شیعوں کے کفریہ قائد اور ان کی تکفیر کے بارے میں چند شبہات…

شیعوں کے کفریہ قائد اور ان کی تکفیر کے بارے میں چند شبہات کا ازالہ


صفحہ 5 از 6

(42) سیدنا ابوؓبکر اور سیدنا عمرؓ کے دورِ حکومت میں ظلم کی اتنی نظیریں موجود تھیں کہ ان کے بعد آنے والا ہر ظالم و غاصب حکمران بڑے اطمینان کے ساتھ ظلم وجور کا بازار گرم رکھتا، اور یہ سارے سفاک سیدنا ابوبکرؓ اور سیدنا عمرؓ کے لائے ہوئے انوکھے سامراج کے ورثہ دار تھے اور ان کے پاس ہر نوعیت کے ظلم کا ایک ہی جواب تھا کہ یہ سب کچھ تو سیدنا ابوبکرؓ و سیدنا عمرؓ جیسے یارانِ رسول کر چکے ہیں۔

(شیخ سقیفه، صفحہ 159)

انتباہ: کیا مذکورہ بالا عقائد کے کفر ہونے میں کسی کو شک و شبہ کی گنجائش ہے؟ اب بھی جو علماء شیعوں کی تکفیر میں توقف کریں وہ عند اللہ مجرم ہوں گے یا نہیں؟

شیعہ سنی کا اصولی تقابل ملاحظه فرمائیں:

(1) مسلمان کا کلمہ لا اله الا اللّٰه محمّد رّسول الله ہے اور شیعوں کا کلمہ لا اله الا الله محمّد رّسول الله علی ولی الله خمینی حجة الله گویا مسلمانوں کا کلمہ جدا اور شیعوں کا کلمہ جدا۔ شیعوں کا کلمہ دین اسلام کی نفی کرتا ہے۔

(2) مسلمانوں کی اذان جدا ہے اور شیعوں کی اذان جدا ہے۔ شیعوں کی اذان خلفائے ثلاثہؓ پر کھلم کھلا تبرا ہے۔

(3) مسلمانوں کا قرآن جدا ہے اور شیعوں کی معتبر اصول کافی کے مطابق موجودہ قرآن، تحریف شدہ ہے اور اصل قرآن امام غائب (مہدی) کے پاس ہیں۔

(4) مسلمانوں کی نماز جدا اور شیعہ کی نماز جدا۔ مسلمان نماز پنج گانہ کے قائل ہیں جبکہ شیعہ صرف تین نمازیں پڑھتے ہیں۔

(5) مسلمانوں کا نظامِ زکوٰۃ جدا ہے اور شیعوں کا نظامِ زکوٰۃ جدا ہے۔ شیعہ موجودہ نظامِ زکوٰۃ کے منکر اور مخالف ہیں۔

(6) مسلمانوں کے حج کا رُکنِ اعظم، عرفات کی حاضری (وقوف) ہے۔ ویسے بھی شیعہ حج کے قائل نہیں اور صرف خمینی کے اشارے پر حجاز میں حج کے بہانہ تخریب کاری کے لئے جاتے ہیں۔ اور واضح رہے کہ شیعہ کی معتبر کتب کے مطابق کربلا، کعبۃ اللہ سے افضل ہے،

(7) مسلمانوں کے نزدیک متعہ، زنا کا دوسرا نام ہے اور شیعوں کے نزدیک متعہ کرنے والا جنت میں سیدنا حسینؓ کے برابر ہو گا۔

(8) مسلمانوں کے نزدیک جھوٹ، منافقت اور دھوکہ دہی سب سے بڑا جرم ہے اور شیعوں کے نزدیک تقیہ کے نام سے یہ سب چیزیں نہ صرف جائز ہیں بلکہ فرض اور واجب ہے اور ان کے مذہب کے نوے فیصد حصہ میں ہیں۔

(9) مسلمانوں کے نزدیک چاروں خلفائے راشدینؓ برحق ہیں اور شیعوں کے نزدیک سواۓ سیدنا علیؓ کے باقی خلفائے ثلاثہؓ منافق اور غاصب، ظالم اور ایمان سے عاری ہیں۔ (معاذالله)

(10) مسلمانوں کے نزدیک تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مؤمن و شیدائی رسولﷺ، قابلِ اتباع اور معیار حق ہیں، کیونکہ قرآنی وعدہ کے مطابق اللہ تعالیٰ جل شانہ ان سے راضی اور وہ اللہ تعالیٰ جل شانہ سے راضی ہیں اور شیعوں کے نزدیک نبی کریمﷺ کے وصال کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مرتد ہو گئے تھے (معاذالله) سوائے تین کے یعنی سیدنا مقدادؓ سیدنا ابوذرؓ سیدنا سلمانؓ۔ (فروع کافی جلد 3، صفحہ 115)

شیعہ کی اصطلاح میں اہلِ سنت کو ناصبی کہا جاتا ہے۔ شیعوں کا مذہبی قائد ملا باقر مجلسی لکھتا ہے کہ ناصبی (سنی) ولد الزنا سے بدتر ہے، اور یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے کتے سے بھی بدتر کسی چیز کو نہیں بنایا لیکن ناصبی (سنی) خدا تعالیٰ کے نزدیک کتے سے بھی زیادہ خوار ہے۔

(حق الیقین جلد 2، صفحہ 516)

(11) مسلمانوں کے نزدیک حضور اکرمﷺ کی ازواجِ مطہراتؓ تمام خواتین سے افضل اور انتہائی قابلِ احترام ہیں، بلکہ منافقہ ہیں (معاذالله)۔ 

شیعہ عقیدے کے مطابق جب ان کا بارہواں امام مہدی ظاہر ہو گا تو اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کو زندہ کر کے ان پر حد لگائے گا (معاذالله)۔

(حق الیقین۔جلد 2، صفحہ 361)

(12) مسلمانوں کا وضو جدا اور قبلہ جدا ہے، اور شیعوں کا وضو جدا اور سجدہ جدا ہے۔ شیعوں کا وضو پاؤں سے شروع ہوتا ہے اور سجدہ کربلائی مٹی پر ہوتا ہے، اور شیعوں کی قبلہ سمت بھی قدرے مختلف ہیں۔

(13) مسلمانوں کا غسلِ میت جدا ہے اور شیعوں کا غسلِ میت جدا ہے۔

(14) مسلمانوں کی صیام رمضان کی سحری اور افطاری جدا ہے اور شیعوں کا وقت سحر و افطار جدا ہے۔

(15) مسلمانوں کے نکاح، طلاق، اور وراثت کا نظام جدا ہے، اور شیعوں کے نکاح، طلاق، اور وراثت کا نظام جدا ہے۔

(16) مسلمانوں کا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ جل شانہ تمام کائنات کا مالک و خالق اور عالم الغیب ہے اور شیعہ اس کے منکر ہیں، اور اس بات کے قائل ہیں کہ امام کو ماضی اور مستقبل کا پورا پھر پورا علم ہوتا ہے اور دنیا کی کوئی چیز امام سے مخفی نہیں اور شیعہ مذہب میں عقیدہ بداء کی رُو سے خدا تعالیٰ جل شانہ کے جاہل ہونے کا اقرار لازم آتا ہے (معاذالله)۔

(17) مسلمانوں کے نزدیک عقیدہ ختم نبوت، جز و ایمان ہے اور شیعہ ختم نبوت کے منکر ہیں اور اجرائے نبوت کے قائل ہیں اور ان کے نزدیک ان کے بارہ امام سابق انبیاء کرام علیہم السلام سے افضل اور حضور اکرمﷺ کے برابر ہیں۔

(18) مسلمانوں کا نعرہ اللہ اکبر اور تکیہ کلام یااللہ مدد ہے اور شیعوں کا نعرہ نعرہ حیدری اور تکیہ کلام یا علی مدد ہے جو کہ سراسر شرک ہے۔

(19) مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ توحید ہے اور شیعوں کا بنیادی عقیدہ امامت ہے جو کہ کھلم کھلا کفر ہے۔

(20) مسلمانوں کی فقہ حنفی قرآن اور سنت سے ماخوذ ہے اور شیعہ کی فقہ جعفریہ قرآن و سنت کے قطعاً مخالف ہے۔ تقیہ(جھوٹ)، متعہ (زنا)، تبرا (خلفائے ثلاثہؓ، امہاتُ المومینینؓ، اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، پر لعن طعن) اس کے اہم جزو ہیں اور ان کے نزدیک متعہ وہ لذت آفریں عبادت ہے کہ چار دفعہ متعہ کرنے سے حضور اکرمﷺ کا درجہ مل جاتا ہے (معاذالله)۔

(21) مسلمانوں کا نصب العین حضرت محمدﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے طرز کی قرآنی حکومت کا قیام ہے اور شیعوں کا نصب العین یہودی حکومت کا قیام ہے۔ ایران کی اسرائیل کے ساتھ خفیہ دوستی اور عربوں کے خلاف پروپیگنڈہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

صفحہ 5 از 6