شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی - ردِ رافضیت |…

شہید ابن شہید مصنفہ صائم نعت خواں فیصل آبادی

  محمد علی

صفحہ 2 از 11

خاکِ کربلا: اب اٹھو اور اپنے بھائی حسین کی صورت جی بھر کے دیکھ لو پھر قیامت تک نظر نہ آئے گی پھر فاطمہ کا لال اٹھا ؛ نانا پاک کا عمامہ سر پر باندھا ماں فاطمہ کی چادر کمر میں لپیٹی اور باپ علی کی تلوار ہاتھ میں پکڑی گھوڑے پر سوار ہونے لگے تو اس خیال نے رلا دیا۔

 شعر:

جدوں معراج نبی نوں ہو یا جبرائیل براق تھمایا 

جدوں علی ول خیبر چلیا نبی پاک نے آپ چڑھایا 

اج کوئی نہیں رہ گیا واگاں پکڑن والا جدوں وار حسین دلایا 

خیمیاں وچوں بی بی زینب نکلی اس برقعہ منہ تے پایا 

تھم رکاب گھوڑے دی آکھے ومیلے چڑھ امڑی دیا جایا۔

سیدنا پاک نے گھوڑے کا منہ میدان کی طرف کیا اور چلنے کا حکم دیا مگر گھوڑا اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں امام پاک بار بار گھوڑے کو چلاتے مگر وہ حرکت میں نہ آیا سیدنا حسین حیران رہ گئے یا اللہ یہ ماجرہ کیا ہے گھوڑا میدان کی طرف کیوں نہیں جاتا کہیں میں اس امتحان میں فیل تو نہیں ہو رہا گھوڑے نے گردن اوپر اٹھائی اور زبان حال سے اپنے سوار کو کچھ سمجھایا سیدنا مظلوم گھوڑے سے نیچے اترے دیکھا تو بیٹی سیدہ سکینہ نے گھوڑے کے پاؤں پکڑے ہوئے ہیں امام اور عرش مقام سیدنا حسین نے بیٹی کو سینے سے لگایا اور فرمایا بیٹی عون و محمد قربان ہوئے تو تم نے صبر کیا قاسم و عباس نثار ہوئے تو تم نے شکر کیا علی اکبر شہید ہوا تو تم نے فریاد نہ کی علی اصغر نے دم توڑا تو تو نے حوصلہ نہ ہارا مگر میں اب جا رہا ہوں تو تم رو رہی ہو، عرض کی ابا جان عون و محمد قربان ہوئے تو مجھے فکر نہ تھا قاسم و عباس نثار ہوئے تو مجھے کوئی غم نہ تھا اکبر و  اصغر شہید ہوئے تو مجھے کوئی پرواہ نہ تھی مگر ابا جان آپ جا رہے ہیں سکینہ یتیم ہو جائے گی بے سہارا ہو جائے گی اور بےآسرا ہو جائے گی ہائے ابا جی میرے سر پر شفقت کا ہاتھ کون پھیرے گا میں روؤں گی تو چپ کون کرائے گا مدینہ کون پہنچائے گا ہائے بابا میں روتی مر جاؤں گی ٹھوکریں کھاتی پھروں گی ابا جی آپ کے بعد مجھے بیٹی کہہ کر کون پکارے گا مجھے سینے سے کون لگائے گا اور مجھے اپنی گود میں کون بٹھائے گا؟ 

(خاکِ کربلا: صفحہ 304 تا 305 مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد)

قارئین کرام: مذکورہ واقعہ نہ کسی معتبر کتاب میں موجود ہے اور نہ ہی ایسا ہونا ممکن ہے یہ سب باتیں اور مکالمہ بازی افتخار الحسن صاحب کی اختراعی ہے اگر بنظر انصاف دیکھا جائے تو بہت سی گستاخیوں سے بھری پڑی ہے سب سے بڑی بات تو یہ کہ جب سیدنا اعلیٰ مقام نے ایسا فرمایا ہی نہیں اور زینب و سکینہ نے اس قسم کی بے صبری کا مظاہرہ نہیں کیا تو ان اعلیٰ و ارفع ہستیوں کے متعلق ایسی گھٹیا تحریر ان پر افترا باندھنے سے کم نہیں ایسی ہی عبارات سے ماتم کا جواز نکلتا ہے اور شیعہ لوگ کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو تمہارے عالم نے رونے رلانے کی باتیں سکینہ کی نقل کی ہیں سیدہ سکینہ کے بارے میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ وہ چھوٹی کم سن شہزادی تھیں۔ حالانکہ وہ شادی شدہ تھیں اور ان کے سیدنا خاوند عبداللہ بن حسن تھے اس کی تصدیق و تائید سنی شیعہ دونوں مکتبہ فکر کی کتب کرتی ہیں۔ پچھلے صفحات میں اسی کے متعلق اعلام الورای صفحہ 127 تا ریخ الائمہ صفحہ 280 کے حوالہ جات آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں ایک حوالہ اور ملاحظہ فرمائیں۔

 منتخب التواریخ: واز تاریخ ابن خلقان نقل شدہ کی وفات جناب سکینہ در مدینہ طیبہ روز پنج شنبہ پنجم ماہ ربیع المولود السن صدو ہفدہ ہجری واقع شد اتاسن اَں مخدرہ در واقعہ طن مزوّجہ بود پسر عمش عبداللہ بن الحسن کہ در کربلا شہید شد۔

(منتخب التواریخ صفحہ 244 باب پنجم در ذکر اولاد امجاد حضرت سید الشہداء)

 ترجمہ: تاریخ ابنِ خلقان سے منقول ہے کہ سیدہ سکینہ کا انتقال مدینہ منورہ میں جمعرات پانچ ربیع الاول سن 117 میں ہوا ان کی عمر ٹھیک سے معلوم نہیں لیکن واقعہ کربلا کے وقت بالغ عورتوں کی عمر تک پہنچ چکی تھیں جیسا کہ ایک شعر میں آپ کو خیرة النساء کہا گیا جو سید الشہداء سیدنا حسین کی طرف منسوب ہے اور اس پر یہ امر بھی شاہد ہیں کہ سیدہ سکینہ اپنے چچا زاد سیدنا عبداللہ بن حسن کے ساتھ ہی گئیں تھیں جو کربلا میں شہید ہوئے۔

قارئین کرام! شیعہ مؤرخ نے ایک معتبر سنی کتاب (وفیات الاعلان) جو ابنِ خلقان کے نام سے مشہور ہے ذکر کیا کہ سیدہ سکینہ واقعہ کربلا کے وقت شادی شدہ تھیں اور بچپن کی عمر سے نکل کر بالغ عورتوں کی عمر میں تھیں۔

اب ایسی عمر کی عورت کی طرف ہائے بابا مجھے اپنی گود میں بٹھا لو وغیرہ وغیرہ اخلاق سے گری ہوئی باتیں منسوب کرنا کہاں کی دانشمندی ہے ان مقدس ہستیوں کی طرف سراسر جھوٹ کی نسبت کرنا ہے جس کا حقیقت سے ہرگز کوئی تعلق نہیں لہٰذا ایسی نامعتبر کتب کے مندرجات ہم اہلِ سنت انہیں کوئی وقعت نہیں دیتے۔

 فاعتبر وایااولی الابصار

تردید ثانی: سیدنا حسینؓ نے مدینہ منورہ سے کربلا تک اونٹنی پر سفر کیا

صفحہ 2 از 11