سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں یزید کو ولی…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں یزید کو ولی عہد بنا کر مسلمانوں کے خون سے کھیلے

  مولانا محمد علی

صفحہ 4 از 4

ترجمہ: سیدنا امیر معاویہؓ نے یزید کو اس کی اہلیت و استعداد کے پیش نظر خلیفہ بنایا جیسا کہ خود ان سے مروی ہے دعا کی اے اللہ اگر یزید ویسا ہی ہے جیسا اس کے بارے میں میرا گمان ہے تو بہت بہتر اور اگر ویسا نہیں تو اس کو جلدی موت دے دے اللہ تعالیٰ کے حضور سیدنا امیر معاویہؓ کی دعا مقبول ہوئی اس یزید کو زیادہ دیر خلافت کرنا نصیب نہ ہوا۔

لمحۂِ فکریہ:

قارئینِ کرام اور حق و صداقت کے متلاشی اہلِ تشیع یزید کے ولی عہد بنانے پر سیدنا امیر معاویہؓ کو موردِ الزام ٹھہرایا گیا ہم نے اس الزام کی کتب شیعہ سے تردید پیش کر دی اور اس پر مزید یہ کہ حضرات ائمہ اہلِ بیت کی روایات کے مطابق ان وصایہ کا بھی ذکر کر دیا گیا جو سیدنا امیر معاویہؓ نے بوقت انتقال یزید کو کی تھی ان تمام حوالہ جات اور شہادتوں کے مطالعہ کے بعد سیدنا امیر معاویہؓ پر وارد کیے گئے طعن کی تردید ثابت ہوچکی تھی لیکن پھر اس کے بعد اہلِ سنت کی مشہور و متدادل کتاب نے نبراس سے سیدنا امیر معاویہؓ کی برسر عام اس دعا کا ہم نے تذکرہ بھی کر دیا جو ائمہ اہلِ بیت کی روایات کی پوری پوری تائید کرتی ہے۔

ان تمام باتوں سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے یزید کے ولی عہدی اس ارادہ سے ہرگز نہ تھی کہ اس کے ذریعے اہلِ بیت کے ساتھ جنگ و جدل کی نوبت آئے گی بلکہ کھلے دل اور صاف الفاظ میں آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں یا اللہ اگر میں نے یزید کو محض قرابت اور شفقتِ پدری کی بنا پر خلافت دینے کا ارادہ کیا تو ہرگز ہرگز اس کو پورا نہ ہونے دے اور اگر مفاداتِ عامہ اور امت کی بھلائی کے پیش نظر ایسا کیا تو اس کو کامیاب و کامران بنا سیدنا امیر معاویہؓ کی خلوصِ نیت کا یہ عالم تھا کہ ان کے عزائم پر پورا نہ اترنے کی صورت میں اس کے لیے موت تک کی دعا کر ڈالی صاحبِ نبراس کے مطابق چونکہ یزید کا وطیرہ اس کے بالکل الٹ تھا جو سیدنا معاویہؓ نے اس سے وابستہ سمجھ رکھا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو شرفِ قبولیت عطا فرمایا اور یزید بہت جلد اس دنیا سے اٹھ گیا اور تادیر خلافت قائم نہ رہ سکی۔

ان تمام دلائل و شواہد کی صورت میں سیدنا امیر معاویہؓ کا دامن ان الزامات و اعتراضات سے بالکل پاک ہے جو معترض ان پر لگاتا ہے کیونکہ ان کی برأت ائمہ اہلِ بیت کی روایات بھی کر رہی ہیں اور خود ان کی وصیت اور دعا بھی اس کی شاہد ہے لہٰذا مذکورہ طعن جھوٹ اور فریب کا ایک پلندہ ہے اور دھوکہ دہی کی ایک نہایت گھناؤنی کوشش ہے جسے ہر ذی عقل سلیم جان سکتا ہے۔

(فاعتبروا یا اولی الابصار)۔


صفحہ 4 از 4