شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی - ردِ رافضیت |…

شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی

  محمد علی

صفحہ 3 از 11

 سیدنا عالی مقام کا میدانِ کربلا میں اپنے سارے ساتھیوں کی شہادت کے بعد خود گھوڑے پر سوار ہو کر یزیدیوں کے مقابل میں نکلنا اور سیدہ سکینہ کا گھوڑے کے پاؤں کو چمٹے رہنا کہ جس کی وجہ سے گھوڑا نہ چل سکا پھر گھوڑے کا عالی مقام کو اپنے سر کے اشارہ سے بتانا کہ میرے پاؤں کی طرف دیکھو کہ شہزادی لپٹی ہوئی ہے پھر عالی مقام کا سکینہ کو دلاسہ دینا وغیره رقت آمیز واقعہ شیعہ سنی دونوں کی کتب میں موجود ہے دور حاضر کی سنی کتب کی فوٹو سٹیٹ کاپی ہم نے اصل کتاب کے ساتھ لف کر دی ہے اس کے علاوہ تقریروں واعظوں میں سنی واعظین اور شیعہ ذاکرین عوام کو رلانے مرثیہ خوانی کا رنگ بھرنے کے لیے بڑے طمطراق سے بیان کرتے ہیں ایسے واقعات سے شیعہ ذاکرین کا مقصد تو واضح ہے کہ وہ ماتم اور نوحہ خوانی کو اپنے مسلک کی جزء سمجھ کر اس کا پرچار کرتے ہیں لیکن سنی مواعظین پر افسوس ہے کہ جب ماتم اور نوحہ خوانی کو حرام کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں تو پھر ایسے اصل واقعات کو رقت آمیز لہجے اور رونے رلانے کے انداز سے بیان کر کے وہ سنیت کی نہیں بلکہ شیعیت کی خدمت کرنے کے کیوں درپے ہیں؟ معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان کا مقصد صرف اپنا رنگ جما کر دنیا کے چند سکے حاصل کرنا ہے بہرحال یہ حقیقت ہے کہ سیدنا حسینؓ کا مدینہ منورہ سے عازم مکہ مکرمہ ہونا اور پھر مکہ شریف سے کوفہ کا قصد کر کے سفر پر روانہ ہونا جنگ و جدال کے لیے نہ تھا اہل و عیال کہ جس میں بچے اور عورتیں بھی تھیں کو ساتھ لینا اسی کی دلیل ہے کہ آپ کسی سے لڑنے نہیں جا رہے ہیں ایسا سفر جنگ و جدال کا نہ ہو اور بال بچوں سمیت ہو عرب اسے اونٹوں پر طے کرتے تھے جب ہم عرب لوگوں کے واقعاتِ سفر کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اونٹوں کی بجائے گھوڑوں پر جانا اس وقت پسند کرتے تھے جب کہیں گھوڑ دوڑ کے لیے یا کسی خوشی کے موقع میں شرکت کرنے کا مقصود ہوتا سیدنا عالی مقام کا سفر کربلا نہ گھوڑ دوڑ کا سفر تھا اور نہ ہی خوشی کے لیے گھر سے باہر سفر پر روانگی تھی ایسے میں انہوں نے اونٹوں کو اپنے سفر کے لیے ساتھ لیا گھوڑوں پر سوار نہیں ہوئے کوفہ کی طرف روانگی کے وقت اس خاندان اہلِ بیت کی سواری اونٹ تھی اس پر شیعہ سنی دونوں کی کتب سے ثبوت ملاحظہ ہو۔ 

دلائل النبوت: عَنْ أَصْبَع بْنِ بِنَا تَه عَنْ عَلِيِّ قَالَ اتيْنَا مَعَهُ مَوْضَعَ قَبَرَ الْحُسَينَ فَقَالَ ههُنَا مَتَاعُ رِكَابِهِمْ وَ مَوضَعُ رِحَالِهِمْ وَههُنَا مِحْرَاقُ دِمَاءِهِمْ فِتْيَةٌ مِنْ آلِ مُحَمَّدٍ يُقْتَلُونَ بِهَذَا العُرْصَةِ تَبْکى عَلَيْهِمُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ۔

(1۔ دلائل النبوة جلد دوم صفحہ 744، فصل التاسع والعشرون حديث صفحہ 530 مطبوعه صلب) 

(2۔ خصائص کبریٰ جلد دوم صفحہ 126 باب اخبارﷺ تقبل الحسین مطبوعه مکتبہ نوریہ رضویہ لائل پور) 

(3۔ سر الشہادتین صفحہ 31)

ترجمہ: اصبع بن بنانة سے روایت ہے وہ علی المرتضیٰ سے بیان کرتے ہیں فرمایا کہ ہم علی المرتضیٰ کے ساتھ اس جگہ آئے جہاں سیدنا حسین کی قبر ہے تو سیدنا علی المرتضیٰ نے فرمایا یہ وہ جگہ ہے جہاں ان کے اونٹ بیٹھیں گے اور ان کے کجادوں کی جگہ یہ ہے اور یہ جگہ ان کے خون گرائے جانے کی جگہ ہے آلِ محمد کے جوانوں کو اس میدان میں شہید کر دیا جائے گا ان پر آسمان و زمین روئیں گے۔

قارئین کرام! سیدنا علی المرتضیٰؓ نے واقعہ کربلا سے بہت پہلے میدانِ کربلا کے چند مقامات کی نشاندہی فرمائی ان میں سے ایک جگہ کے بارے میں فرمایا کہ یہاں شہدائے کربلا کے اونٹ بیٹھیں گے یہ خبر ان اخبار میں سے ہے جو سیدنا علی المرتضیٰؓ نے جناب رسول کریمﷺ کے بیان فرمانے کے بعد بیان فرمائیں یعنی حضورﷺ کی طرف سے سیدنا علیؓ بیان فرما رہے ہیں کہ یہ وہ مقام ہے ایک جگہ خاندان اہلِ بیت کے اونٹ بیٹھیں گے اس سے صاف ظاہر کہ خاندان اہلِ بیت میدانِ کربلا تک اونٹوں پر سوار ہو کر آیا اور اس میدان میں انہوں نے اپنے اونٹوں کو باندھا ان کے کجاوے رکھے لیکن نہ معلوم شیعہ سنی دونوں نے سیدنا عالی مقام کے اونٹ کدھر بھگا دیے اور ان کی جگہ گھوڑے لے آئے وہ کون خیرخواہ تھے کون جانثار تھے جنھوں نے اس مصیبت زدہ خاندان کو گھوڑے پیش کیے تھے؟ واقعات و حقائق اس کے گواہ ہیں کہ جن لوگوں نے سیدنا عالی مقام کی بیعت نہ کی تھی وہ تو آپؓم کے جانی دشمن تھے ہی لیکن وہ لوگ جنہوں نے بیعت کر لی تھی وہ بھی خیرخواہ نہیں تھے سیدنا عالی مقام کے مقابلہ میں آنے والوں کے بارے میں تاریخ بتاتی ہے کہ وہ حجاز یا شام سے لوگ نہیں آئے بلکہ سب کے سب کوفی لوگ تھے اور وہی کہ جنہوں نے آپؓ سے بیعت کی تھی۔

مقتل ابی مخنف فَتَكَامَلُوا تَمَانونَ أَلْفَ فَارِسٍ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ لَيس فِيهَا شَاهمي وَالاحِجَازِي(مقتل ابی مخنف: صفحہ 52) 

ترجمہ: یعنی اسی ہزار گھوڑ سوار کوفی تھے جو آپ کے مقابل تھے نہ ان میں کوئی شامی اور نہ حجاز کا رہنے والا تھا۔

صفحہ 3 از 11