سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں یزید کو ولی…

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اپنی زندگی میں یزید کو ولی عہد بنا کر مسلمانوں کے خون سے کھیلے

  مولانا محمد علی

صفحہ 2 از 4

عَنْ لمى قَالَ سَأَلْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدِ ابْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ فَقُلْتُ حَدِثَنِی عَنْ مَقْتَلِ ابْنِ رَسُولِ اللهِﷺ فَقَالَ حَدَّثَنِی أَبِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا حَضَرَتْ مُعَاوِيَةَؓ الْوَفَاهُ دَعَا ابْنَهُ يَزيَدَ لَعْنَهُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لَهُ يَا بُنَيَّ إِنِّي قَد ذَللْتُ لكَ الرِّقَابَ الصفات وَ وَهَدتُ لكَ البَلادَ وَجَعَلْتُ الْمُلْكَ وَ مَا فِيهِ لَكَ طُعْمَةً و إِنِّی أَخْشىٰ عَلَيْكَ مِنْ ثَلَثَةِ نَفَرٍ يُخَالِفُونَ عَلَيْكَ بِجُهْدِهِمُ وَ هُوَ عَبْدُاللهِ بْن عُمَرَ بْنِ الْخَطَابِؓ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِؓ وَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلیؓ فَامَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَؓ فَهُوَ مَعَكَ فَالْزِمه وَلَا تَدْحهُ وَأَمَّا عَبْدُاللهِ بْنُ الزُّبَيْرِؓ فَقَطْعُهُ إِنْ ظَفَرْتَ بِهِ ارْبًا أَرْبًا فَإِنَّهُ يَجتُوا لَكَ كَمَا يَجْثوا الأَسَدُ لِفَرِيسَتِهِ وَيُوَارِبُكَ مَوَارِبَةَ الثعْلَبِ لِلْكَلْبِ وَأَمَّا الْحُسَيْنُؓ فَقَدْ عَرَقْتَ حَظة مِنْ رَسُولِ اللهﷺ وَهُوَ مِنْ لَحم رَسُولِ اللهِﷺ وَدَمِهِ وَ فَقَدْ عَلِمْتَ لَا مَحَالَةَ أَنَّ أَهْلَ الْعِرَاقِ سَيُخْرِجُونَهُ إِلَيْهِمُ ثُمَّ يَخْذُلُونَهُ وَيُضِيعُونَهُ فَإِنْ ظَفَرْتَ بِهِ فَاعْرِفْ حَقَّهُ وَ مَنزِلَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِﷺ وَ لَا تُؤَاخِذُهُ بِنِعْلِهِ وَمَعَ ذَلِكَ فَإِنَّ لَنَا بِهِ خَلْطَةً وَ رَحْمًا وَ إِيَّاكَ أَنْ تَنَالَهُ بِسُوءٍ وَ يَرَى مِنْكَ مَكْرُوها۔

1۔ (الامالي والمجالس الشيخ الصدوق صفحہ 92 المجلس الثلاثون مطبوعه قم)

2۔ (بحار الانوار جلد 10 صفحہ 190 باب تاریخ حسین بن علیؓ طبع ایران قدیم)

ترجمہ: لمی روایت کرتا ہے کہ میں نے سیدنا جعفرؓ سے پوچھا مجھے سیدنا حسینؓ کے قتل کے بارے میں کچھ بتلائیے؟ انہوں نے فرمایا کہ میرے والد نے اپنے والد سیدنا زین العابدینؓ سے روایت کی کہ جب سیدنا امیر معاویہؓ کے انتقال کا وقت قریب آگیا تو انہوں نے اپنے بیٹے یزید (لعنۃ الله) کو اپنے پاس بلوایا آنے پر اُسے اپنے سامنے بٹھا کر کہا بیٹا میں نے بڑے بڑے جفادریوں کو تیرے لیے سرنگوں کر دیا اور شہروں کو تیرے ماتحت کر دیا اور ملک کی تمام دولت تیری جھولی میں ڈال دی اس کے باوجود میں تین آدمیوں سے تیرے بارے میں پریشان ہوں وہ پوری طاقت سے تیری مخالفت کریں گے وہ یہ ہیں۔ 

(1)سیدنا عبداللہ بن عمر بن الخطابؓ (2) سیدنا عبدالله بن الزبیرؓ (3) سیدنا حسین بن علیؓ ان میں سے سیدنا عبداللہ بن عمرؓ تیرے ساتھ ہے اُسے ضرور ساتھ رکھنا سیدنا عبدالله بن الزبیرؓ جہاں کہیں داؤ لگے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا کیونکہ وہ تجھ پر اس طرح گھات لگا کر حملہ کرے گا جس طرح شیر اپنے شکار پر حملہ کرتا ہے اور لومڑی کی طرح تیرے ساتھ مکر و فریب کرے گا جس طرح لومڑی کتے سے فریب کرتی ہے اور سیدنا حسین بن علیؓ تو ان کا تعلق جو رسولﷺ سے ہے اس کو اچھی طرح جانتا ہے وہ حضورﷺ کے جسم اور خون کا حصہ ہیں اور میں بخوبی جانتا ہوں کہ عراقی انہیں اپنے ہاں بلانے میں کامیاب ہو جائیں گئے اور پھر انہیں خوب ذلیل کریں گے اور انہیں شہید کر دیں گے تو اگر تجھے ان پر دسترس حاصل ہو جائے تو حضورﷺ کے ساتھ ان کے مقام و مرتبہ کا ضرور خیال رکھنا ان کے کسی کام پر ان کی گرفت نہ کرنا اس عظمت کے علاوہ ان کی ہمارے ساتھ رشتہ داری اور قرابت بھی تو ہے میں تجھے خبردار کرتا ہوں کہ تجھ سے ان کو کوئی تکلیف نہ ہونے پائے اور نہ ہی وہ تیری طرف سے کسی برائی میں گرفتار ہوں۔

مذکورہ حوالہ سے مندرجہ ذیل امور ثابت ہوئے:

1۔ سیدنا امیر معاویہؓ کے ہاں سیدنا حسینؓ کی بہت عزت و منزلت تھی اسی لیے فرمایا کہ آپ حضورﷺ کے گوشت اور خون کا حصہ ہیں۔

2۔ عراقی شیعہ سیدنا حسینؓ کو جب اپنے ہاں بُلا کر یزید سے مقابلہ کرانا چاہیں تو سیّدنا امیر معاویہؓ نے فرمایا بیٹا ایسے میں سیدنا حسینؓ کے مقام و مرتبہ کا ضرور خیال رکھنا ان کے کسی فعل پر گرفت نہ کرنا۔

3۔ سیدنا حسینؓ اور سیدنا امیر معاویہؓ کے درمیان خونی و نسبی رشتہ بھی تھا اس رشتہ کی وجہ سے بھی سیدنا امیر معاویہؓ نے یزید کو بدسلوکی کرنے سے منع کیا۔

حاصل کلام:

اہلِ تشیع کی دو کتابوں کے حوالہ سے ہم نے جو سیدنا امیر معاویہؓ کی وصیت کے الفاظ ذکر کیے ہیں یہی مضمون ان کی بہت سی دیگر کتب میں بھی موجود ہے وصیت کے ان الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ خود سیدنا امیر معاویہؓ سیدنا حسینؓ کی بہت زیادہ عزت فرمایا کرتے تھے اور اس کی اپنے بیٹے کو بھی وصیت کی جس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ سیدنا امیر معاویہؓ نے یزید کو جب ولی عہد مقرر کیا تو اس کی تقرری اس وجہ سے نہ ہوئی کہ اس سے سیدنا حسینؓ کو ذلیل کرنا اور ان کی مخالفت کرنا مقصود تھی اس ثبوت کی مضبوطی روایت مذکورہ کے راویان کی وجہ سے اور بڑھ جاتی ہے مالی صدوق کی روایت میں حضرات ائمہ اہلِ بیت راوی ہیں اور اہلِ بیت کے ان مقتدر اماموں سے کذب بیانی کی تو فضول بحث ہے اس لیے میں اہلِ تشیع کو دعوت دیتا ہوں کہ روایت مذکورہ کے پڑھنے کے بعد اب تمہارے لیے دو ہی راستے ہیں۔

1۔ یہ کہو سیدنا جعفرؒ سیدنا باقرؒ اور سیدنا زین العابدینؒ نے محض سیدنا امیر معاویہؓ کو راضی کرنے کے لیے غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام لیا اگر ایسا ہے تو پھر تمہیں ایسے اماموں سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہیے پھر مزید یہ کہ فقہ جعفریہ ہے ہی ان کی روایات کا نام اگر یہی جھوٹے ہیں تو ساری فقہ جعفریہ جھوٹ کا پلندہ ٹہری۔

2۔ یا مان لو کہ حضرات ائمہ کرام نے سیدنا امیر معاویہؓ کی وصیت کو حق اور سچ سمجھ کر نقل کیا اور ہونا بھی یہی چاہیے کیونکہ تمہاری کتابیں ببانگ دہل کہہ رہی ہیں کہ اہلِ بیت کا ہر ایک امام علمِ کلی جانتا ہے تو پھر ان ائمہ سے یہ بات کیونکر چھپی رہ سکتی ہے کہ سیدنا امیر معاویہؓ کا اپنے بیٹے یزید کو وصی بنانا اور پھر اسے وصیت کرنا کہ اہلِ بیت کی تعظیم و تکریم میں کسر اٹھا نہ رکھنا غلط ہے۔

صفحہ 2 از 4