سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں یزید کو ولی…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں یزید کو ولی عہد بنا کر مسلمانوں کے خون سے کھیلے

  مولانا محمد علی

صفحہ 3 از 4

لہٰذا معلوم ہوا کہ جو لوگ سیدنا امیر معاویہؓ پر الزام دھرتے ہیں کہ انہوں نے یزید کو وصی اور ولی عہد بنا کر اہلِ بیت پر ظُلم و ستم کے دروازے کھول دیئے بالکل کذب و افتراء ہے حقیقت اس کے اُلٹ ہے یعنی یہ کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے بتاکید وصیت فرمائی کہ بیٹا خبردار سیدنا حسینؓ اور دیگر اہلِ بیت کی تعظیم و تکریم میں کمی نہ آنے پائے ان کی باتوں سے درگزر کرنا اور ان کی رسول اللہﷺ سے قرابت تمہارے لیے واجب الاحترام ہے انہیں ستانے کی قطعاً کوشش نہ کرنا۔

(فاعتبروا یا اولی الابصار)۔

تردید امر سوم:

سیدنا امیر معاویہؓ قتل سیدنا حسینؓ سے لاتعلق ہیں:

سیدنا امیر معاویہؓ پر یہ الزام لگانا بھی قطعاً بے بنیاد ہے کہ آپ اگر یزید کو ولی عہد اور وصی مقرر نہ کرتے تو واقعہ کربلا وقوع پزیر نہ ہوتا کیونکہ قرآنُ و حدیث اس کے واضح تردید کر رہے ہیں قرآنِ کریم میں ہے اِذَا جَاءَ اَجَلُھَا لَا یَسْتَاخِرُوْنَ سَاَعۃً جب لوگوں کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ایک لمحہ کے لیے آگے پیچھے نہیں ہو سکتے خود اہلِ تشیع کے کتب کہتی ہیں کہ جب سیدنا حسینؓ کی شہادت کا وقت قریب آگیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدد کے لیے آسمانوں سے فرشتے بھیجے لیکن فرشتوں کے آنے سے قبل ہی سیدنا حسینؓ جامِ شہادت نوش فرما چکے تھے مقصد یہ ہے کہ تقدیر کا بہرحال وقت مقرر ہے ہزاروں لاکھوں تدابیر و اسباب دہرے کے دہرے رہ جاتے ہیں۔

واقعہ کربلا کے بارے میں ہر شخص جانتا ہے کہ کوفیوں نے ایک دو نہیں تقریباً 18 ہزار لگاتار خطوط لکھے آپؓ ایک آدھ خط ملنے پر ہی کوفہ جانے کو تیار نہیں ہوگئے تھے بلکہ خطوط کا انبار لگنے پر اس بارے میں غور و فکر کیا کہ یہ خطوط وفاداری کی علامت ہیں یا غداری کی۔ پھر مزید تحقیق کے لیے اپنے بھائی سیدنا مسلم بن عقیلؓ کو کوفہ بھیجا ان کی آمد پر 18 ہزار کے لگ بھگ کوفی آپ کی بیعت میں آگئے حالات کا جائزہ لے کر سیدنا مسلم بن عقیلؓ نے سیدنا حسینؓ موصوف کو خط لکھا کہ اہلِ کوفہ قابلِ اعتماد لوگ ہیں آپ تشریف لے آئیں اس کے بعد جب اہلِ مدینہ کو علم ہوا کہ سیدنا حسینؓ موصوف کوفہ جانے کی تیاری میں ہیں تو سیّدنا عبداللہ بن عمرؓ عبداللہ بن زبیؓر عبداللہ بن عباسؓ اور محمد بن الحنیفہؓ ایسے صاحبانِ فراست نے بہت سمجھایا کہ کوفی بے وفا ہیں انہوں نے آپؓ کے والد سے بھی غداری کی آپؓ وہاں جانے کا ارادہ ترک کر دیں لیکن آپؓ نے اپنے اجتہاد پر عمل پیرا ہوکر ان کی بات نہ مانی کوفہ روانہ ہوگئے اور اہلُ و عیال کو بھی اس اعتماد پر ساتھ لے لیا۔

سیدنا حسینؓ نے کوفیوں پر اجتہادی طور پر اعتماد کر لیا لیکن وہ انتہائی درجہ کے بے وفا نکلے ان کی بے وفائی پر سیدنا حسینؓ کے اجتہاد پر اعتراض تو نہیں کرنا چاہیے بعینہٖ اسی طرح سیدنا امیر معاویہؓ نے اجتہاد فرمایا کہ میرے بعد میرا بیٹا خلیفہ بن کر میری وصیت پر عمل کرے گا اور اہلِ بیت کی تعظیم و تکریم کا شیوہ اپنائے گا لیکن یزید نے ایسا نہ کیا تو اس سے سیدنا امیر معاویہؓ کے اجتہاد پر اعتراض کیوں؟۔

سیدنا امیر معاویہؓ کے یزید کو ولی عہد بنانے کی حقیقتِ حال:

سیدنا امیر معاویہؓ کا یزید کو ولی عہدی اور تفویضِ خلافت کا معاملہ ایک باپ ہونے کی حیثیت سے ہرگز نہ تھا نہ ہی اس میں خاندانی اقتدار انتقال کی کوئی وجہ مخفی تھی سیدنا امیر معاویہؓ نے اپنے دور میں مسلمانوں کے مابین دو خوفناک جنگیں دیکھی تھیں ایک جنگِ جمل اور دوسری جنگِ صفین ان دونوں لڑائیوں میں 90،80 ہزار کے لگ بھگ مسلمان شہید ہوگئے ان حالات میں سیدنا امیر معاویہؓ کیسے سوچ سکتے تھے کہ میرے جانے کے بعد پھر وہی حالات پیدا ہوجائیں گے کہ مسلمان باہم دست و گریباں ہوں آپ نے اس مسئلے پر غور و خوض کے لیے اہلِ حل و عقد کو بلایا ان سے مشورہ لیا کہ آئندہ باہمی قتل و غارت اختلاف و انتشار کے انسداد کے لیے کیا کرنا چاہیے تو کثرت رائے سے طے پایا کہ چونکہ بنی امیہ کا اس وقت پورے ملک پر تسلط ہے اصلی قوت اور طاقت کا مرکز ہیں اور حقیقت یہ تھی کہ یہ لوگ یزید کے سوا کسی دوسرے کے خلیفہ اور ولی عہد بننے پر ہرگز رضامند نہ تھے اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت یزید سے بڑھ کر صاحبانِ فراست و سیاست موجود تھے لیکن لوگوں کی سوچ تھی جس پر لگام ڈالی نہیں جاسکتی تھی لیکن ان اچھے لوگوں کو نظر انداز صرف اسی بنا پر کیا گیا کہ ان کے خلیفہ بننے سے انتشار و افتراق پر قابو پانا مشکل ہو جائے گا تو کثرتِ رائے سے یزید کو ہی خلیفہ بنانے کا فیصلہ ہوا لیکن اس کے باوجود سیدنا امیر معاویہؓ نے یزید کو انتہائی سخت وصیت لکھی کہ اہلِ بیت کا ہر طرح خیال رکھنا جیسا کہ گزشتہ حوالہ جات میں ہم ذکر کر چکے ہیں سیدنا امیر معاویہؓ نے کثرتِ رائے سے فیصلہ کے بعد اللہ کی بارگاہ میں اس لعنتی کے لیے دعا مانگی جس کے الفاظ یہ ہیں۔

البدایۃ النہایۃ:

رویبا عن معاویۃؓ انه قال یوما فی خطبتهٖ اللّٰھم ان کنت تعلم انی ولیته لانه فیما اراہ اھل لذالک فاتمم له ما ولیته و ان کنت ولیته لی انی احبه فلا تتمم له ما ولیته۔

(البدایۃ النہایۃ جلد 8 صفحہ 80 ثم دخلت سنۃ ست و خمسین مطبوعہ بیروت)۔

ترجمہ:سیدنا امیر معاویہؓ سے روایت ہے کہ آپ نے ایک دن دورانِ خطبہ یہ دعا مانگی اے اللہ تو جانتا ہے کہ میں نے اس کو اس کی اہلیت کی بناء پر ولی عہد اور خلیفہ بنانے کا فیصلہ کیا تو میری اس تمنا کو پورا فرما دے اور اگر میں نے اسے اس لیے ولی عہد بنایا کہ مجھے اس سے پیار و محبت تھی تو اے اللہ اس کو ولی عہدی میں ناکام بنا دے اور اس کی تکمیل نہ فرما۔

نبراس:

وانما نصبه معاویۃؓ ظنا بصلاحه کما روی عنه انه قال اللھم ان کان یزید علی ما اظنه و الا فعجل موته وقد استجیب دعاءہ فلم یطل ملکه۔

(نبراس شرح شرح العقائد صفحہ 541 مطبوعہ ملک دین محمد لاہور)

صفحہ 3 از 4