شیعوں کے کفریہ قائد اور ان کی تکفیر کے بارے میں چند شبہات…

شیعوں کے کفریہ قائد اور ان کی تکفیر کے بارے میں چند شبہات کا ازالہ


صفحہ 6 از 6

الغرض: شیعہ عقائد و نظریات میں اسلام کی کوئی جھلک نظر نہیں آتی سوائے اشتراک رسمی یعنی نام وہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ، رسولﷺ، قیامت، کلمہ، اذان، نماز، زکوٰۃ وغیرہ مگر اُن ناموں کے اندر جو چیز ہے وہ بالکل اُلٹ ہے جو اسلام نے ان ناموں کے ساتھ وابستہ کی ہیں۔ مختصر یہ کہ جب قرآن مجید کے صحیح ہونے پر ایمان ہی نہیں تو پھر اسلام کہاں اور مسلمان کیسے؟

خلاصہ یہ کہ: ملت اسلامیہ جدا ہے اور ملت ابنِ سبا جدا ہے، لہٰذا شیعہ سنی اتحاد خلافِ شرع ہے۔ کیونکہ شیعوں کی تمام چیزیں مسلمانوں سے جدا ہے۔

حاصل کلام:

اس تقابلی مقابلہ سے بالکل واضح ہے کہ مسلمانوں اور شیعوں میں کوئی بھی قدر مشترک نہیں بلکہ شیعوں کے کفریات قادیانیوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ جب قادیانی کافر ہیں تو شیعہ کیونکر مسلمان ہو سکتے ہیں؟

اسلام کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے، جن لوگوں کا یہ عقیدہ ہو کہ قرآن محرف ہے اور سنت ناقابلِ اعتبار، کیونکہ حدیث کے راوی یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نزدیک (معاذالله) منافق و مرتد ہے، ان کو مسلمان کس طرح تصور کیا جا سکتا ہے؟ لہٰذا شیعہ و سنی بھائی بھائی کا نعرہ ایک ایسا جھوٹ اور فراڈ ہے کہ اس سے بڑھ کر کوئی جھوٹ اور فراڈ نہیں ہو سکتا۔

اب بھی جو لوگ ناواقفیت کی وجہ سے ایرانی انقلاب کو اسلامی انقلاب اور خمینی کو اس دَور کا امام المسلمین اور امت مسلمہ کا نجات و ہندہ سمجھ رہے ہیں اور عام مسلمانوں کو یہی باور کرانے کی کوشش میں سرگرم ہے وہ سراسر فریب اور گمراہی میں مبتلا ہیں۔

اہلِ سنت کی ذمہ داری:

شیعیت دراصل اسلام کے خلاف کفر کی ایک خفیہ سازش ہے اور یہ وہ کفر ہے جس پر اسلام کا لیبل لگا کر مخلوقِ خدا تعالیٰ کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ لہٰذا گھر گھر شیعیت کو بے نقاب کرنے کا عزم کیجئے، کیونکہ شریعت پاکستان اور عالم اسلام کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ برائے مہربانی اپنی تمام توانائیوں اور وسائل کو بروئے کار لا کر امت مسلمہ کو اس گمراہی اور فتنے سے بچائیں، اس فریضے کی ادائیگی میں تاخیر نہ کیجئے۔

(شیعہ سنی اختلافات حقاںٔق کے آںٔینہ میں: صفحہ، 2)


صفحہ 6 از 6