شیعوں کے کفریہ قائد اور ان کی تکفیر کے بارے میں چند شبہات…

شیعوں کے کفریہ قائد اور ان کی تکفیر کے بارے میں چند شبہات کا ازالہ


صفحہ 2 از 6

(اصول کافی: صفحہ، 304)

(5) امام رضا نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو حرمتِ شراب اور بداء کے ماننے کا حکم دے کر بھیجا ہے۔ (اصول کافی: صفحہ، 86)

(6) ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جاتا کہ بداء (اللہ تعالیٰ کی طرف غلطی کی نسبت) کا عقیدہ رکھنے میں کتنا ثواب ہے، تو وہ اس عقیدے سے نہ رُکتے۔

(اصول کافی: صفحہ، 86)

شیعہ مذہب میں کلمه طیبہ:

(1) لا اله الا الله محمّد رّسول الله، علی ولی الله، وصی رسول الله، وخلیفته بلا فصل

(اصول الشریعة فی عقائد الشیعه: صفحہ، 442)

(2) توحید و رسالت کے ساتھ ولایت کو ضروری سمجھا اور کہا: لا اله الا اللّٰه محمّد رّسول الله علی ولی اللّٰه وصی رسول الله و خلیفته بلا فصل

(شیعہ مذہب حق ہے: صفحہ، 325)

(3) شیعہ مصنف عبدالکریم مشتاق لکھتے ہیں کہ میں نے خدا کی عطا کردہ عقلی صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے بغور فیصلہ کری لیا کہ سنیوں کا کلمہ لا اله الا الله محمّد رّسول الله پڑھ لینا دلیل ایمان نہیں بلکہ اس کے اقرار پر بھی خدا نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو منافق قرار دے دیا۔

(شیعہ مذہب حق ہے: صفحہ، 324)

(4) شیعہ مصنف عبدالکریم مشتاق لکھتے ہیں کہ توحید و رسالت کے ساتھ سیدنا علیؓ کی امامت، خلافت اور وصایت کا اقرار کیا جائے تو اس تیسرے حصے کو کلمہ میں شامل کرنا عین اطاعتِ خدا اور رسول ہے، اور اس کی مخالفت بلا جواز ہے۔ 

آگے لکھتے ہیں کہ ہم اگر غور و انصاف کریں تو معلوم ہو جائے گا کہ موحد کی پہچان لا اله الا الله سے ہوتی ہے۔ مسلم کی پہچان محمّد رّسول الله سے ہوتی ہے۔ اور مؤمن و منافق میں تمیز علی ولی الله سے ہوتی ہے۔ (شیعہ مذہب حق ہے: صفحہ، 311)

(5) انبیاء کرام علیہم السلام نے خدا کی توحید، حضورﷺ کی نبوت اور سیدنا علیؓ کی ولایت کا اقرار کیا، لہٰذا ماننا پڑے گا کہ اگر انبیاءؑ یہ تینوں (خدا کی توحید حضورﷺ کی نبوت اور سیدنا علیؓ کی ولایت) کا اقرار نہ کرتے تو وہ نبی بنتے نہ رسول۔ تو جب ان تین اجزاء کے اقرار کے بغیر انبیاء کی نبوت نہیں رہ سکتی تو ہمارے ایمان کیسے رہے گا۔ لہٰذا ایمان اسی کا مکمل ہوگا جو کلمہ میں ان تینوں اجزاء کا اقرار کرتا ہو گا۔

(وسیله انبیاء: جلد، 2 صفحہ، 179)

شیعہ مذہب میں توہین انبیاء کرام علیہم السلام و عقیدۂ امامت:

(1) امام تمام گناہوں اور عیوب سے پاک اور مبرا ہوتا ہے۔

(اصول کافی: جلد، 1 صفحہ، 200)

(2) سیدنا علیؓ تمام انبیاءؑ سے افضل ہے۔

(جلاء العیون: جلد، 2 صفحہ، 20)

(3) سیدنا علیؓ کہ در کے بھکاری تو اولولعزم پیغمبر ہیں۔

(خلقت نورانیه: جلد، 1 صفحہ، 201)

(4) امام، رسول اللہ کے برابر ہیں۔

(اصول کافی: جلد، 1 صفحہ، 270)

(5) امام میں نبیﷺ بڑھ کر صفات موجود ہیں۔ (اصول کافی: جلد، 1 صفحہ، 388)

(6) ولایتِ سیدنا علیؓ کا رتبہ نبوت سے زیادہ ہے۔

(ہزار تمہاری دس ہماری، صفحہ، 52)

(7) امامت کا درجہ نبوت و پیغمبری سے بالاتر ہے۔ (حیات القلوب جلد 2 صفحہ، 3)

(8) محمد اور آل محمد اولادِ آدم سے نہیں ہے۔

(جلاء العیون جلد 2، صفحہ 59)

(9) آںٔمہ خود ذاتِ محمد ہیں۔

(کتاب البرھان جلد 1، صفحہ 25)

(10) امامتِ علی کا منکر نبوتِ محمدﷺ کا منکر ہے۔ (تفسیر مرآۃ الانوار، صفحہ 24)

(11) پنجتن پاک ساری مخلوق سے افضل ہیں۔

(وسیله انبیاء، صفحہ 90)

(12) حضورﷺ کی وفات کے وقت میت بِکس گئی اور پیٹ پھول گیا تھا۔

(تنزیه الاسباب، صفحہ 10)

(13) امام کے بغیر دنیا قائم نہیں رہ سکتی۔

(اصول کافی جلد 1، صفحہ 178)

(14) شب قدر میں امام پر سالانہ احکام نازل ہوتے ہیں۔

(اصول کافی جلد 1، صفحہ 248)

(15) امام اپنی موت کا وقت جانتا ہے، اور اپنے اختیار سے خود مرتا ہے۔

(اصول کافی، صفحہ 258)

(16) امام مہدی ظہور کے بعد سب سے پہلے سنی علماء کو قتل کریں گے۔

(حق الیقین جلد 1، صفحہ 527)

(17) امام مہدی کی بیعت تمام ملائکہ، جبرائیلؑ اور میکائیلؑ کریں گے۔

(چودہ ستارے، صفحہ 594) 

(18) امام تمام گناہوں اور عیوب سے پاک اور مبرا ہوتا ہے۔

(اصول کافی جلد 1، صفحہ 200)

(19) امام پر وحی نازل ہوتی ہے۔

(اصول کافی جلد 1، صفحہ 176)

(20) امام کی معرفت کے بغیر خدا کی حجت پوری نہیں ہو سکتی۔

(اصول کافی جلد1، صفحہ 177)

(21) امام مہدی نئی شریعت لائے گا اور نئے احکامات جاری کریں گے۔

(بحار الانوار، صفحہ 597)

(22) سیدنا علیؓ واقعی رسول کا حصہ ہے، اور انہیں علم غیب عطا کیا گیا ہے۔

(عالم الغیب، صفحہ 47)

(23) امام مہدی جب غار سے باہر آئے گے تو اس کے ہاتھ پر سب سے پہلے حضورﷺ بیعت کریں گے سیدنا علیؓ اس کے ہاتھ پر بیعت کرے گے۔

(حق الیقین، صفحہ 160)

(24) ہمارے مذہب کی ضروری عقائد میں سے ہے کہ ہمارے آئمہ کا وہ درجہ ہے کہ جہاں تک کوئی مقرب فرشتہ اور نبی مرسل نہیں پہنچ سکتا۔

(الولایة التکوینیة، صفحہ 52)

(25) انبیاءؑ کو نبوت، سیدنا علیؓ کی امامت کے اقرار سے ملی۔

(المجالس الفاخرۃ فی اذکار العترۃ الطاہره، صفحہ 12)

(26) آںٔمہ معصومین، حضورﷺ کے قائم مقام ہیں، اور وہ انبیاءؑ سے افضل ہیں۔

(انوار النجف فی اسرار المصحف، صفحہ 11) 

(27) آںٔمہ گزشتہ اور آئندہ تمام اُمور جانتے ہیں اور ان پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔

(اصول کافی جلد 1، صفحہ 260)

(28) آںٔمہ جس چیز کو چاہتے ہیں حلال کرتے ہیں اور جس چیز کو چاہتے حرام کرتے ہیں۔

(خلقت نورانیه، صفحہ 155)

(29) تمام دنیا اور آخرت امام کی ملکیت ہے وہ جس کو چاہے دے دیں اور جس کو چاہے نہ دے دیں۔

(اصول کافی جلد 1، صفحہ 409)

(30) قوم عاد ثمود اور فرعون کو ہلاک کرنے والے اور موسیٰؑ کو نجات دینے والے علیؓ ہے۔

(وسیله انبیاء جلد 2، صفحہ 110)

(31) امامت بھی نبوت کی طرح منصب الٰہی ہے، امام کا معصوم ہونا ضروری ہے، امام کا خطاء اور نسیان سے محفوظ ہونا واجب ہے، امام کیلئے سارے زمانے پر فوقیت رکھنا ضروری ہے۔

(تحفة نماز جعفریه، صفحہ 28)

(32) آںٔمہ اطہار سواۓ جناب سرور کاںٔناتﷺ کے دیگر تمام انبیاءؑ اولوالعزم وغیرھم سے افضل و اشرف ہے۔

(احسن الفوائد فی شرح العقائد صفحہ 406، طبع پاکستان مصنف علامہ محمد حسین)

صفحہ 2 از 6