سنی، شیعہ اور اسماعیلی اتحاد کی تحریک ایک تنقیدی جائزہ -…

سنی، شیعہ اور اسماعیلی اتحاد کی تحریک ایک تنقیدی جائزہ


صفحہ 2 از 4

اسماعیلیوں کے عقائد شیعہ ہی کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی کچھ آگے ہیں۔ اسی بناء پر بعض شیعہ نے بھی ان کو اپنے میں شمار کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ان کے عقائد کو بھی ہم مذکورہ بالا انداز سے لے لیتے ہیں ۔ 

(1) عقیدۀ امامت:

آغا خانی اپنے امام حاضر کو صرف معصوم ہی نہیں مانتے بلکہ یہ بھی مانتے ہیں کہ ان کا امام حاضر ہے، خدا کا مظہر ہے، خدا تعالیٰ اپنی تمام الہٰی طاقتوں کے ساتھ یکے بعد دیگرے امام حاضر میں حلول کرتا ہے۔ اس لئے ان کے نزدیک امام حاضر ہی خدا ہے، وہی مستحق دعا و عبادت ہے۔ (العیاذ بالله)

(2) بُغضِ صحابہؓ:

 اس عقیدہ میں اسماعیلی بھی شیعہ ہی کی طرح ہیں۔ کیونکہ وہ بھی اکابر اصحاب ثلاثہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو غاصب، ظالم اور خائن کہتے ہیں ( العیاذ بالله )

(3) تحریف قرآن:

 ان کے نزدیک بھی قرآن پاک میں (معاذ اللہ) سیدنا عثمان غنیؓ نے تحریف کی ہے، اصل قرآن تو چالیس پارے ہیں تیس تو موجودہ اور باقی دس پارے امام حاضر کی زبان ہے (العیاذ بالله)

 ہم نے مذکورہ دونوں فرقوں کے تین بنیادی عقیدوں کو تو ذکر کیا ہے لیکن کلمہ کا نہیں، کیونکہ وہ تو عقیدے کا مظہر ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا اب طرداً للباب اس کا بھی ذکر کئے دیتے ہیں۔ 

شيعہ كا كلمه:

لا الٰه الا الله محمّد رسول اللّٰه علىّ ولىّ الله وصى رسول الله وخليفته بلا فصل یہ کلمہ دینیات برائے نہم و دہم کے جدا شیعہ نصاب۔ جاری کردہ حکومت پاکستان سے لیا گیا ہے۔ لیکن انہی کا کلمہ ایرانی رسالہ وحدت اسلامی کے سالنامہ 1984ء میں یوں درج ہے لا الٰه الا الله محمّد رسول الله على ولى الله خميني حجة الله

اسماعیلی کلمہ:

 اشهدان لا اله الا الله واشهدان محمد رسول الله واشهدان على الله 

اب دوسری طرف اہلِ سنت کے ہاں نہ تو عقیدۀ تحریفِ قرآن ہے اور نہ بُغضِ صحابہ رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین اور نہ ہی امامت کا تصور بلکہ یہ سب چیزیں ان کے نزدیک دائرۀ اسلام سے خارج کرنے والی ہیں۔ اہلِ سنت کے ہاں صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین مثل النجوم ہیں، ان کی اقتداء ہی میں ہدایت مضمر ہے۔ وہ موجودہ قرآن پاک ہی کو منزل من اللّٰه: جانتے ہیں۔ اوراسی بناء پر ان کے ہاں بنیادی عقیدہ توحید ورسالت کا ہے، اور تمام صحابہ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین على حسب المراتب شرف صحابیت سے مشرف ہونے کے باعث ان کے سر کے تاج ہیں۔ 

لہٰذا یہ بات ثابت ہوئی کہ اہلِ سنت کے ساتھ ان دونوں گرہوں کا اختلاف اصولی ہے اور کفر و اسلام کا اختلاف ہے، کوئی فروعی اختلاف نہیں ۔ کیونکہ تحریف قرآن کا قائل اور سیدنا صدیق اکبرؓ کی صحابیت کا منکر، باجماعِ اہلِ اسلام کافر ہے۔

ایک بات کی وضاحت:

یہاں ایک بات کا تذکرہ مفید ہو گا وہ یہ کہ جب اُمت مسلمہ قادیانیوں کو ایک مرزا کے نبی ماننے پر کافر و مرتد کہتی ہیں تو شیعہ اور آغا خانی تو بطریق اولیٰ اس کے مستحق ہوں گے، کیونکہ وہ تو بارہ اماموں کو نبی، بلکہ ان سے بھی بڑھ کر مانتے ہیں۔

اگر کسی خیر خواہ کو یہ اشکال ہو کہ وہ تو اِن عقائد سے برأت کا اظہار کرتے ہیں تو اس سلسلہ میں واضح ہو کہ ان دونوں فرقوں کے مذہب کا بنیادی جزو ہے تقیہ جس کے معنیٰ ہے اپنے عقائد کو چھپانا۔ تو وہ اس اظہار برأت میں اس تقیہ سے کام لیتے ہیں۔ ویسے بھی جب کوئی شخص کسی مذہب کا متبع و پیرو کار ہے تو اس کی بات کا اعتبار نہیں ہوتا بلکہ اس مذہب کے ائمہ مجتہدین کی بات دیکھی جاتی ہے۔ 

لہٰذا مذکورہ دونوں فرقوں کے اماموں اور بڑے علماء کی باتوں کو دیکھا جائے گا، جیسا کہ صاحب اصول کافی جس کے بارے میں ملت شیعہ کا خیال ہے کہ اس نے گیارہوں بارہوں امام کا زمانہ پایا ہے، یا موجودہ دور میں خمینی اور پیشوا ملا باقر مجلسی ملعون۔ اگر کوئی ان سے برأت کا اظہار کرے تو وہ شیعہ یا اسماعیلی ہی نہیں اور اس کا ان کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرنا صحیح نہیں ۔ لہٰذا برأت کا عذر عذر لِنگ ہے۔

منسلکہ پمفلٹ کی حقیقت:

منسلکہ پمفلٹ جھوٹ کا پلندہ، کذب و افتراء کا طومار اور اہلِ سنت عوام کو دھوکہ دینے کے لئے تقیہ کی سیاہ نقاب ہے۔ یہ اہلِ سنت کی تحریک ہرگز نہیں ہو سکتی، کیونکہ اگر شیعہ اوراسماعیلی اپنے کفریہ عقائد کو چھوڑ دیں تو وہ خود اسلام میں داخل ہو جائیں گے اور اس صورت میں اس تحریک اور اتحاد کو سنی ، شیعہ، اسماعیلی اتحاد قرار دینا غلط ہو گا، بلکہ اس کو انتقال الشيعة والاسماعيليين الى اهل السنة کہنا ہو گا۔ اور اگر انہوں نے اپنے عقائد کو نہیں چھوڑا، جیسا کہ پمفلٹ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے اور اس کا نام بھی اس کی طرف مشعر اور اس کے لئے مثبت ہے تو پھر یہ کفر و اسلام کے اتحاد کی کوشش ہے۔ کیونکہ شیعیت اور آغا خانیت خالص کفر ہے، جیسا کہ ان کے عقائد سے واضح ہو چکا ہے۔ 

اور جہاں تک اس کے مندرجات پر تفصیلی جائزہ کی بات ہے تو اس سلسلہ میں گزارش ہے کہ پہلا پیرا گراف تو سفید جھوٹ ہے۔ کیونکہ نادرن ایریا میں مسلمانوں شیعوں و آغا خانیوں کے مابین دشمنی تو مثالی کہی جاسکتی ہے، ان کے مابین محبت کا دعویٰ کرنا روز روشن کو شب تاریک قرار دینے کے مترادف ہے۔ 

پھر دوسرے پیرا گراف میں سازشوں کو فقط روس اور افغانستان کی طرف منسوب کرنا گویا عام مشاہدہ کا انکار کرنا ہے۔ کیونکہ سرکاری تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ایسے واقعات میں ایران ملوث ہے، جیسا کہ مرحوم صدر ضیاء الحق نے اپنے ایک بیان میں بھی اس کی طرف اشارہ کیا تھا۔

 تیسرے پیرا گراف میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے خلاف بہتان تراشی کو سازش کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے، حالانکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ دشمنی اور بُغضِ صحابہؓ، شیعہ اور آغا خانیوں کا جزوِ ایمان ہے۔ اب اگر یہ سازش ہے تو پمفلٹ لکھنے والوں کو گویا اس کا اقرار ہے کہ شیعہ اور آغا خانی مذہب خود اسلام اور اہلِ اسلام کے خلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ 

صفحہ 2 از 4