شان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن و حدیث کی روشنی…

شان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین قرآن و حدیث کی روشنی میں، اور گستاخانِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ اتحاد کرنے کا حکم


صفحہ 4 از 4

الله تعالیٰ جل شانہ اور حضور اکرمﷺ کے ان فرمودات میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ایمان و اخلاص اور فضائل و مناقب کی جو تصویر پیش کی گئی ہے اسے سامنے رکھتے ہوئے اُن قدسی صفات ہستیوں کے بارے میں خمینی کی ہرزہ سرائیوں کو ایک بار پھر پڑھ جائیں، اس کے بعد خود فیصلہ کیجئے کہ قرآن و حدیث کے علی الرغم جس فرد یا جماعت کے خیالات و عقائد حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق اس طرح کے ہوں، کیا ایمانی تقاضوں کو باقی رکھتے ہوئے ایک لمحہ کیلئے بھی اس کے ساتھ۔ اتحاد عمل ممکن ہے؟ اور کیا اس کے عسکری اور فوجی غلبہ کو اسلامی انقلاب کہنا درست ہے؟

صحابہ کرامؓ کی تنقیص کرنے والوں کا حکم:

(1) اصطخریؒ بیان کرتے ہیں کہ مجھے مخاطب کرتے ہوئے امام احمد بن حنبلؒ نے فرمایا اے ابوالحسن! جب تم کسی کو دیکھوں وہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر برائی سے کرتا ہے تو اس کے اسلام کو مشکوک سمجھو۔

(2) عمدة المفسرین محقق ابنِ کثیرؒ لکھتے ہیں کہ عذاب الیم ہے اُن لوگوں کیلئے جو حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین یا ان میں سے بعض سے بغض رکھے یا انہیں برا بھلا کہے، ایسے لوگوں کا ایمان بالقرآن سے کیا واسطہ جو ان حضرات کو بُرا کہتے ہیں۔ جن سے الله تعالیٰ جل شانہ نے راضی ہونے کا اعلان کر دیا۔

(3) علامہ ابنِ تیمیہؒ اپنی مشہور تصنیف الصارم المسلوم میں لکھتے ہیں کہ قاضی ابو یعلی نے کہا ہے کہ اس پر تمام فقہائے کرام متفق ہیں کہ جو شخص صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی برائی کو حلال و جائز سمجھتے ہوئے ان کی برائی کرے وہ کافر ہے اور جو حلال نہ سمجھتے ہوئے انہیں برا بھلا کہے وہ فاسق ہے۔

(4) علامہ ابنِ ہمام حنفیؒ لکھتے ہیں کہ جو سیدنا علیؓ کو خلفائے ثلاثہؓ (سیدنا صدیقِ اکبرؓ سیدنا فاروقِ اعظمؓ اور سیدنا عثمان غنیؓ) پر فضیلت دے وہ بدعتی ہے اور جو شخص سیدنا صدیقِ اکبرؓ یا سیدنا فاروقِ اعظمؓ کی خلافت کا انکار کرے وہ کافر ہے۔

(5) فتاویٰ عالمگیری میں ہے کہ رافضی جب شیخینؓ کو برا بھلا اور لعن طعن کرتا ہو تو کافر ہے اور اگر سیدنا علیؓ کو سیدنا صدیقِ اکبرؓ پر فضیلت دیتا ہے تو کافر نہیں ہو گا، ہاں اس صورت میں وہ بدعتی قرار پائے گا۔

(6) حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے تنقیص صحابہؓ کے متعلق ایک نہایت قیمتی اور قابل قدر نکتہ تحریر فرمایا جو قولِ فیصل کی حیثیت رکھتا ہے، اس لئے اس نکتہ پر یہ بحث ختم کی جاتی ہے، لکھتے ہیں کہ اس موقع پر یہ نکتہ سمجھ لینا چاہئے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی برائی اور ان کی شان میں لعن طعن اس وجہ سے سے حرام و کفر ہے کہ طعن کا سبب یعنی گناہ اور کفر ان بزرگوں میں پائے نہیں جاتے اور تعظیم و توقیر اور تعریف و توصیف کے اسباب ان حضرات انبیاء کرام علیہم السلام میں پورے طور پر موجود ہیں اور جب مسلمانوں میں کوئی ایسی جماعت ہو جس کے اندر تعظیم کے اسباب موجود ہوں اور اس کے گناہوں کی مغفرت نص قرآنی سے ثابت ہو گئی ہو تو یقینی طور پر اس جماعت کی برائی، اہانت اور تحقیر حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی اہانت تحقیر کے حکم میں ہو گی، بس صرف فرق یہ ہو گا کہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام میں اسباب تحقیر سرے سے موجود نہیں ہیں اور اس جماعت میں یہ اسباب پائے جانے کے بعد ختم ہو گئے، گناہوں کے وجود کے بعد ان کا (مغفرت وغیرہ کے ذریعہ) معدوم اور ختم ہوجانا معدوم اصلی کے حکم میں ہے (یعنی مغفرت کے بعد مغفور ایسا ہو جاتا ہے گویا کہ سرے سے گناہ سرزد ہی نہیں ہوا ہے) اس بنا پر گناہ سے توبہ کر لینے والے کو اس گناہ پر عار دلانا حرام ہے۔

اور پوری امت میں صرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو یہ مرتبہ حاصل ہے کہ ان کے گناہوں کی مغفرت اور بخشش کا قطعی اور یقینی علم ہمیں وحی ربانی اور کلام الٰہی سے معلوم ہو گیا ہے، اور ان کی طاعات (عبادات) کی قبولیت اور ان کے اعمال کے ساتھ الله تعالیٰ جل شانہ کی رضا کا تعلق بھی متیقین ہوچکا ہے۔ لہٰذا حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تنقیص، اہانت اور ان کی برائی حرام و کفر ہو گی۔

علمائے امت کی ان تصریحات کے آئینہ میں خمینی اور ان کے ہم نواؤں کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہئے، کیا اسلام کے اولین فدا کاروں اور محبوب رب العالمین کے جان نثاروں کو (العیاذ بالله) منافق و مرتد، خائن و غدار کہنے والوں کو یہ زیب دیتا ہے کہ ثورة اسلاميه لا شيعة ولا سنية كا منافقان نعرہ بلند کریں؟ نیز اسلامی جماعتوں کے ان مفکروں کو بھی ان تصریحات کی روشنی میں اپنے زاویہ فکر و نظر کو درست کرلینا چاہئے جو آج بھی کعبۃ الله کے تقدس کو پامال کرنے والے خمینیوں کو شہید کی اعزازی ڈگری دے رہے ہیں۔

حاصل بحث:

اب تک کی بیان کردہ تفصیلات سے یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ خمینی اور ان کی جماعت، وحدانیت، رسالت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے متعلق جن عقائد و نظریات کی پابند ہے وہ قرآن کریم، احادیث نبوی اور جمہور امت کے چودہ سو سالہ متوارث عقیدے کے بالکل متضاد اور مخالف ہیں، نیز جس قسم کی بدعات اور خرافات پر وہ عمل پیرا ہے اُن کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اس لئے بصورتِ موجودہ عام امت کا ان سے اتحاد کسی بھی طرح ممکن نہیں، بلکہ اس کے بر عکس علمائے اسلام کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ خمینی اور ان کی جماعت کے اسلام مخالف عقائد و نظریات سے اُمت مسلمہ کو واقفیت بہم پہنچائیں اور ان کے باطل عقائد کی بنیاد پر شریعت کا ان کے بارے میں جو فیصلہ ہے، اس کا پوری وضاحت کے ساتھ اظہار فرما دیں تاکہ ملت اسلامیہ ان کے پُر فریب پروپیگنڈوں سے متاثر ہو کر اسلام کی سیدھی راہ سے بھٹک کر خمینیت کی بھول بھلیوں میں نہ پھنس جائے۔

(خمینیت حصر حاضر کا عظیم فتنه: صفحہ، 79)



صفحہ 4 از 4