملکت ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے ملکی قانون میں اسلام اور اس کے بنائے ہوئے طریقوں سے انحراف قابلِ مواخذہ نہیں ہے۔ یہ بات اثر حسین ایڈووکیٹ نے سندھ ہائی کورٹ میں دورانِ بحث کہی تو عدالت نے اس پر سکوت اختیار کیا۔

آخر میں ہم تیسرے امر کا تذکرہ کرتے ہیں۔ کیونکہ ہر تھوڑی سی دینی سوچ و فکر رکھنے والا دنیا دار اتحاد بین المسلمین کے لئے اپنے آپ کو بے چین ظاہر کرتا ہے اور انتشار و اختلاف کو علماء کے سر ڈالتا ہے۔ 

اتحاد کی شرط:

شیعہ آغا خانی اور اہلِ سنت کے اتحاد کی دعوت جو اس پمفلٹ میں دی گئی ہے غلط اور بے ہودہ ہے۔ اتحاد کی شرط، بشرطیکہ دوسرے فرقے بھی راضی ہوں اور مخلص ہوں تو فقط ایک ہی ہے اور اس شرط پر عمل کئے اور اس صورت کو اپنائے بغیر اہلِ حق کا ان لوگوں سے اتحاد نا ممکن ہے۔

اور وہ شرط یہ ہے کہ شیعہ اور آغا خانی اپنے تمام عقائد باطلہ سے برأت کا اظہار کریں اور ہر اُس شخص کو جو ان عقائد کا حامل ہو، کافر قرار دے دیں، چاہے وہ شخص ان کا امام ہی کیوں نہ ہو۔ اگر اتحاد کی یہ شرط نہ پائی جائے تو یہ کفر و اسلام کا اتحاد ہو گا، جو نہ صرف نا ممکن، بلکہ محال ہے اور اس کی دعوت کفر کو برداشت کرنے کی دعوت کے مترادف ہو گی۔ اب یہ تو ظاہر ہے کہ اس شرط پر عمل کر کے حقیقتاً تو وہ شیعہ اوراسماعیلی نہیں رہیں گے، بلکہ اہلِ سنت میں داخل ہو جائیں گے، لیکن اس کے سوا اتحاد کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، کیونکہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر اتحاد بین المسلمین نہیں، بلکہ اتحاد بین المنافقین ہو گا ۔ 

اب آخر میں ہم سائل کے سوالات کے جواب کی طرف آتے ہیں:

(1) مذکورہ بالا تفصیل کو دیکھنے کے بعد یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ یہ پمفلٹ اور تحریک و عمل کسی چالاک اور منافق شیعہ ذہن کی پیداوار ہے، جس کا مقصد اہلِ سنت کو بے غیرت بنانا اور ان کو ایک سازش کے تحت گمراہ کرنا ہے۔ 

لہٰذا یہ تحریک و عمل قطعاً ناجائز و حرام ہے، کوئی عقلِ سلیم رکھنے والا اس کو صیح نہیں کہے گا، چہ جائیکہ علماء کرام۔ اور یہ تحریک و عمل اُس انسان کو جو اس پر عمل پیرا ہو کم از کم اہلِ سنت سے ضرور خارج کر دے گا، لہٰذا اس پمفلٹ کا مضمون بلا مبالغہ زندقہ اور عیاری پر مبنی ہے۔ کیونکہ ممکن نہیں کہ ایک شخص سنی بھی ہو اور شیعہ بھی ہو وغیرہ پھر وہ دوسرے کے عقائد کو جانتے ہوئے اس کے ساتھ اتحاد کر لے۔ یہ پمفلٹ سراسر گمراہی ہے عوام کو اس سے و متنبہ کیا جائے ۔ 

صفحہ 3 از 4